أرواح المسلمين هي العزيزة علينا
أرواح المسلمين هي العزيزة علينا

كشفت الخارجية الأمريكية في تقرير لها أن إيران أنفقت خلال الثمانية أعوام الماضية أكثر من 18 مليار دولار لدعم (الإرهاب) في العراق وسوريا واليمن. وأكد التقرير الذي أعدته مجموعة العمل الخاصة بإيران في الخارجية الأمريكية أن نظام طهران، ومن خلال فيلق القدس، نقل هذه الأموال بطرق ملتوية إلى المليشيات والجماعات التي تقاتل نيابة عنه في دول المنطقة. كما أشار التقرير إلى استمرار إيواء إيران لأعضاء تنظيم القاعدة وتأمين الإقامة والمرور لهم، ما مكن التنظيم من نقل المقاتلين والأموال إلى سوريا ومناطق في جنوب آسيا. وكانت إيران قد أقرت بإنفاق المليارات في سوريا، فضلاً عن التضحية بآلاف الجنود من أجل حفظ نظام بشار الأسد، حيث قال يحيى رحيم صفوي، المستشار العسكري الأعلى للمرشد الإيراني، علي خامنئي، إن بلاده تحاول تعويض هذه الخسائر من خلال عائدات النفط والغاز والفوسفات في سوريا. (الحدث نت)

0:00 0:00
Speed:
October 11, 2018

أرواح المسلمين هي العزيزة علينا

أرواح المسلمين هي العزيزة علينا

الخبر:

كشفت الخارجية الأمريكية في تقرير لها أن إيران أنفقت خلال الثمانية أعوام الماضية أكثر من 18 مليار دولار لدعم (الإرهاب) في العراق وسوريا واليمن. وأكد التقرير الذي أعدته مجموعة العمل الخاصة بإيران في الخارجية الأمريكية أن نظام طهران، ومن خلال فيلق القدس، نقل هذه الأموال بطرق ملتوية إلى المليشيات والجماعات التي تقاتل نيابة عنه في دول المنطقة. كما أشار التقرير إلى استمرار إيواء إيران لأعضاء تنظيم القاعدة وتأمين الإقامة والمرور لهم، ما مكن التنظيم من نقل المقاتلين والأموال إلى سوريا ومناطق في جنوب آسيا. وكانت إيران قد أقرت بإنفاق المليارات في سوريا، فضلاً عن التضحية بآلاف الجنود من أجل حفظ نظام بشار الأسد، حيث قال يحيى رحيم صفوي، المستشار العسكري الأعلى للمرشد الإيراني، علي خامنئي، إن بلاده تحاول تعويض هذه الخسائر من خلال عائدات النفط والغاز والفوسفات في سوريا. (الحدث نت)

التعليق:

لا يضيف هذا الخبر لنا جديدا، فمن المعلوم عند الجميع أن النظام الإيراني ومنذ إنشائه على أيدي المخابرات الأمريكية التي تولت أمر تربيته ورعايته بعناية فائقة وهو يتفانى في خدمة سيدته أمريكا وتنفيذ سياساتها في المنطقة، بل إنه يجد ويجتهد في تنفيذ أجنداتها بكافة الوسائل والأساليب الخبيثة. فبالعودة إلى أيام خامنئي الأولى في الحكم نجد كيف أن هذا النظام حرص على تطبيق وتنفيذ السياسات الأمريكية في المنطقة كلما أرادت أمريكا ذلك؛ فعندما أرادت أمريكا محاربة الاتحاد السوفياتي، فتحت إيران أراضيها بصدر رحب من أجل تمكين أمريكا من هدفها، بل وكانت تدعمها لوجستيا وعسكريا إن لزم الأمر في بعض الأحيان، حتى نجحت في تحقيق ما أرادت. ثم ما لبث أن سارع النظام الإيراني بتنفيذ سياسة أمريكا في كبح جماح النظام العراقي في حرب دامية استمرت ثماني سنوات، قتلت فيها من قتلت من أبناء المسلمين، فأهلكت الحرث والنسل وعاثت في الأرض فسادا لا لشيء إلا لتنفيذ أوامر أسيادهم في البيت الأبيض، ثم أكمل هذا النظام العميل خدماته في لبنان عن طريق إنشاء حزب له هناك ودعمه وتسخير كافة الإمكانيات حتى تستخدمه أمريكا كلما أرادت من أجل تنفيذ سياستها، وزد على هذا وذاك ما فعلوه في أماكن عدة في بلاد المسلمين مستخدمين حججا وذرائع متعددة، تارة باسم نشر المذهب الشيعي وتارة أخرى تحت مسمى حماية الشيعة هناك. واستمرت إيران في هذا الأمر حتى أيامنا هذه، فهي تنفذ حاليا ما أوكل لها من مهمة قذرة في سوريا من أجل تثبيت النظام السوري والقضاء على الثورة السورية.

وفي سبيل تنفيذ ما سبق كان الأمر يحتاج إلى عاملين مهمين، هما القوة البشرية القادرة على تنفيذ هذه السياسات الخبيثة أولا، والقدرة المادية التي تعزز القوة البشرية وتدفعها ثانيا، وهذا الأمر بلا شك مكلف جدا ويحتاج إلى أموال طائلة، فلا شك بأن دعم إيران كنظام لسياسة أمريكا في أفغانستان إبان الحرب مع الاتحاد السوفيتي وما حصل بعدها في العراق وأفغانستان عندما ساعدتها في احتلالهما، ومن ثم تدخلها الوقح في سوريا، لم يكن ذلك كله مجانا، بل كان كله بلا شك من أموال المسلمين الذين يقطنون إيران وأموالهم التي تجمعها من بيع البترول إلى العالم كله تاركين الناس يعانون الأمرين لا لشيء إلا لإبقاء نظام خامنئي في سدة الحكم وإبعاد المسلمين عن الحياة السليمة التي ترضي الله تعالى.

وهنا نجد أن هذا الخبر ليس بالخبر المستغرب، بل إن هذه الأرقام هي أرقام منقوصة، والمبالغ المنشورة ليست بصحيحة، بل إن الواقع ينطق بأن المبالغ المنفقة هي أكثر بكثير من هذا المبلغ الزهيد بالمقارنة بما أنفق في الحروب التي شارك فيها النظام الإيراني، ولو أردنا جمع هذه الأموال التي أنفقوها في حروبهم بالوكالة عن أمريكا وقمنا بإنفاقها في بلاد المسلمين، فلن تجد فقيرا في بلادنا، ولكن عندما يتولى أمرنا لئيم حاقد على الإسلام والمسلمين فإننا لن نلقى سوى الخراب والدمار.

وأخيرا فإننا نقول عن هذا النظام كما قلنا عنه من قبل بأنه نظام يسير في فلك أمريكا سيرا يقترب من العمالة، وإن الذي يفجعنا ليست الأموال التي ضاعت ولا زالت تضيع، بل إن ما يحزننا أكثر هو الأرواح التي أزهقت بغير وجه حق وبجهالة من أصحابها، فهذه الأرواح لو بذلت من أجل غاية سامية وهي نوال رضوان الله تعالى، ولو ذهبت هذه الأرواح في الجهاد والقتال في سبيل الله ونال أصحاب هذه الأرواح الشهادة، لكان حالنا غير حالنا هذا، ولَكُنّا أعززنا ديننا في الدنيا وتقبلنا الله عنده في جنات النعيم في الآخرة.

والسؤال الذي يطرح نفسه هنا هو: هل من واع راشد يعود إلى صوابه فيقف وقفة عز أمام هذا النظام وغيره فيقلب الطاولة على رؤوسهم جميعا؟ وهل هناك من يستمع لنا فيعود إلى أمته التي تفتقر أمثال سعد بن معاذ؟ والجواب على ذلك بأن هناك الكثير الكثير ولكن الله تعالى قد جعل لكل شيء قدرا، وهو سبحانه سينصرنا ويعيد لنا عزتنا ومجدنا إن نحن عدنا لشرع ربنا واستقلال أمرنا، وإن هذا الأمر لن يتم إلا بأيادٍ واعية صادقة مخلصة لهذه الأمة ولهذا الدين العظيم، وهم بحمد الله موجودون، وإنما النصر صبر ساعة لا غير.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. ماهر صالح – أمريكا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست