استقالة الحكومة اللبنانية لن تحل مشكلة أساسها النظام
استقالة الحكومة اللبنانية لن تحل مشكلة أساسها النظام

الخبر: استقال رئيس الوزراء اللبناني يوم الاثنين وسط غضب شعبي من إهمال رسمي أدى إلى انفجار هائل وسبّب تدمير أجزاء من العاصمة، لكن إعلانه فشل في تهدئة الغضب في الشوارع. وفي خطاب متلفز، قال رئيس الوزراء حسّان دياب إن مستوى الفساد "أكبر من الدولة" مما عجّل في الأحداث التي أدت إلى الانفجار، والذي اندلع في مستودع يحتوي على 2750 طناً من نترات الأمونيوم التي تم تخزينها هناك لسنوات على الرّغم من تكرار التحذيرات بأنه غير آمن.

0:00 0:00
Speed:
August 13, 2020

استقالة الحكومة اللبنانية لن تحل مشكلة أساسها النظام

استقالة الحكومة اللبنانية لن تحل مشكلة أساسها النظام

(مترجم)

الخبر:

استقال رئيس الوزراء اللبناني يوم الاثنين وسط غضب شعبي من إهمال رسمي أدى إلى انفجار هائل وسبّب تدمير أجزاء من العاصمة، لكن إعلانه فشل في تهدئة الغضب في الشوارع.

وفي خطاب متلفز، قال رئيس الوزراء حسّان دياب إن مستوى الفساد "أكبر من الدولة" مما عجّل في الأحداث التي أدت إلى الانفجار، والذي اندلع في مستودع يحتوي على 2750 طناً من نترات الأمونيوم التي تم تخزينها هناك لسنوات على الرّغم من تكرار التحذيرات بأنه غير آمن.

وقال في إشارة واضحة إلى النخبة الحاكمة في البلاد "الله وحده يعلم عدد الكوارث التي يخبئونها". "لهذا السبب أعلن استقالتي اليوم. حفظ الله لبنان".

 وقال الرئيس ميشال عون إن دياب وحكومته سيبقون في مهام تصريف الأعمال حتى تشكيل حكومة جديدة، الأمر الذي قد يتطلب شهوراً من الجدل السياسي. وأصبح دياب رئيساً للوزراء في كانون الثاني/يناير، بعد استقالة سلفه سعد الحريري بعد احتجاجات ضخمة في الشوارع تطالب بإصلاح نظام الحكم الطائفي الفاسد في البلاد منذ عقود. وحظي تعيين دياب بتأييد من جماعة حزب الله المتحالفة مع إيران، التي دفعت لتشكيلته الوزارية.

وقال أشخاص على صلة بالحكومة إن دياب فقد دعم السياسيين الأقوياء الذين دعموا حكومته في الأصل. وكان هؤلاء السياسيون يخشون من أنه كان يذهب بعيداً في التحقيق في الفساد الذي سمح بترك نترات الأمونيوم بالبقاء في مستودع الميناء لمدة ست سنوات.

وقال أحد مستشاري حكومة دياب: "إنّ النظام أدرك أن دياب سيحقق في الميناء بشكل جدّي".

وقال المستشار إن إعلان دياب عن رفع قوانين السرية المصرفية الصارمة في لبنان عن 19 من مسؤولي الموانئ، الذين تمّ وضعهم رهن الإقامة الجبرية بعد الانفجار، أثار قلق السياسيين الذين شاركوا في الحكومات المتعاقبة خلال تلك السنوات. وقال أيضاً "لقد انزعج النظام بشأن شيء محدّد، وهو رفع السرية المصرفية. لقد تمّ ذلك من جانب واحد، من خلال محاكم بدون برلمان. "كانت علامة على أن دياب ربما لم يكن تحت السيطرة تماماً". (واشنطن بوست)

التعليق:

إنّ المسؤولية الكاملة عن الانفجار المأساوي في بيروت يجب أن تقع على عاتق السلطات اللبنانية، بغض النظر عمن تسبب في الانفجار، سواء عن طريق الصدفة أو عمداً. إنّ الحكومة اللبنانية هي التي فشلت على مدى ست سنوات في التخلص من آلاف الأطنان من المواد الكيماوية المتفجرة المخزّنة في مرفأ بيروت، لكن رئيس الوزراء حسان دياب تولّى منصبه منذ بداية العام الحالي، لذلك المشكلة أكبر بكثير من حكومته وحدها.

إنّ الفساد الذي وصفه دياب بأنه "أكبر من الدولة" يمكن أن يتسرّب إلى أي نظام ليُصبح غير فعّال. ومن المؤكد أن نظام لبنان غير فعّال بسبب انقساماته الطائفية الصارمة التي تتطلب من الرئيس أن يكون نصرانياً مارونياً، ورئيس الوزراء مسلماً سنياً، ورئيس مجلس النواب مسلماً شيعياً، وقائد القوات المسلحة درزياً، وعناصر أخرى... واستناداً إلى إحصائية عام 1932م تظهر غالبية السكان النصارى أن الحكومات المتعاقبة لطالما رفضت باستمرار تحديثها ومع ذلك، فإن الفساد في لبنان ليس مجرد عرض لخلل حكومته ولكنه متأصل في النظام الرأسمالي كما هو موجود أينما يتم تنفيذه، وعلى الأخص في البلدان الغربية المتقدمة، حيث تسيطر النخبة القوية خارج النظام على النظام... في أمريكا ها هي صناعة النفط، والمجمع الصناعي العسكري، والقطاع المالي، وشركات الأدوية العملاقة وغيرها الكثير، الذين يستغلون الجماهير لزيادة ثرائهم. ظاهرة الاستيلاء على النخبة نفسها موجودة في البلدان الإسلامية أيضاً كلما تم تطبيق الرأسمالية. كما يشير مقال الواشنطن بوست، فإن استقالة دياب ليست بسبب الضغط الشعبي المزعوم "الديمقراطي" ولكن لأنه كان على وشك فضح فساد النخبة اللبنانية، الذين هم في الواقع مجرد وكلاء محليين للنخبة الغربية.

الواعون سياسياً في الغرب يعرفون أن "الحرية" و"الديمقراطية" شعارات زائفة لا يمكن تنفيذها عملياً بشكل كامل، لكنهم يصرّون على هذه الشعارات لأنهم يعرفون أن الحكم يتطلب شيئاً يؤمن به الناس ويسعون من أجله. لقد صنعوا ديناً سياسياً مثلما صنعت نخب الماضي معتقدات المشركين، وأعطوا الجماهير أصناماً زائفة يمكنهم الإيمان بها وعبادتها، وهو دين مصمم لتخدم تعليماته سيطرة النخبة. حتى بعد قرنين من الزمان، لا تزال شعوب الغرب تحاول تطبيق "ديمقراطية حقيقية". فلماذا تصرّ البلاد الإسلامية على نظام يفشل حتى لدى أولئك الذين ابتكروه في الأصل؟!

إن الإسلام وحده الذي جاء بالنظام الصحيح للحكم الذي يضع كل السلطة مدى الحياة في يد فرد واحد، وهو الخليفة، مما يجعل من المستحيل عملياً على مصالح النخبة لكسب أي تأثير عليه. إن الخليفة يأخذ بيعة الأمة على تطبيق الشريعة وحدها والمحاسبة الكاملة في هذا الأمر أمام الأمة الإسلامية، وهو مزيج رائع طالما أن الأمة الإسلامية تأخذ مسؤولياتها السياسية بجدية. لقد سعى الغرب بشكل خبيث إلى تصوير الحكم الإسلامي على أنه نوع من الديكتاتورية الثيوقراطية، بينما الخليفة مُلزم بصرامة بالأحكام وأكثر استجابة للأمّة بشكل أكبر مما يسمى بالأنظمة الديمقراطية التي تخفي سيطرة احتكار القلة بشكل فاشل. بإذن الله، ستقوم الأمة الإسلامية وتلغي أنظمة الحكم الغربية التي تطبق الحكم الإمبريالي الكافر الأجنبي وتعيد إقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تطبق الإسلام، وتوحد بلاد المسلمين وتنشر نور الإسلام إلى العالم أجمع.

يقول الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست