أردوغان يتحدث بكلمة حق عن الربا ويقصد بها الباطل
أردوغان يتحدث بكلمة حق عن الربا ويقصد بها الباطل

الخبر:   تخفيض قيمة الليرة التركية.

0:00 0:00
Speed:
December 28, 2021

أردوغان يتحدث بكلمة حق عن الربا ويقصد بها الباطل

أردوغان يتحدث بكلمة حق عن الربا ويقصد بها الباطل

(مترجم)

الخبر:

تخفيض قيمة الليرة التركية.

التعليق:

تراجعت الليرة التركية، بشكل حاد في الربع الأخير من هذا العام، من 8.86 ليرة تركية مقابل دولار واحد في تشرين الأول/أكتوبر إلى 16,42 ليرة مقابل دولار أمريكي واحد. لذلك، فقدت الليرة التركية ما يقرب من ضعف قيمتها مقابل الدولار الأمريكي وذلك في غضون شهرين. ويعود السبب الرئيسي لانخفاض قيمتها إلى ارتفاع الديون الخارجية وعوائدها الربوية التي لا تستطيع تركيا سدادها في الوقت المحدد. وأعلنت وزارة المالية التركية، في آذار/مارس ، أن الدين الرئيسي 262.1 مليار دولار، لكنه وصل إلى 448.4 مليار دولار بسبب الربا ورسوم الضمانات على الديون. وهذه زيادة تقارب ضعف الدين. إلى جانب ذلك، بلغت الديون المستعجلة التي يتعين على تركيا سدادها في عام واحد فقط 168.7 مليار دولار. حتى الآن تركيا غير قادرة على سداد الديون المستعجلة بالعملة الأجنبية. سيتم تضمين هذا العجز هيكلياً في عمليات السداد القادمة والتي ستجر تركيا إلى أزمة ديون متنامية باستمرار. وقد أدى هذا من بين عوامل أخرى إلى انعدام الثقة في الليرة التركية ما أدى إلى استثمار العملات الأجنبية بدلاً منها، ما زاد من انخفاض قيمتها.

لكن أردوغان ادعى أن سبب تخفيض قيمة العملة يعود إلى تلاعب القوى الأجنبية في السوق المالية وأن تركيا في خضم "حرب الاستقلال الاقتصادية". ورفض زيادة سعر الربا من أجل خفض التضخم الذي يتعارض مع النظرية الاقتصادية الرأسمالية الأساسية التي يطبقها، وقال: "لن نسحق أمتنا من أجل الربا"، وصرح أنه لن ينسجم مع من يدعم الربا. وقال أيضاً: "هذه المسألة ليست عادية، فما بالك بأصدقائنا أن يصبحوا مدافعين عن الربا. ما دمت في المنصب، أنا آسف، سأواصل كفاحي ضد الربا حتى النهاية، ومعركتي ضد التضخم حتى النهاية". حتى إنه دعم ذلك بأحكام الإسلام وقال: "ما هذا؟ نحن نخفض أسعار الربا. لا تتوقع مني شيئاً آخر". "بصفتي مسلماً، سأستمر في فعل ما يطلبه النص (في إشارة إلى حظر الاهتمام بالنصوص الإسلامية)".

تعافت الليرة التركية هذا الأسبوع قليلاً بعد الوعود التي قطعها أردوغان بأنه سيعوض مدخرات الناس عن تقلبات العملة. وعزز هذا إلى حد ما ثقة الناس في الليرة التركية وبدأوا في استبدال الليرة التركية بالدولار. هذا يعني أن الناس لديهم الحافز للانخراط في المدخرات القائمة على الربا ولكن بشرط أن تكون على أساس الليرة التركية فقط! ستعمل الدولة بعد ذلك كضامن للعجز الناجم عن تقلبات العملة. لذا، فإن هذا يعني فعلياً أن الشخص أو الشركة التي لديها مليون ليرة تركية في حساب التوفير الخاص به سيحصل على مليوني ليرة تركية بعد عام إذا أصبح الدولار أقوى بمرتين مقابل الليرة في عام واحد. بعبارة أخرى: ستدفع الدولة المزيد من الربا.

فأين "النص" الذي يتحدث عنه أردوغان الآن؟! هل تحريم الإسلام للربا يسري على الدولار الأمريكي فقط ولا يسري على الليرة التركية؟! على مدار العشرين عاماً الماضية، كان المجتمع متحمساً للانغماس في القروض القائمة على الربا من خلال البنوك الحكومية والقروض التي ترعاها الدولة حيث تم السماح بجميع أنواع المعاملات التي تحمل الربا طوال فترة حكمه. غالبية المجتمع التركي مدينون بربا ولديهم الحافز للاستمرار طالما أنهم يستثمرون بالليرة. وهذا يجعل موقفه المناهض للربا وظهوره خلال السنوات الأخيرة غير موثوق به للغاية. على الأرجح، يستخدم هذا كذريعة مغطاة لإلقاء اللوم على الحالة الاقتصادية السيئة والتهرب من مسؤولياته. حتى الآن فيما يتعلق بالنص المتعلق بالربا. أين النص الآخر لتنظيم المجتمع؟ أولم يأت النص لتنظيمه؟ مثل النص المتعلق بالخمور، والدعارة، وقواعد اللباس، وتنظيم الجنس، والتعليم، والتمويل، والعلاقات مع الدول الأخرى، والحكم، إلخ...

لذا، فإن خطة العمل القائمة على الربا، حيث تعمل الدولة كضامن للعجز الناجم عن تقلبات العملة، لا تتعارض مع أحكام الإسلام فحسب، بل هي أيضاً حل خاطئ سيبقي النظام الفاسد على قيد الحياة. لأنه من أجل تنفيذ خطة التعويضات النقدية هذه، تحتاج الدولة إلى أموال لا تملكها. إنها ليست قادرة حتى على سداد ربا ديونها، فكيف ستتحمل التعويض بسبب تقلبات العملة؟! وهذا يعني أن الدولة ستأخذ المزيد من القروض الربوية وتزيد من ديونها الخارجية، في حين إن هذه الديون القائمة على الربا كانت السبب الأول لأزماتها المالية. كما أنها لن تكون قادرة على سدادها، الأمر الذي سيخلق سلسلة دائمة من الديون وفرصة للقوى الاستعمارية لتعزيز هيمنتها بشكل أكبر.

إن الحل الوحيد لأزمات العملة في تركيا ليس المزيد من الرأسمالية أو المزيد من الديمقراطية بل إقامة الإسلام ودولة الخلافة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أوكاي بالا

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست