استمرار الاحتجاجات الرافضة لنتائج الاقتراع في العراق
استمرار الاحتجاجات الرافضة لنتائج الاقتراع في العراق

الخبر:   أوردت وكالة الأناضول يوم الخميس 2021/10/21 مطالبة رئيس حكومة تصريف الأعمال العراقية مصطفى الكاظمي المعترضين على نتائج الانتخابات بالتزام الطرق القانونية والمسار السلمي، في حين يستمر الاعتصام أمام مدخل المنطقة الخضراء في بغداد لرفض لنتائج الانتخابات.

0:00 0:00
Speed:
October 25, 2021

استمرار الاحتجاجات الرافضة لنتائج الاقتراع في العراق

استمرار الاحتجاجات الرافضة لنتائج الاقتراع في العراق

الخبر:

أوردت وكالة الأناضول يوم الخميس 2021/10/21 مطالبة رئيس حكومة تصريف الأعمال العراقية مصطفى الكاظمي المعترضين على نتائج الانتخابات بالتزام الطرق القانونية والمسار السلمي، في حين يستمر الاعتصام أمام مدخل المنطقة الخضراء في بغداد لرفض لنتائج الانتخابات.

التعليق:

لو كان في أرض الرشيد بقية من حمية لداس الشعب فيها ليس على نتائج الانتخابات فحسب بل وعلى كل بقية من بقايا الاستعمار القديم الذي تولى وزره صدام حسين والاستعمار الحديث الذي نفخ في كيره زعماء الطائفية والعصبية القبلية والقومية النتنة. فمشكلة العراق ليست من يتربع على كرسي في برلمان سقفه بناه بريمر الأمريكي صنو سايكس وبيكو، وأرضه قومية عفنة ممزوجة بطائفية نخرة، وأجواؤه يملؤها نتن الفساد ونهب أموال الناس.

لا يزال العراق يرزح تحت الاحتلال بموجب معاهدات تكريس الاحتلال المتلاحقة، وجنود الجيش الأمريكي الذين يدوسون تراب أرض الرافدين صباح مساء. فأي انتخابات وأي سيادة وأي دولة هذه التي يتقاتل عليها أبناء العراق وهم يعلمون أن الأمر الأول والأخير في بغداد هو لأمريكا منذ أن احتلتها عام 2003؟ وحتى لا يظن السامع بنا ظن السوء، فقبل 2003 لم يكن أمر العراق بأيدي أهلها كذلك بل كان بأيدي بريطانيا إما مباشرة عبر سفيرها أو غير مباشرة من خلال عملائها. وحتى لا يبتعد بمستمعينا الكرام المشهد ويظنون أن العراق أمرها طارئ وغريب على بلادنا، فإننا نقول إن حالها ليس أسوأ ولا أحسن من حال غيرها من دول المنطقة. فما من دولة في المنطقة العربية تحديدا إلا وسيادتها مرهونة لأمريكا أو بريطانيا وأحيانا فرنسا، ويديرها عملاء مأجورون باعوا شعوبهم ودين شعوبهم وحقوق شعوبهم بأثمان بخسة ومع ذلك لم يأمنوا شر أسيادهم ومكرهم. فقد رأينا كيف تخلت أمريكا عن مبارك في مصر، وتخلت بريطانيا عن معمر وزين العابدين وعلي صالح في ليبيا وتونس واليمن.

وما أمر الانتخابات في هذه البلاد إلا ألهية تدفع بها أمريكا وبريطانيا يتلهى بها الشعب المسكين، وتثير بينهم العداوات والنعرات بمختلف أشكالها دون أن يكون لها أي أثر يذكر في حياة الناس أو حتى مصالحهم الآنية البسيطة. ففي الأردن من قبل العراق عملت الانتخابات دوما على تكسير الروابط العائلية بين الناس وإثارة النعرات العشائرية والقبلية، وأبعدت حتى الواعين منهم عن حقيقة التغيير، ومناط التغيير، وطريقة التغيير، وأسس التغيير. ومثلها حصل ويحصل في مصر، ولبنان، وتونس، والجزائر والمغرب والعراق.

فبدلا من أن يتطلع الناس في العراق اليوم إلى التحرير الشامل والذي يحرر الإنسان من ترهات مئة عام من الضياع، تراهم يتطلعون إلى مقعد بال عليه بريمر منذ أن أنشأه، وبدلا من أن ينظروا لإعادة مجد بغداد التي حكمت الدنيا وسادت بقوتها وعزتها وعلومها وأدبها وسياستها وجيشها مئات من السنين، لا يجرؤون اليوم حتى للحديث عن إخراج بساطير أمريكا من أرض الرشيد. وبدلا من أن يطمحوا لإعادة مجد الخلافة الإسلامية يتمنى بعضهم أن يعود لهم صدام بدمويته وصلفه ليدوسهم بدلا من أمريكا وعملائها! لا أجد في هذا المقام إلا أن أقول ما قاله سيدنا لوط لقومه ﴿أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ﴾؟!

وأعود هنيهة إلى مجلس نواب بريمر في العراق وهو المجلس الذي تمت صياغته بناء على دستور يكرس الطائفية والعرقية من جهة، ويؤكد على مدنية الدولة وعلمانيتها بشكل دائم. ولا شك أن مثل هذا الدستور وهذا المجلس يتناقض صراحة مع عقيدة الشعب في العراق بوصفه جزءا من الأمة الإسلامية التي تدين بالإسلام وتعتقد بمعتقداته، وعلى رأس هذه المعتقدات أن الحكم لله، وأنه لا يحق لمسلم يؤمن بالله تعالى أن يحتكم لغير الله تعالى والشريعة التي أنزلها على نبيه محمد ﷺ والله يقول في القرآن الكريم ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيماً﴾. فالمسلمون في العراق سواء من أتباع المذاهب السنية أو المذهب الجعفري، لا يجوز لهم بأي حال من الأحوال أن يتحاكموا لغير قوانين وأحكام الإسلام، والأشد من ذلك خاصة لمن يتنطحون للمجلس النيابي ويوشكون على قتال بعضهم بعضا بسببه، هؤلاء ليسوا فقط مطالبين بألا يتحاكموا إلى طاغوت البشر الأمريكي أو الإنجليزي، بل مطالبون ألا يصدروا أي حكم أو تشريع أو قانون لا يستند إلى أحكام الله تعالى مصداقا لقوله عز وجل: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعاً بَصِيراً * يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً﴾. وأنتم تعلمون وكل مسلم يعلم أن العدل لا يكون إلا بتطبيق حكم الله. فالله تعالى هو العدل، وحكمه هو العدل هو الذي أرسل الرسل وأنزل معهم الكتاب والميزان ليحقق العدل بين الناس ويعيش العالم والبشرية كلها في عدل تام. وقد ذقتم بأنفسكم خلال سنوات الضياع والاحتلال والاستعمار القديم والحديث ويلات الظلم والطغيان والفساد والدمار. فكيف تتقاتلون على مجلس نواب بني من أول يوم على الظلم، وترسخت فيه أحكام الجاهلية الأولى والجاهلية الحديثة، ولم يقدم لكم منذ 20 عاما إلا الخراب والدمار والقوانين الجائرة التي لا تزيد الشعب إلا ضنكا؟!

فلولا كان منكم رجال يحبون الله ورسوله، ويبغون الخير لشعبهم وأمتهم، ويسعون لاجتثاث الفساد من الأرض، وأن يردوا الحقوق إلى نصابها، لكانت الأمة معكم تشد على أيديكم وتتطلع إلى إعادة مجد أمتنا بعد طول غياب.

﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيز

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست