استدعاء حوالي 100 شخص لمراكز الشرطة في منطقة موسكو للتحقيق بعلاقتهم مع حزب التحرير
استدعاء حوالي 100 شخص لمراكز الشرطة في منطقة موسكو للتحقيق بعلاقتهم مع حزب التحرير

موسكو، 20 تشرين الأول/أكتوبر، وكالة إنترفاكس - قالت المتحدثة باسم وزارة الداخلية الروسية، يلينا ألسكييفا، أنه قد تم القضاء على خلية تابعة للتنظيم العالمي الإرهابي حزب التحرير وذلك في منطقة موسكو.

0:00 0:00
Speed:
October 23, 2015

استدعاء حوالي 100 شخص لمراكز الشرطة في منطقة موسكو للتحقيق بعلاقتهم مع حزب التحرير

خبر وتعليق

استدعاء حوالي 100 شخص لمراكز الشرطة في منطقة موسكو


للتحقيق بعلاقتهم مع حزب التحرير


(مترجم)


الخبر:


موسكو، 20 تشرين الأول/أكتوبر، وكالة إنترفاكس - قالت المتحدثة باسم وزارة الداخلية الروسية، يلينا ألسكييفا، أنه قد تم القضاء على خلية تابعة للتنظيم العالمي الإرهابي حزب التحرير وذلك في منطقة موسكو.


فقد قالت ألسكييفا: "كنتيجة لهذه العملية، فقد تم استدعاء 97 شخصًا لمؤسسات النظام الداخلي حتى يتم التحقيق معهم بخصوص المشاركة في نشاط غير قانوني، وقد تم اعتقال 20 عضوًا، بمن فيهم قادة الخلية المتطرفة، بموجب المادة 91 من القانون الجنائي الروسي. وإذا ما كان يجب حبسهم على ذمة التحقيق فإن ذلك سيتقرر في المستقبل القريب جدًا".


وقالت إن أعضاء الجماعة المتطرفة المذكورة قاموا بتجنيد أنصار جدد بين الناس يعتنقون الإسلام، ووزعوا فقهًا دينيًا محظورًا، وجمعوا الأموال بما يشمل تقديم المساعدة لمسلحين ينتمون لجماعات مسلحة.


وقد قال الناطق باسم وزارة الداخلية: "قام المحققون في جهاز الأمن الفيدرالي الروسي في موسكو بتنفيذ عملية خاصة كجزء من تحقيق جنائي في تنظيم منظمة إرهابية والعضوية فيها. عمليات البحث التي نُفذت على 24 عنوانًا، حيث يقيم فيها أعضاء حزب التحرير، أدت إلى مصادرة بطاقات مصرفية، وعدد كبير من المواد المتطرفة، سواء في شكل إلكتروني أو مطبوع، ومواد ثقافية أخرى محظورة تدعو إلى الإطاحة بالنظام الدستوري الروسي وإقامة الخلافة العالمية".


وقد قال مصدر في وكالات تطبيق القانون لوكالة إنترفاكس في وقت سابق من يوم الثلاثاء إنه قد تم اعتقال نحو 20 شخصًا من أنصار جماعة حزب التحرير الإسلامية المتشددة (المحظورة في روسيا) في منطقة موسكو، ويجري فحص عشرات آخرين حول علاقتهم بالتطرف.


في وقت سابق من يوم الثلاثاء، حكمت محكمة ليفورتوفو في موسكو بإعادة اعتقال أوبيجون دازيرباييف وعبد القيوم ماكسودوف، اللذين اتُّهما بتجنيد أشخاص لصالح منظمة إرهابية.


وقال متحدث باسم المحكمة لوكالة إنترفاكس إن المحكمة قد حكمت لصالح طلب المحققين بتمديد فترة الحبس الاحتياطي للمشتبه بهم.


ووفقًا لملفات القضية، يواجه الاثنان تهمًا تتعلق بتنظيم أنشطة لصالح منظمة إرهابية (الجزء 1 من المادة 205.5 من القانون الجنائي الروسي). وقد تم حبسهما احتياطيًا حتى 13 كانون الأول/ديسمبر 2015.

التعليق:


على الرغم من أن روسيا تدعي أنها تطبق مبدأ "سيادة القانون" والذي يعمل على تنظيم شؤون شعبها ويسيطر عليها. إلا أنها حقيقة معروفة جيدًا أن المخططات السياسية الروسية أقوى بكثير وتصل إلى مدى أبعد من مبدأ "سيادة القانون" هذا. فالمخططات السياسية الروسية قد استُخدمت بانتظام في الماضي وما زالت تُستخدم كأداة لخدمة وتحقيق أهداف سياسية معينة. هذا هو السبب في أن التلاعب والخداع الذي تقوم به الحكومة ليس مجرد أسلوب غير مألوف، ولكنها غالبًا ما تستخدمه للقضاء على المعارضة السياسية، أو لإسكات الناشطين من أصحاب الأصوات المسموعة ضد السياسات الروسية.


كما أنها حقيقة راسخة ومعروفة جيدًا أن حزب التحرير هو حزب سياسي لا يستخدم أي وسيلة من وسائل العنف لتحقيق أهدافه. لذلك لا حاجة إلى دليل يثبت لماذا لا يجب أن يُصنف حزب التحرير على أنه منظمة "إرهابية". ومن الواضح جيدًا أن أعضاء الحزب قد اعتقلوا لغرض آخر ثم اتهموا بعد ذلك بهذه الاتهامات. ولذلك فالسؤال الذي يطرح نفسه، ما هي الأهداف الحقيقية وراء هذه الحملة؟


عندما تم غزو العراق في عام 2003، أخذت روسيا تستخدم الشعار الأمريكي "الحرب على الإرهاب" كذريعة من أجل سنّ سياسات صارمة. وفي ذلك العام قامت بحظر حزب التحرير و14 منظمة أخرى ووضعتهم على قائمة المنظمات الإرهابية المحظورة. ونتيجة لذلك فإن العديد من إخواننا وأخواتنا قد اعتقلهم جهاز الأمن الفيدرالي.


وليس صدفة أن تقوم روسيا بعملية ضخمة بهذا الحجم ضد الحزب اليوم بعد تدخلها العسكري الأخير في سوريا والعراق وقلقها من اقتراب أهل سوريا الذين يقاتلون الطاغية بشار من إقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة. فقد أعرب عن هذا القلق بوضوح وزير الخارجية الروسي سيرغي لافروف في مناسبات متعددة وقد دعا إلى منع إقامة "خلافة إرهابية" في سوريا.


إن السياسة الخارجية لروسيا في العالم الإسلامي تؤثر بلا شك على السياسات الداخلية ضد المسلمين والجماعات الإسلامية. وإن اهتمامها وهدفها الحقيقي، وبالتعاون مع جميع الدول الغربية والأنظمة الخائنة في البلاد الإسلامية، هو منع الدعوة إلى إقامة دولة الخلافة في سوريا وجميع البلاد الإسلامية الأخرى. وعلى الرغم من أن روسيا تعلم جيدًا أن الحزب لا يعمل لتغيير المجتمع الروسي من أجل إقامة دولة الخلافة في روسيا إلا أنها تتصرف بقسوة تجاهه بسبب حقدها وعدائها للإسلام.


يجب أن تعلم روسيا وحلفاؤها المجتمعون ضد الإسلام أن الدعوة إلى الخلافة لا يمكن القضاء عليها من خلال الزج بالناس في السجون أو تخويفهم أو قتلهم. فلو كانت هذه الوسائل ناجحة لكانت الدعوة إلى الخلافة قد تم القضاء عليها منذ فترة طويلة. ولكن على الرغم من كل هذه الجرائم ضد الحزب والأمة الإسلامية العظيمة، فإن الدعوة إلى الخلافة تصبح أقوى يومًا بعد يوم. وهذا بالضبط هو ما تواجهه القوى الغربية في سوريا؛ على الرغم من تحالف كل الدول الكافرة تقريبًا ضد المسلمين المخلصين في سوريا، إلا أنهم ما زالوا ثابتين ويطالبون بإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة بعد القضاء على "أسد".


وأخيرًا، فإني أقول لإخواني وأخواتي الذين يصلون ليلهم بنهارهم من أجل العمل لإقامة دين الله سبحانه وتعالى، أقول لهم جزاكم الله خيرًا وأسأله تعالى أن يفرج عنكم عاجلًا غير آجل. وأسأل الله سبحانه وتعالى أن يحميهم وأهلهم من كل شر. وأساله تعالى أن يجزيهم ثمرة أعمالهم في الدنيا وأن يحشرهم مع الأنبياء والصالحين، اللهم آمين.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أوكاي بالا
الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست