أردوغان كعادته يتحدث ولا يفعل!
أردوغان كعادته يتحدث ولا يفعل!

الخبر: تحدّث الرئيس أردوغان إلى الاتحاد الأوروبي قائلا: "أنتم لا تحافظون على وعودكم وهذه جوانب قذرة فيكم. ونحن بإمكاننا أن نذهب إلى إجراء استفتاء حول مفاوضات الاتحاد الأوروبي". (المصدر: وكالات الأنباء)  

0:00 0:00
Speed:
November 24, 2016

أردوغان كعادته يتحدث ولا يفعل!

أردوغان كعادته يتحدث ولا يفعل!

(مترجم)

الخبر:

تحدّث الرئيس أردوغان إلى الاتحاد الأوروبي قائلا: "أنتم لا تحافظون على وعودكم وهذه جوانب قذرة فيكم. ونحن بإمكاننا أن نذهب إلى إجراء استفتاء حول مفاوضات الاتحاد الأوروبي". (المصدر: وكالات الأنباء)

التعليق:

قال مارتن شولتز، رئيس البرلمان الأوروبي بأن عقوبة الإعدام هي خط أحمر بالنسبة لهم وبالتالي فإنها ستكون بمثابة نهاية محادثات العضوية لتركيا وذلك كون الأخيرة قد أعادت إقرار عقوبة الإعدام. كما انتقد شولتز الموقف تجاه المعارضة والصحفيين وأعاد تقديم خيار العقوبات الاقتصادية على أجندة الاتحاد. وقد صرح قائلاً "نحن كاتحاد أوروبي يتعين علينا إعادة النظر في اعتماد أمور كالعقوبات الاقتصادية إذا ما استمر الوضع في تركيا على هذه الحال، إن الاتحاد الجمركي الذي تُعتبر تركيا عضوًا فيه لا بد من إصلاحه حتى نهاية هذا العام. لا أستطيع تخيل فكرة توسعة الاتحاد الجمركي فيما يستمر اعتقال البرلمانيين المعارضين والصحفيين".

وقد رد أردوغان على ذلك قائلا "لقد وعدتم تركيا بالحصول على عضوية رسميًا عام 1963. ولا تزالون تماطلون. لماذا تتلكؤون؟ اسمحوا لي أن أقول لك يا أوروبا، أنتم لا تريدوننا لأن الغالبية العظمى من سكان البلاد مسلمون. قولوا لنا ذلك علنًا. نحن عرفنا ذلك لكننا حاولنا أن نظهر نيتنا الصادقة. أنتم من انتهجتم التمييز ضدنا. أما الآن فقد أصبحت المشكلة في مكان آخر مختلف. إذا لم يف الاتحاد الأوروبي بوعوده وإذا ما أدار وجهه عنا بسبب منظمة إرهابية، فإننا سنشرح ذلك لشعبنا. وسوف نسألهم عن رغبتهم في مواصلة المفاوضات مع الاتحاد الأوروبي؟".

إذا ما كان أردوغان جادًا في كلامه فإن عليه أن يتحرك فورًا وفقًا لهذه الكلمات التي قالها. كما قال صاحب رسول الله r سعيد بن عمير لعمر بن الخطاب رضي الله عنهما ذات مرة "... فإن خير القول ما صدقه الفعل". ولا قيمة للكلمة عند الناس وعند الله إلاّ إن صدقها العمل. ونحن بصفتنا مسلمين مسؤولون عن كل كلمة نقولها، وإذا لم يصدق القول الفعل فإن هذا يُعد إثمًا يودي بصاحبه إلى النار. وفي هذا السياق فإن كلمات أردوغان هذه ضد الاتحاد الأوروبي لا تعني ذلك الشيء الكثير، بل قد أصبح طابع التذمر هذا الذي يظهر به أردوغان سمة تميزه. وقد رأينا أمثلة على ذلك حديثًا وفيما مضى؛ فموقفه من "كيان يهود" وعلاقته بروسيا وخيانته لمسلمي سوريا... ومثل ذلك ما فعله أردوغان هذه المرة من مهاجمة الاتحاد الأوروبي ومن ثم تحدّثه عن العمل معه ضد (الإرهاب). إن الرئيس أردوغان يتحدث باستمرار، لكنه لا يفعل شيئا. وسيظهر قريبًا إن شاء الله رجال رجال يعلمون أوروبا حدودها.

ويمكن تفسير هذا التوتر بين تركيا والاتحاد الأوروبي على النحو التالي. ولكن أولاً وقبل كل شيء أجد من المفيد أن أذكر هذه الأمور التي يظهر فيها الإشكال:

  1. وصل التفاوض بين تركيا والاتحاد الأوروبي في حل مشكلة الهجرة إلى طريق مسدود.
  2. بعد محاولة الانقلاب في 15 تموز/يوليو انتقد أردوغان موقف الاتحاد الأوروبي بدعوى أنه لم يقف إلى جانب أردوغان ضد الانقلاب فضلاً عن أنه كان يدعم الانقلاب ابتداء.
  3. ردة فعل الحكومة وأردوغان بخاصة على الإيضاحات الداعمة للمنظمات الإرهابية كحزب العمال الكردستاني ووحدات حماية الشعب التي قدمتها دول الاتحاد الأوروبي.
  4. انتقادات الاتحاد الأوروبي لتركيا بسبب الصحفيين المعتقلين.
  5. القبض على بعض البرلمانيين من حزب الشعوب الديمقراطي وإرسالهم للسجن، وفي المقابل قاطعت بعض السفارات الأوروبية في تركيا هذه الاعتقالات وشاركت في اجتماع جماعة من هذا الحزب.
  6. مطالبة حكومة أردوغان بعودة عقوبة الإعدام وردود فعل الاتحاد الأوروبي في هذا الصدد.
  7. وخاصةً ردود فعل أوروبا على مناقشات النظام الرئاسي التي وضعت على الأجندة.

هذه هي القضايا الجدلية باختصار. وبخاصة في هذه الأيام التي يناقش فيها النظام الرئاسي لأردوغان ما لديه من أسباب للتصرف سياسيًا ضد أوروبا. إن عودة النظام السياسي لأردوغان وانتقادات أوروبا اللاذعة تجاه تركيا أمران متوازيان. فكرة تغيير النظام في تركيا أدت إلى اضطراب بريطانيا على وجه الخصوص. وهذا يقود إلى احتمال وقوف بريطانيا وراء هذا كله. وبعبارة أخرى، فإن بريطانيا تريد استفزاز الاتحاد الأوروبي وتحريضه على تركيا عبر مثل هذه القضايا. ومن ناحية أخرى فإن أردوغان قادر تمامًا على توجيه الرأي العام. وهو يعرف كيف يقود المجتمع. وإذا ما حصل النظام الرئاسي على 330 صوتًا في البرلمان وهذا أمر ضروري لإجراء الاستفتاء، فإنه بحاجة إلى تأييد الناس ليمرر النظام الرئاسي من خلال الاستفتاء، ويحتاج إلى أصوات القوميين منهم بخاصة. هذا هو السبب وراء عودة سياسة الدولة الأمنية التي كانت في الثمانينات ضد حزب العمال الكردستاني. وهذا هو السبب أيضا وراء ذكر أردوغان والحكومة الحاكمة لعقوبة الإعدام كمناورة من أجل تحقيق هذه السياسة. وهو كذلك سبب الجدل السياسي الحالي مع الاتحاد الأوروبي.

وهكذا، فإن الكلمات التي قالها أردوغان فترة توليه منصب رئيس الوزراء، وخلال فترة رئاسته بعيدة كل البعد عن الصدق.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيليك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست