ارتفاع البنوك الغذائية وإهدار الطعام
ارتفاع البنوك الغذائية وإهدار الطعام

هنالك ما لا يقل عن 2000 بنك للطعام يعمل في بريطانيا، حيث يقوم بإعطاء الطرود الغذائية الطارئة بشكل أسبوعي للناس المحتاجة، وفقاً للبحث الذي يسلط ضوءاً جديداً على النمو السريع للمؤن الغذائية الخيرية في بريطانيا التقشفية. (صحيفة إنديبندت 30 أيار/ مايو 2017)

0:00 0:00
Speed:
June 02, 2017

ارتفاع البنوك الغذائية وإهدار الطعام

ارتفاع البنوك الغذائية وإهدار الطعام

(مترجم)

الخبر:

هنالك ما لا يقل عن 2000 بنك للطعام يعمل في بريطانيا، حيث يقوم بإعطاء الطرود الغذائية الطارئة بشكل أسبوعي للناس المحتاجة، وفقاً للبحث الذي يسلط ضوءاً جديداً على النمو السريع للمؤن الغذائية الخيرية في بريطانيا التقشفية. (صحيفة إنديبندت 30 أيار/ مايو 2017)

التعليق:

يسلط تقرير في صحيفة "إنديبندت" الضوء على نمو بنوك الطعام في جميع أنحاء بريطانيا، مع المزيد والمزيد من العائلات التي تواجه صعوبة مع خفض وتقليص العديد من الخدمات والفوائد. هذا من ناحية، أما من ناحية أخرى، فوفقاً لصحيفة "إنديبندت" فقد ذكرت في وقت سابق من هذا الشهر، أن النفايات الغذائية آخذة في الارتفاع أيضاً.

كما شهد إنتاج الغذاء ارتفاعاً بسبب أساليب الزراعة الجديدة، فمن المثير للقلق معرفة أن الفواكه والخضار التي هي صالحة للأكل تماماً تترك لتتعفن في الحقول أو في نهاية المطاف في مدافن القمامة.

"إنه ببساطة أمر سخيف وغير معقول أن أكثر من ثمانية ملايين شخص في بريطانيا يعيشون في فقر غذائي، ومع ذلك فهنالك كميات كبيرة من الطعام الجيد تماماً تذهب إلى النفايات"، هذا ما قاله ليندساي بوزويل وهو الرئيس التنفيذي لجمعية فارشير (وهي أكبر جمعية خيرية لإعادة التوزيع في بريطانيا). وأضاف: "ينص هرم النفايات الغذائية على أن أي طعام يؤكل بأمان من قبل البشر يجب عدم التفريط به، ولكن هذا ببساطة لا يحدث".

كما وأثنى التقرير أيضاً على الأسواق التجارية حيث إنه وفي خلال السنوات الثلاث الماضية قد تضاعفت كمية الغذاء الفائض والذي يرسل لإطعام المحتاجين. على الرغم من أن هذه الكمية الكبيرة من الطعام لا يزال يتم التخلص منها.

وفي كانون الثاني/يناير 2017، أفادت صحيفة "إنديبندت" أن متوسط قيمة الغذاء الذي يهدر من قبل أسرة في بريطانيا يعادل 470 جنيهاً إسترلينياً. وبصورة صادمة ومروعة، يذهب 13 مليار جنيه إسترليني من الطعام كل عام إلى سلة المهملات، بينما في الحقيقة يكون صالحاً للأكل.

فبينما بعض الناس غير قادرين على إطعام أنفسهم، يجري في الوقت ذاته إهدار الطعام من قبل كل من المتاجر والأسر. إنه أمر غير معقول، ولكن هذه هي حقيقة الرأسمالية. إن انسياب الرأسمالية والذي يقول بأن الثروة تنتقل ممن "يملكون" إلى من "لا يملكون" هو مغالطة كبيرة.

يرتفع الإنتاج الكبير للسلع لتلبية الشهية النهمة مع عدم المساءلة أو تحقيق الاحتياجات والرغبات بشكل أكبر مما هو حق وثابت. ومع ازدياد الزراعة واستخدام الأراضي والأسمدة ومبيدات الآفات التي تؤجل خراب وفساد الأطعمة، ومع ذلك يتم إهدار الطعام.

إن وجهة نظر الإسلام بسيطة جداً وذات فعالية أكبر، حيث يدار الاقتصاد بهدف التوزيع، ولجميع الرعايا الحق في الغذاء الأساسي دون تمييز. إنه من المستحيل إنقاذ الناس من خلال الأعمال الخيرية وكرم أصحاب الأسواق التجارية الذين يتبرعون بالطعام. حيث يبدو أن الأشخاص المحتاجين يتزايد عددهم على الرغم من زيادة البنوك الغذائية وتجار الأسواق التجارية الذين يتبرعون بالطعام للمحتاجين.

إن حل هذه المشكلة يتطلب إجراء إصلاح كامل للنظام الذي يسمح بهذه الممارسات ولا يخلق لدى الأفراد شعوراً بالمساءلة عند إنتاج الطعام أو إهداره. إن الطعام والماء وجميع نعم الله سبحانه وتعالى لا يجوز إهدارها بتاتاً. والتطبيق الصحيح للإسلام هو فقط من سيعلم الرعية والمزارعين تحمل المسؤولية. وهو أيضاً سيدفع الحكومة إلى تبني سياسات تحول دون إذلال عامة الناس وضعفهم. إن السياسات العامة للرأسمالية هي التي تؤدي إلى الفقر، بينما كان هنالك في السابق الازدهار والتطور، إنه النظام نفسه الذي جلب الدمار والفساد للعالم الإسلامي والدول النامية، حيث يتم إنتاج الغذاء لتلبية احتياجات عدد قليل من الناس، بينما الغالبية غير قادرة على توفير احتياجاتها الأساسية.

ليس هنالك مكان آمن من براثن الرأسمالية الفاسدة التي تجر إلى البؤس والفقر والجوع، في حين يتم إلقاء الطعام الجيد للتعفن والتحلل!

لقد حذرنا الله سبحانه وتعالى في سورة طه، حيث قال: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً﴾.

إن العالم أجمع بحاجة للإنقاذ من خلال إقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة. هذه الدولة التي تضمن الرخاء للجميع، كما ستزرع وستعظم احترام نعمة الله سبحانه وتعالى.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نادية رحمان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست