عشرون عاما مضت على أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر فهل انتهت الحرب على ما يُسمّى بالإرهاب؟
عشرون عاما مضت على أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر فهل انتهت الحرب على ما يُسمّى بالإرهاب؟

الخبر: عشرون عاما مضت على أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر، كانت بداية لسلسلة من الأحداث التاريخية المتسارعة، التي رسمت مسارات سياسيّة جديدة، وأدمت بلادنا الإسلاميّة وبطشت بها تحت مسمّى "مكافحة الإرهاب". فهل حققت أمريكا هدفها بعد عقدين من البطش والدمار والحروب العسكريّة في أفغانستان والعراق وباكستان وليبيا والصومال والسودان واليمن والقرن الأفريقي؟ أم لا زالت الحرب مستمرّة؟

0:00 0:00
Speed:
September 16, 2021

عشرون عاما مضت على أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر فهل انتهت الحرب على ما يُسمّى بالإرهاب؟

عشرون عاما مضت على أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر
فهل انتهت الحرب على ما يُسمّى بالإرهاب؟


الخبر:


عشرون عاما مضت على أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر، كانت بداية لسلسلة من الأحداث التاريخية المتسارعة، التي رسمت مسارات سياسيّة جديدة، وأدمت بلادنا الإسلاميّة وبطشت بها تحت مسمّى "مكافحة الإرهاب". فهل حققت أمريكا هدفها بعد عقدين من البطش والدمار والحروب العسكريّة في أفغانستان والعراق وباكستان وليبيا والصومال والسودان واليمن والقرن الأفريقي؟ أم لا زالت الحرب مستمرّة؟

التعليق:


عندما أخبر الرئيس جو بايدن الشعب الأمريكي في 31 آب/أغسطس الماضي، أن آخر طائرة شحن غادرت كابول، منهية عقدين من الحرب العسكرية الأمريكية في أفغانستان، دافع عن الخروج ببيان بسيط: "لن أستمر في هذه الحرب إلى الأبد". وتابع: "مع ذلك تستمر الحرب".


لعلّ النّاظر لتصريح بايدن يلحظ التناقض في خطابه بين ادّعائه إنهاء الحرب ثمّ استمراريّتها، لكن إدارة بايدن قد لا تتعامل مع ما يُسمّى الحرب على الإرهاب كما تعاملت معه إدارة بوش في احتلال الشعوب عسكريّا وفرض "دمقرطتها" لإعادة تشكيلها بصورة تتماهى كليّا مع أمريكا. لأنّه وبعد عقدين كاملين، بدت هذه السياسة فاشلة ونتائجها مخزية، فلا ديمقراطيّة تحقّقت ولا شعوب استقرّت، بل إنّ الأمور تفاقمت وما زالت آثارها بادية للعيان.


وهذا ما جعل رئيس الوزراء البريطاني الأسبق توني بلير يدين انسحاب القوات الأمريكيّة من أفغانستان ويصفه بالشعار السيئ والخطير وغير الضروري. فخلال غزو أفغانستان قبل عشرين عاما أرسل توني بلير قوات بريطانيّة إلى أفغانستان تدعم الجيش الأمريكي وتدعم إدارة بوش. وقد جاء اعتراف الرئيس الأمريكي جو بايدن مؤخراً "بأن هدف بلاده لا يجب أن يتعلّق بإعادة بناء دول أو مجتمعات أو تشكيلها على النسق الأمريكي" خصوصا أنّ هذه الحرب تستنزف من بلاده تكلفة ضخمة من الدماء والأموال، ومن السمعة الدولية، ومن المستحيل تحديد تكلفة "الحرب على الإرهاب" بالضبط، غير أن معظم التقديرات تشير إلى أنها تجاوزت تريليون دولار أمريكي وقد أُنفق جانب ضخم من هذه التكلفة على العمليّات العسكريّة النشطة، وتجميع الاستخبارات، وغارات الطائرات المُسيّرة.


لكن هل يعني هذا أنّ الإدارة الأمريكيّة استسلمت وأنّ حلفاءها العسكرييّن والسياسيّين الذين تبنّوا مشروع مكافحة الإرهاب قد أنهوا مهمّتهم؟


إنّ مفهوم الإرهاب على مدار عقدين كاملين من بعد أحداث 11 أيلول/سبتمبر قد أُعيدت صياغته وقولبته آلاف المرّات ليتماشى مع أيّ خطّة عسكريّة أو سياسيّة للقضاء على أيّ شكل من أشكال التهديد للغرب عموما.


وإنّ الحرب على ما يُسمّى الإرهاب دارت فصولها حتى نالت من أجزاء كبيرة من بلادنا الإسلاميّة وبمشاركة شركاء حول العالم، وطالت أماكن بعيدة ودمّرت شعوبا وسببّت المجاعات والحروب الطائفيّة والصراعات الداخليّة وأكثرت من السّجون والمعتقلات وقنّنت لوحشيّة الأنظمة المحليّة والعالميّة.


لكنّ المرحلة السياسيّة التي يعيشها العالم اليوم، تجاوزت السياسة التضليليّة في الحرب على الإسلام بغطاء "مكافحة الإرهاب" وتغطية التحالف الدولي لهذه الحرب بمُسمّيات مغلوطة ومُضلّلة. لقد أصبح العالم اليوم يقف على حقيقة مفصليّة ومكشوفة في الحرب، بين الإسلام والحضارة الغربيّة دون الحاجة لاستساغة مفاهيم مغلوطة وسياسات الظلّ.


إنّها الحرب الصريحة على الإسلام، بعقيدته وتشريعه وأحكامه وأفراده وجماعاته وأرضه التي تحتويه، وقد كان هذا ردّ الرّجل الذي عيّنه الرئيس الحالي دونالد ترامب منسّقا لوزارة الخارجيّة الأمريكيّة لمكافحة الإرهاب، السفير ناثان سيلز، حينما سُئل: هل هذه الحرب انتهت؟ قال: "لا، القتال ما زال مستمرا، ونحن ننتصر في القتال، لكنّنا ما زالنا نواصل قتال عدوّ مستميت، أو يجب أن أقول مجموعة أعداء مستميتين".


أيّها المسلمون، إنّ الغرب يتعامل مع الإسلام كتهديد حقيقيّ وكعدوّ شرس لا ينفع معه إلّا القتال. ومعظم السّاسة الغربييّن والخبراء يُقدّرون حجم هذه الخطورة ويترصّدون الإسلام وأهله ويُعلنونها بسفور أنّها حرب على الإسلام. فماذا تنتظرون؟!


لقد أوغلوا في دمائنا وأرضنا وعرضنا ومقدّساتنا وثرواتنا، ولن تُنكّس أعلامهم إلّا حينما تُرفع رايتنا ونستأنف دولتنا قويّة عزيزة منيعة راشدة على منهاج النبوّة، هذا فقط ما يوقفهم ويخزيهم ويقطع طريقهم. ﴿وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ﴾.


#أفغانستان Afganistan #Afghanistan#

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
نسرين بوظافري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست