أصدقاء أردوغان حديثا أصدقاء مصطفى كمال قديماً
أصدقاء أردوغان حديثا أصدقاء مصطفى كمال قديماً

الخبر:   ورد الخبر التالي على موقع مفكرة الإسلام في 2016/8/11 بعنوان: "محطة طاقة نووية تركية ثمرة تطبيع العلاقات بين موسكو وأنقرة" وجاء فيه: "جرى التعاون الاستراتيجي مع شركة الطاقة النووية الروسية روساتوم لبناء أول محطة تركية للطاقة النووية في مرسين جنوب تركيا وتعد محطة الطاقة النووية "أك كويو" أول محطة للطاقة النووية في تركيا وهو مشروع انطلق مع توقيع اتفاقية بين الدولتين في عام 2010، وتُقدّر تكلفته بـ22 مليار دولار.

0:00 0:00
Speed:
August 13, 2016

أصدقاء أردوغان حديثا أصدقاء مصطفى كمال قديماً

أصدقاء أردوغان حديثا أصدقاء مصطفى كمال قديماً

الخبر:

ورد الخبر التالي على موقع مفكرة الإسلام في 2016/8/11 بعنوان: "محطة طاقة نووية تركية ثمرة تطبيع العلاقات بين موسكو وأنقرة" وجاء فيه:

"جرى التعاون الاستراتيجي مع شركة الطاقة النووية الروسية روساتوم لبناء أول محطة تركية للطاقة النووية في مرسين جنوب تركيا وتعد محطة الطاقة النووية "أك كويو" أول محطة للطاقة النووية في تركيا وهو مشروع انطلق مع توقيع اتفاقية بين الدولتين في عام 2010، وتُقدّر تكلفته بـ22 مليار دولار. وقال رئيس الوزراء التركي بن علي يلدريم عن محطة "أك كويو" بأنها قاعدة استثمارية استراتيجية يمكن اتخاذ الخطوات الأولى فيها. ومن المقرر أن تتفاوض تركيا مباشرة مع روساتوم بشأن المحطة، إضافة إلى تقديم نظام حوافز لها سيطبق لأول مرة من قبل الحكومة التركية، كما سيتم توفير تسهيلات للشركة مثل الأرض والدعم في نسب الفائدة على القروض، وتخفيض على أسعار الطاقة واستثناء ضريبي. وسوف تجهز المحطة النووية بأربع مفاعلات، كل منها يُنتج 1200 ميغاواط من الطاقة الكهربائية، وستُلبّي 10 بالمئة من احتياجات البلاد للطاقة بقدرة إجمالية 4500 ميغاواط. ومن المقرر أن يتم إطلاق المشروع في عام 2022 وأن تستمر دورته التشغيلية 60 عامًا."

التعليق:

لم يمر وقت طويل على إعلان أردوغان تطبيع العلاقات مع كيان يهود، وذلك حرام شرعاَ، ليعلن عن صداقته لروسيا التي تُذكرنا بمعاهدة موسكو أو معاهدة الأخوة وهي معاهدة الصداقة التي وقعت بين "الجمعية الوطنية التركية" بقيادة مصطفى كمال الهالك وروسيا الشيوعية البلشفية بقيادة فلاديمير لينين، في 16 آذار/مارس 1921، التي مهدت لهدم الخلافة الإسلامية في عام 1924م. هذه المعلومة المهمة في تاريخ المسلمين تكشف كذب الإعلام الذي لطالما روج زورا لأردوغان العلماني على أنه "حفيد السلاطين العِظام" الذين طبقوا الإسلام! أردوغان الذي وعد بأنه سيكون للمسلمين الفارين إلى تركيا من سوريا كالأنصار للمهاجرين...

ولهذه الصداقة تبعات كان للإعلام الدور الأساسي في التسويق والترويج لها حتى "يبتلعها" المتلقي المسلم، منها ما أسمته وسائل الإعلام زوراً "التنسيق الأمني" مع روسيا ليكشف النظام التركي لروسيا مواقع المجاهدين في سوريا ويقوم بتسليمهم لقمة سائغة للأعداء؛ ثم تقرأ الآن عن هذه المحطة النووية والذي أسماه الإعلام "تعاوناً اقتصاديا" بين البلدين. ويرى المطبلون للنظام التركي هذا الاتفاق التجاري والاقتصادي بين روسيا عدوة المسلمين وبين حكومة أردوغان تقدُّماً وطفرة اقتصادية وأن تركيا بلد ناهض بازدهاره الاقتصادي، وكلما تحدث المخلصون عن مواقف أردوغان المتناقضة بخصوص المسلمين في سوريا - المستضعفين الذين تقصفهم الطائرات الروسية يوميا وتوفر الدعم العسكري الكامل لنظام بشار ليقتل ويقصف ويدمر ويسفك الدماء الطاهرة - كلما تحدث المخلصون يقول المطبلون بأنه لا يوجد حاكم مثل أردوغان ولا يجب أن ننتقده مع أن محاسبة الحكام فرض على المسلمين، إنما هذه الكلمات تعكس جهل المطبلين بالحكم الشرعي في حق هؤلاء الرويبضات وتعكس عقليتهم الانهزامية بقبولهم بمن هو "أقل سوءاً بين الأسوأ"!

إن التناقض واضح بين أقوال أردوغان وتصريحاته وبين أفعاله؛ فقضية ثورة الشام المباركة لا تُعد عنده أكثر من قضية تستفيد منها بلاده اقتصادياً وتجارياً بمثل هذه المشاريع المذكورة في الخبر أعلاه! كما يستغل النظام الأمريكي والروسي جيش المسلمين في تركيا في ضرب المجاهدين في "تحالف" شيطاني يزعم أنه تحالف ضد "إرهاب" تنظيم الدولة، مصطلح إعلامي مستهلك آخر يعكس ازواجية المعايير في الإعلام الذي لا يعتبر نظام الأسد نظاما إرهابيا أبداً! مصطلحات إعلامية مضللة لا تتفق مع المواقف السياسية التي يجب أن تُتخذ من وجهة نظر شرعية، فالمسلمون في تركيا وحول العالم يعلمون أن الأسلحة ومفاعل الطاقة والتدريبات العسكرية التي تنفق الأنظمة الفاسدة أموال الأمة في شرائها تُستخدم لزهق أرواح أبنائها وسفك دمائها! فهذه المشاريع بيد الأنظمة العلمانية الموالية للغرب الكافر لن تصب في مصلحة المسلمين أبداً ولا يرجى خيرٌ ممن صافح سفّاحاً مثل بوتين وطبع مع اليهود على حساب دماء الشهداء في سوريا وفي فلسطين المحتلة، ولن تشفع لهم عند الله تعالى "مساعداتهم" للمحاصرين والمحتلين بينما الجيش يقصف ويدمر بيوت المسلمين ويخدم مصلحة الأعداء. أما المطبلون لهذا النظام العلماني الذي يخلط بين الحق وبين الباطل فيدعو لتطبيق الديمقراطية وهي نظام كفر ثم يضيف إلى دعوته الخبيثة كلمة الشهداء بعد محاولة الانقلاب الفاشلة الشهر الماضي، بحجة أنه نظام منفتح وعصري ومعتدل وما إلى ذلك من الهرطقات الإعلامية التي يروج لها رموز الحكومة في الأخبار، فهم إنما يقدسون أشخاصاً ولا يفهمون حقيقة الأفكار والمفاهيم العلمانية التي تفصل أمر الله عن الحياة ولا يفهمون المبدأ الرأسمالي الذي يطبقه هؤلاء الرويبضات.

على المسلم أن لا ينخدع بما يسوق له الإعلام وعليه أن يدرك أن الخطابات عن الإنجازات المادية والاستثمارية مع أعداء المسلمين ما هي إلا لغة المبدأ الرأسمالي الكافر الذي يتحدث به العملاء وإن ألبسوه ثوب الإسلام. فالأفعال والمواقف هي التي تُظهر النوايا الحقيقية وليس التصريحات المنمقة والشعارات البراقة والكلمات الجوفاء التي تضلل المتلقي وتأخذه إلى عالم من الخيال بينما تزهق أرواح إخوانه وتباع دماء الشهداء بثمن بخس! وحتى لا يكونوا ممن يمقتهم الله سبحانه عندما ينساقون وراء هؤلاء الحكام المنافقين أصحاب الأقوال المعسولة التي تتناقض مع أفعالهم وتنتهك حرمات الله، قال جل وعلا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ * كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾. [سورة الصف: 2-3].

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة محمد حمدي – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست