أردوغان يزور أوكرانيا لمصلحة أمريكا التي تفتك بمسلمي سوريا
أردوغان يزور أوكرانيا لمصلحة أمريكا التي تفتك بمسلمي سوريا

الخبر:   نفذت الولايات المتحدة الأمريكية صباحا عملية عسكرية بمساعدة مروحية على الحدود التركية. وحطت طائرة مروحية أقلعت منتصف الليل في مطار عتمة على الحدود السورية التركية. وأفادت الأنباء أن ما لا يقل عن 12 شخصا لقوا مصرعهم في اشتباكات مع مجموعات مرتبطة بالقاعدة. (آخر دقيقة، 03/02/2022) ...

0:00 0:00
Speed:
February 08, 2022

أردوغان يزور أوكرانيا لمصلحة أمريكا التي تفتك بمسلمي سوريا

أردوغان يزور أوكرانيا لمصلحة أمريكا التي تفتك بمسلمي سوريا

الخبر:

نفذت الولايات المتحدة الأمريكية صباحا عملية عسكرية بمساعدة مروحية على الحدود التركية. وحطت طائرة مروحية أقلعت منتصف الليل في مطار عتمة على الحدود السورية التركية. وأفادت الأنباء أن ما لا يقل عن 12 شخصا لقوا مصرعهم في اشتباكات مع مجموعات مرتبطة بالقاعدة. (آخر دقيقة، 2022/02/03)

التعليق:

أفاد المرصد السوري لحقوق الإنسان ومقره لندن أن طائرات حربية من طراز F-16 ظهرت في سماء إدلب وحلب. وقال أحد سكان عتمة إن العديد من الأشخاص لقوا حتفهم، بينما قال آخر إنه رأى 12 جثة على الأقل تحت أنقاض المبنى متعدد الطوابق. يذكر أن من بين الجثث نساء وأطفالاً.

أمريكا هي أكبر دولة إرهابية وشريرة في العالم. فبحجة الإرهاب تقتل المسلمين الأبرياء بلا رحمة، كما قتلت الهنود الحمر وأبادتهم عن بكرة أبيهم في طول البلاد وعرضها فضلا عن الأطفال والنساء المسنات، إن أمريكا دولة كافرة، وبالتالي فهي معادية للإسلام والمسلمين. لهذا السبب فإنها تقتل المسلمين في البلاد الإسلامية بوحشية بحجة أنهم إرهابيون.

إن تركيا، التي توفر قاعدة عسكرية لأمريكا وتتعاون معها وتقوم بزيارات إلى دول أخرى - مثل أوكرانيا - لتحقيق مصالحها وتشن حروبا بالوكالة نيابة عنها، لهي مجرمة في حق المسلمين مثلها تماما. لأن من يعين المجرم فإنه مذنب مثله سواء بسواء. ويبدو أن الطائرات والمروحيات الأمريكية القاتلة، التي قتلت أبرياء، قد أقلعت من قاعدة إنجرليك الجوية في أضنة. حتى ولو لم تقلع من هناك فإن أمريكا قد استخدمت المجال الجوي التركي، علاوة على ذلك فإن أمريكا، التي تلقت معلومات استخباراتية عن عملية البغدادي من تركيا قبل عامين، ربما تلقت هذه المرة أيضا معلومات استخباراتية عن هذه العملية من تركيا أردوغان.

لهذا السبب فإن كل ذلك يدل على أن تركيا مذنبة مثل أمريكا المارقة في هذه العملية. وإلا لما أقدمت أمريكا على القيام بمثل هذه العملية لو لم يكن هناك اتفاق بينها وبين تركيا تقوم تركيا من خلاله بالتعاون معها أو تلزم الصمت أو تقوم بتوجيه ضربات جوية ضد قوات سوريا الديمقراطية في سوريا وحزب العمال الكردستاني في العراق.

إن قيام تركيا بعملية عسكرية ضد معسكرات التدريب والملاجئ التابعة لوحدات حماية الشعب وحزب العمال الكردستاني في شمالي العراق وسوريا تحت اسم عملية نسر الشتاء قبل يوم واحد من إعلان أمريكا قيامها بهذه العملية الإجرامية لهو دليل واضح على وجود اتفاق بين الطرفين.

وفي تصريح له للتستر على مقتل المسلمين الاثني عشر الأبرياء هؤلاء أعلن رئيس الولايات المتحدة عن مقتل زعيم تنظيم الدولة. حتى لو قُتل زعيم تنظيم الدولة فإن هذا لا يعطي الحق لأمريكا القيام بعمليات عسكرية على أراضينا وقتل 12 مدنيا مسلما بريئا. وإذا كان هناك من تجب معاقبته فنحن المسلمين أَوْلى بالقيام بذلك وليس أمريكا المارقة بلد التكساس.

إن السبب الوحيد الذي يفسر لنا عدم قدرتنا على قتل شخص أمريكي على أراضيه نعتبره نحن "مجرما وإرهابيا" وكذلك عدم قدرتنا على معاقبة أمريكا التي تقوم بتزويد الجماعات الإرهابية بالأسلحة الفتاكة ودعمها على أراضينا هو هؤلاء الحكام الخونة الذين صمتوا صمت القبور، بينما أمريكا بلا رحمة وبمساعدة ودعم من الحكام الخونة قتل من تعتبرهم هي "مجرمين وإرهابيين" على أراضينا فضلا عن أطفالهم ونسائهم وأُسَرِهم.

إن السبب الوحيد في قدرة أمريكا اليوم على قتل المسلمين بشكل بشع أينما ومتى تشاء هو غياب الدولة الإسلامية التي تحميهم وترعى شؤونهم، فلو كان للمسلمين راع - دولة الخلافة الإسلامية - يرعى القطيع ويحميه من الذئاب لما تجرأت أمريكا الكافرة - الذئب - ولما تجرأت أيضا بقية الدول الكافرة الوحشية على قتل المسلمين. وكما هو معلوم فإن الذئب يأكل من الغنم القاصية التي لا راعي لها، وبعبارة أخرى فإن العدو يسحق الفرد والمجتمع الذي لا يحتمي بحاكم أو ليس له حاكم (الخلافة - الخليفة) ويسقط بسهولة تحت سيطرة الأعداء. للأسف الشديد فإن هذا هو وضعنا اليوم، إنه وضع مؤلم.

إن السبيل الوحيد للخروج من هذا الوضع المؤلم هو إقامة الخلافة راعينا وحامينا، لذلك يجب على المسلمين جميعا التركيز على إقامة الخلافة والعمل من أجلها بلا كلل ولا ملل. قال عليه الصلاة والسلام: «إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» رواه مسلم

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أرجان تكين باش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست