استفتاء دارفور ينذر بكارثة جديدة في بلدنا المنكوب بحكامه
استفتاء دارفور ينذر بكارثة جديدة في بلدنا المنكوب بحكامه

  أعلن الرئيس عمر البشير في خطابه أمام البرلمان السوداني يوم الاثنين 19 تشرين الأول/أكتوبر عن نية حكومته إجراء استفتاء في دارفور بحلول نيسان/أبريل 2016. وقال أمام البرلمان نقلا عن سودان تربيون: "الترتيبات تسير سيرا حسنا لإنجاز الاستفتاء الذي سينتظم كل ولايات دارفور خلال نيسان/أبريل 2016، ليرسي دعائم المستقبل المتسم بالممارسة السياسية الراشدة في هذا الإقليم."

0:00 0:00
Speed:
October 28, 2015

استفتاء دارفور ينذر بكارثة جديدة في بلدنا المنكوب بحكامه

الخبر:

أعلن الرئيس عمر البشير في خطابه أمام البرلمان السوداني يوم الاثنين 19 تشرين الأول/أكتوبر عن نية حكومته إجراء استفتاء في دارفور بحلول نيسان/أبريل 2016. وقال أمام البرلمان نقلا عن سودان تربيون: "الترتيبات تسير سيرا حسنا لإنجاز الاستفتاء الذي سينتظم كل ولايات دارفور خلال نيسان/أبريل 2016، ليرسي دعائم المستقبل المتسم بالممارسة السياسية الراشدة في هذا الإقليم."

التعليق:

يقال لها دارفور السلطان، والسلطان هو علي دينار الذي حكم المنطقة بين 1898-1917م حينما ضم الإنجليز المنطقة لبقية السودان. مساحتها تزيد عن 510 ألف كم2، وعدد سكانها حوالي ستة ملايين نسمة، كلهم من المسلمين السنة. ظلت دارفور وحدة إدارية واحدة، حتى تم تقسيمها إلى ثلاث ولايات في عام 1994، بقرار جمهوري من رئيس الدولة، وفيما بعد قسمت ثانية لخمس ولايات. اندلعت أعمال التمرد المسلح على الدولة في عام 2003، وقعت حكومة البشير اتفاق أبوجا في 5 أيار/مايو 2006 مع بعض الحركات المسلحة هناك، أهمها حركة تحرير السودان - جناح مني أركو مناوي، جاء في المادة 6، النقاط 55-56-57 ما يلي: "يتحدد الوضع الدائم لدارفور من خلال استفتاء يجري في وقت متزامن في ولايات دارفور الثلاث. ... على أن تقدم في الاستفتاء خيارات الإدارة السياسية لدارفور وهي:

إنشاء إقليم دارفور المكون من ثلاث ولايات، أو الإبقاء على الوضع القائم للولايات الثلاث وفي كلتا الحالتين يتم احترام المميزات الخاصة لدارفور على نحو ما حددته التقاليد والصلات الثقافية والتاريخية". فشل اتفاق أبوجا وانهار باختفاء ومن ثم خروج مني مغاضبا محاربا للحكومة مرة أخرى في النصف الثاني من عام 2008.

استخدمت الحكومة ورقة الاستفتاء إبان مفاوضات الدوحة، ثم سكتت عنه.

وقعت اتفاقية الدوحة في 14 تموز/يوليو 2011 وجاء في مادتها العاشرة بند 75 و76:

"يتقرر الوضع الإداري لدارفور من خلال إجراء استفتاء.

يجري الاستفتاء على نحو متزامن في ولايات دارفور في فترة لا تقل عن عام بعد التوقيع على هذا الاتفاق...، ويجري تقديم الخيارات التالية في الاستفتاء:

إنشاء إقليم دارفور الذي يتكون من ولايات دارفور،

الإبقاء على الوضع الراهن لنظام الولايات. وفي كلتا الحالتين يتم احترام طابع الإقليم الذي تحدده التقاليد الثقافية والتاريخية".

يبدو أن الروح الشريرة التي كتبت الاتفاقين واحدة وأن هدفها هو هو لم يتغير: تهيئة دارفور للانفصال بحجة احترام طابع الإقليم الذي تحدده التقاليد الثقافية والتاريخية. حكومة البشير تظن أنها بإجراء الاستفتاء، والذي تهيئ الخرطوم كما يبدو لنا لأن تكون نتيجته لصالح بقاء الإقليم مجزّأً، ولكن الغباء السياسي المطبق على أقل تقدير، وبإعمال حسن الظن يجعلهم لا يرون أن مجرد إجراء استفتاء هو خطوة متقدمة لفصل الإقليم مستقبلا أياً كانت النتائج. فاستفتاء جديد ويعطي الإقليم حكماً ذاتياً، ثم آخر ويعطي الإقليم حق تقرير المصير، وبعدها يتم إعلان الاستقلال. إن الصلاحيات المالية والإدارية والسياسية التي أعطيت لسلطة دارفور الانتقالية في اتفاقيتي أبوجا والدوحة هي تأسيس لدولة داخل الدولة. وإن الحديث عن الاستفتاء في دارفور يشبه الحديث عن خيار الوحدة الجاذبة الذي صدعت به حكومة الحركة الإسلامية رؤوسنا بعد اتفاقية نيفاشا المشؤومة والتي أدت لفصل جنوب السودان. والغريب العجيب أن حكومة البشير بدأت الحديث عن استفتاء دارفور وبجدية من آب/أغسطس 2015، فقد أوردت سودان تربيون في يوم 13 آب/أغسطس ما يلي:

" ...، وقال مسؤول ملف دارفور أمين حسن عمر، في تصريحات سابقة، إن تمديد أجل السلطة الإقليمية اتخذ من أجل إجراء سلام استفتاء دارفور لتحديد الوضع الإداري فيها. وكشف أمين عن ترتيبات لتكوين مفوضية استفتاء دارفور، تبدأ بفتح السجل في تشرين الثاني/نوفمبر القادم على أن يدلي الدارفوريون بأصواتهم في نيسان/أبريل من العام القادم، لكنه عاد وقال أن المفوضية هي التي ستحدد". انتهى

يعني أن الحكومة حسمت أمرها، وحددت الموعد، ثم يخرج علينا الرئيس ويعلن الموعد ويتفاجأ الجميع، بالرغم من أن مسؤول ملف دارفور قد كشف كل شيء قبل ما يزيد عن الشهرين! وما زال الاستحمار مستمرا يا معشر الإعلاميين، وما زالت الحكومة تسير في خطة تفتيت السودان كما تريدها أمريكا والغرب الكافر، وعلماؤنا ومثقفونا ينظرون مستبشرين محاورين وكأن على رؤوسهم الطير!

اللهم هل بلغنا، اللهم فاشهد

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أبو يحيى عمر بن علي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست