ارتفاع الدولار مقابل الليرة التركية
ارتفاع الدولار مقابل الليرة التركية

الخبر: بعد قرار بورصة اسطنبول، قرر أيضاً صندوق التأمينات وودائع الادخار تنفيذ معاملاته بالليرة التركية. وأفاد صندوق التأمينات وودائع الادخار بأنه من الآن فصاعداً لن يستخدم العملة الأجنبية في عمليات البيع، وفي تحصيل المستحقات، وبأنه سيقوم بتنفيذ المعاملات بالليرة التركية. [المصدر: 2016/12/03 Son Dakika]

0:00 0:00
Speed:
December 05, 2016

ارتفاع الدولار مقابل الليرة التركية

ارتفاع الدولار مقابل الليرة التركية

الخبر:

بعد قرار بورصة اسطنبول، قرر أيضاً صندوق التأمينات وودائع الادخار تنفيذ معاملاته بالليرة التركية. وأفاد صندوق التأمينات وودائع الادخار بأنه من الآن فصاعداً لن يستخدم العملة الأجنبية في عمليات البيع، وفي تحصيل المستحقات، وبأنه سيقوم بتنفيذ المعاملات بالليرة التركية. [المصدر: 2016/12/03 Son Dakika]

التعليق:

ارتفع الدولار بسرعة عقب فوز المرشح الجمهوري دونالد ترامب في الانتخابات. وأصبحت الليرة التركية من أكثر العملات التي انخفضت قيمتها مقابل الدولار بعد البيزو المكسيكي. وفي مقابل هذه الحالة، اتخذت الحكومة إجراءات مختلفة ليست بذات أهمية من أجل تحفيز الليرة التركية. وشجعت على استخدام الليرة التركية في المناقصات العامة، وفي مراكز التسوق واستئجار المكاتب، وفي العمليات التجارية مع روسيا والصين، وفي تحصيلات صندوق التأمينات وودائع الادخار.

ولكون هذه التدابير غير كافية، رفع البنك المركزي معدل الفائدة بشكل تدريجي من 8 في المائة إلى 8,5 بالمائة، بزيادة نصف نقطة مئوية على الشريط العلوي. ولكن عندما لم تستطع الفائدة، العصا السحرية للنظام الرأسمالي، أن تخفض الارتفاع الجنوني للدولار، ظهر السياسيون في الواجهة، وعقدوا الاجتماعات تلو الأخرى، وأدلوا بتصريحات مختلفة بهدف تخفيض حمّى الدولار. وفي احتفال تم افتتاحه في أنقرة قال أردوغان إنه يجب على من يملك عملة أجنبية أن يحولها إلى ذهب. وعقد مجلس الوزراء برئاسة رئيس الوزراء يلدريم اجتماعاً طارئاً بأجندة اقتصادية. ولكن كلاً من الاجتماع الذي تم عقده، والتصريحات السياسية، والتدابير التي اتخذت لم تكن كافية في تخفيض حدة ارتفاع الدولار.

وعندما لم يكن ذلك مفيداً، تم إطلاق حملتي "تخلى عن الدولار واحمِ تركيا" و"أوقف العملة الأجنبية، أوقف اللعبة" من خلال البدء بتعبئة شعبية في وسائل التواصل الإلكتروني داخل البلاد وخارجها. وعرضوا ميزات وفرصاً كبيرة على الناس الذين يحضرون إيصالاً يبين أنهم قد أوقفوا تعاملاتهم بالدولار.

أي باختصار، تم تعبئة كل طبقات المجتمع بهدف تخفيض حدة ارتفاع الدولار. ولكن هذه التعبئة لم تنجح في خفض حمّى الدولار. وإذا انخفضت، تكون هذه الإجراءات عبارة عن خافضات حرارة مؤقتة وغير فعالة. حيث إن خفض الحرارة يكون بعلاج المرض الذي سبب ارتفاع الحرارة، وليس بإعطاء خافضات حرارة مؤقتة.

لذلك، ما هو المرض الحقيقي، وما هو العلاج الحاسم لهذا المرض، الإجابة على هذا السؤال هي كالتالي: نعم، قد تكون عوامل داخلية مثل تعديل الدستور، و(الإرهاب)، وحالة الطوارئ، قد سببت تقلبات في الأصول المالية التركية. ولكن، هذه العوامل ليست هي العناصر التي تسببت بمرض انخفاض قيمة الليرة التركية. لأننا شهدنا فيما مضى أيضاً انخفاض قيمة الليرة التركية بدون وجود هذه العناصر المذكورة أعلاه. فعلى سبيل المثال، وعلى الرغم من أن هذه العناصر لم تكن موجودة قبل سنتين تقريباً، على الأقل ليست بنفس وتيرتها السريعة كما هو الحال عليه اليوم، ولكن جميعنا أيضاً نعلم أن الليرة التركية تنخفض قيمتها من وقتٍ لآخر. إن انتخاب دونالد ترامب كرئيس للولايات المتحدة الأمريكية في 8 تشرين الثاني/نوفمبر، وتمهيد الطريق للسياسات المتشددة، ومخاطر التوتر بين تركيا ودول الاتحاد الأوروبي، والعوامل الإقليمية، وما سيقوم به البنك الاحتياطي الفيدرالي في شهر كانون الأول/ديسمبر من رفع لمعدل الفائدة بنسبة 80-90 بالمائة، كل ذلك بالتأكيد قد أشعل فتيل انخفاض قيمة الليرة التركية. ولكن، هذا أيضاً ليس هو السبب الحقيقي للمرض.

إذاً ما هو السبب الحقيقي لمرض انخفاض القيمة؟ إن العلة أو الميكروب الذي سبب هذا المرض هو السياسة المالية والنظام المالي. في أيامنا هذه، لا يوجد لدى جميع الدول الرأسمالية وعلى رأسها الولايات المتحدة الأمريكية القدرة لتحويل أوراقها النقدية إلى ذهب. حيث يتم تطبيق نظام الأوراق المالية بشكل كامل. ولا يوجد لديهم ذهب مقابل العملة الورقية. وقامت أمريكا بإلغاء تحويل الدولار إلى ذهب في عام 1971، بهدف جعل الدولار عملة عالمية، وبالتالي بهذه الطريقة تستحوذ على الأسواق المالية العالمية وتفرض سيطرتها على العالم. وبعد ذلك التاريخ، أصبح قدَر العملات العالمية واقعا بين كماشتي رئيسي الولايات المتحدة الأمريكية والبنك الاحتياطي الفيدرالي. فإذا سعل الرئيس الأمريكي، أو عطس البنك الاحتياطي الفيدرالي، مرضت جميع الأسواق العالمية!!

لذلك، فإن المرض هو عبارة عن سياسة مالية. وما لم يتم علاج هذا المرض بشكل حاسم، فسيعود المرض من وقت لآخر لأن تأثير الأدوية لم يكن كافياً للتخلص من هذا المرض. إن الأدوية التي تعالج بها الحكومة التركية هذا المرض، هي أدوية لا تقضي على الميكروب بشكل كامل ولا تعالج المرض بشكل حاسم.

لهذا السبب، إذا بدأ المرض فما هو علاجه. بمعنى أنه من الممكن تجنب هذا الانخفاض في العملات إذا كان هناك ذهب مقابل العملات الورقية، تماماً كما كان الحال قبل عام 1971. إن النظام المالي الذي يعتمد على الذهب والفضة، سيجعل سعر صرف العملة الأجنبية بين العملات المختلفة للدول مستقراً. لذلك فإن العلاج الوحيد لمرض الانخفاض الكبير في الليرة التركية هو السياسة المالية التي تستند إلى الذهب والفضة. بعبارة أخرى، السياسة المالية والنقدية الإسلامية. إن السياسات المالية والنقدية للإسلام ستجعل العملات مستقرة، وسعر صرف العملة الأجنبية ثابتاً. وهي الضامن للاستقرار المالي والنقدي وحجر الأساس له في جميع أنحاء العالم بما فيها تركيا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إرجان تكينباش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست