استماتة حكام الإمارات في رصد حقوق المرأة في أفغانستان، لماذا؟!
استماتة حكام الإمارات في رصد حقوق المرأة في أفغانستان، لماذا؟!

ﺍﻟﺨﺒﺮ:   اعتمد مجلس الأمن اليوم بالإجماع قراراً صاغته كل من الإمارات واليابان بصفتهما حاملتي القلم المشارك لملف أفغانستان، يدين قرارات طالبان لحظرها عمل النساء الأفغانيات لدى الأمم المتحدة في أفغانستان. شارك في دعم القرار ورعايته أكثر من 90 دولة عضوا في الأمم المتحدة، وللمرة الأولى تشارك أكثر من 28 دولة من منظمة التعاون الإسلامي في دعم قرار بمجلس الأمن. وقالت معالي السفيرة لانا زكي نسيبة، مساعدة وزير الخارجية والتعاون الدولي للشؤون السياسية والمندوبة الدائمة لدولة الإمارات لدى الأمم المتحدة: "إن اعتماد مجلس الأمن لهذا القرار، ...

0:00 0:00
Speed:
May 01, 2023

استماتة حكام الإمارات في رصد حقوق المرأة في أفغانستان، لماذا؟!

استماتة حكام الإمارات في رصد حقوق المرأة في أفغانستان، لماذا؟!

ﺍﻟﺨﺒﺮ:

اعتمد مجلس الأمن اليوم بالإجماع قراراً صاغته كل من الإمارات واليابان بصفتهما حاملتي القلم المشارك لملف أفغانستان، يدين قرارات طالبان لحظرها عمل النساء الأفغانيات لدى الأمم المتحدة في أفغانستان. شارك في دعم القرار ورعايته أكثر من 90 دولة عضوا في الأمم المتحدة، وللمرة الأولى تشارك أكثر من 28 دولة من منظمة التعاون الإسلامي في دعم قرار بمجلس الأمن. وقالت معالي السفيرة لانا زكي نسيبة، مساعدة وزير الخارجية والتعاون الدولي للشؤون السياسية والمندوبة الدائمة لدولة الإمارات لدى الأمم المتحدة: "إن اعتماد مجلس الأمن لهذا القرار، رسالة إدانة واضحة، ودعوة جلية للتراجع العاجل، ليس فقط عن الحظر الأخير الخاص بعمل النساء، وإنما للحظر الآخر الذي يقيد حقوق النساء والفتيات في أفغانستان". وأضافت معاليها: "لا بد أن نعي جميعاً أن الاستقرار والتعافي الاقتصادي والمصالحة السياسية غير ممكنة في أفغانستان، دون إشراك النساء والفتيات الأفغانيات". (جريدة البيان الاماراتية، 28/04/2023)

التعليق:

إن حكام الإمارات وأذنابهم تنتابهم عقدة نقص تجاه الكفار. يوجد هاجس لديهم بضرورة تذكير كل الكفار الحربيين كل لحظة، ولو بأي ثمن، أنهم منهم! بل يريدون أن يثبتوا لهم أنهم سباقون إلى دعوة المسلمين إلى العيش وفق أحكامهم ولو كلفهم ذلك بحكم وظائفهم المؤقتة تغيير أسمائهم الأولى إلى كريستيانا وميشيل أو إلى القيام بأمور تأباها النفوس السليمة. هلا عذبت لانا هذه نفسها بإقناع صاحب مقولة "بيت العائلة الإبراهيمية" بالعدول عن مقولته وبدعته بدل تلقين مسلمي أفغانستان الدروس حول النساء؟ هلا عذبت نفسها لضرورة الحديث عن براءة إبراهيم عليه السلام من هذا الصرح الذي أسموه "البيت الإبراهيمي الإماراتي" المكون من مسجد وكنيس وكنيسة متجاورات في السعديات في أبو ظبي؟ ألم يطرق سمعها هي وسيدها حاكم الإمارات قول الله تعالى: ﴿مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيّاً وَلَا نَصْرَانِيّاً وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفاً مُّسْلِماً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [آل عمران: 67]

أما عن الدعوى التي يطلقها حكام الإمارات بخصوص حقوق المرأة، فإني وجدت أنه من المناسب الاقتباس من كتاب النظام الاجتماعي لحزب التحرير ما نصه: "وعلى هذا ليست المساواة بين الرجل والمرأة قضيةً تبحث، ولا هي قضية ذات موضوع في النظام الاجتماعي، لأن كون المرأة تساوي الرجل، أو كون الرجل يساوي المرأة ليس بالأمر ذي البال الذي له تأثير في الحياة الاجتماعية، ولا هو مشكلة محتملة الوقوع في الحياة الإسلامية، وما هذه الجملة إلا من الجمل الموجودة في الغرب، ولا يقولها أحد من المسلمين سوى تقليد للغرب، الذي كان يهضم المرأة حقوقها الطبيعية باعتبارها إنساناً، فطالبت بهذه الحقوق واتخذ هذا الطلب بحث المساواة طريقاً لنيل هذه الحقوق. وأما الإسلام فلا شأن له بهذه الاصطلاحات لأنه أقام نظامه الاجتماعي على أساس متين يضمن تماسك الجماعة والمجتمع ورقيهما، ويوفر للمرأة والرجل السعادة الحقيقية اللائقة بكرامة الإنسان الذي كرمه الله تعالى بقوله: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾. [الإسراء: 70]

فالإسلام حين جعل للمرأة حقوقاً، وجعل عليها واجبات، وجعل للرجل حقوقاً، وجعل عليه واجبات، إنما جعلها حقوقاً وواجبات تتعلق بمصالحهما كما يراها الشارع، ومعالجات لأفعالهما باعتبارها فعلاً معيناً لإنسان معين. فجعلها واحدة حين تقتضي طبيعتها الإنسانية جَعْلها واحدة، وجعلها متنوعة حين تقتضي طبيعة كل منهما هذا التنوع. وهذه الوحدة في الحقوق والواجبات لا يطلق عليها مساواة، كما أنه لا يطلق عليها عدم مساواة، كما أن ذلك التنوع في الحقوق والواجبات لا يراد منه عدم مساواة أو مساواة، لأنه حين ينظر إلى الجماعة رجالاً كانت أو نساء إنما ينظر إليها باعتبارها جماعة إنسانية ليس غير، ومن طبيعة هذه الجماعة الإنسانية أن تحوي الرجال والنساء، قال الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً﴾.[النساء: 1]﴾" نن انتهى الاقتباس.

ولذلك وبناء على ما سبق فإنه لا مكان لدعوى حقوق المرأة في البلاد الإسلامية. بل ربما يجب على حكام الإمارات أن يبحثوا عن سوق آخر لدعواتهم تلك، وقد يكون من المناسب الأماكن التي تعرض نساء على غلاف منتجات لتسويق بيعها كما في الدول الغربية. أما منع طالبان النساء من العمل ضمن بعثات الأمم المتحدة، فالسبب واضح، وهو منع الأمم المتحدة من تجنيد عملاء من بين صفوف نساء أفغانستان لصالح الدول الغربية ولمنعهم من نشر مفاهيم تتناقض مع المفاهيم الإسلامية داخل أفغانستان، فكيف إذا جندت الأمم المتحدة نساء من الداخل لهذا الغرض؟

ومن ناحية أخرى فإنه كان الأجدى بطالبان (حكام أفغانستان) ذكر أسباب منع نساء من العمل ضمن أفواج الأمم المتحدة بكل شفافية بدل الاستدلال ببعض مواد القانون الدولي التي تنص على احترام سيادة الدول وقراراتها الذاتية. فبدل أن يردوا على قرار الأمم المتحدة رقم 2681 وعلى حكام الإمارات بأن موضوع توظيف النساء ضمن الأمم المتحدة أمر خاص غير خاضع للنقاش كان الأولى عليهم أن يقدموا الإسلام كنظام أفضل للحكم وعلى أن العلاقات الدولية يجب أن تتسم بالأخذ والرد وليس بفرض إرادة الآخرين كما حصل منذ أن تأسست الأمم المتحدة على يد الدول الكبرى لإخضاع الدول الأخرى تحت مسمى القانون الدولي. حيث الأنسب أن يكون على القاعدة الموجودة في قوله تعالى: ﴿قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللهُ وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾ [سبأ: 24]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نزار جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست