استراتيجيات النظام نحو مزيد من استنزاف ثروات مصر  والخضوع للمؤسسات الغربية الاستعمارية
استراتيجيات النظام نحو مزيد من استنزاف ثروات مصر  والخضوع للمؤسسات الغربية الاستعمارية

نقلت وكالة أنباء الشرق الأوسط على موقعها الأحد 2024/11/17م، تأكيد الدكتور مصطفى مدبولي، رئيس مجلس الوزراء، أن الحكومة مُستمرة في العمل على جميع المحاور الاقتصادية التي من شأنها تعزيز استقرار الاقتصاد المصري ورفع معدلات النمو الاقتصادي بما يتماشى مع مستهدفاتنا المُخطط لها في هذا الصدد، جاء ذلك خلال ترؤسه اجتماع المجموعة الوزارية الاقتصادية،

0:00 0:00
Speed:
November 21, 2024

استراتيجيات النظام نحو مزيد من استنزاف ثروات مصر والخضوع للمؤسسات الغربية الاستعمارية

استراتيجيات النظام نحو مزيد من استنزاف ثروات مصر

والخضوع للمؤسسات الغربية الاستعمارية

الخبر:

نقلت وكالة أنباء الشرق الأوسط على موقعها الأحد 2024/11/17م، تأكيد الدكتور مصطفى مدبولي، رئيس مجلس الوزراء، أن الحكومة مُستمرة في العمل على جميع المحاور الاقتصادية التي من شأنها تعزيز استقرار الاقتصاد المصري ورفع معدلات النمو الاقتصادي بما يتماشى مع مستهدفاتنا المُخطط لها في هذا الصدد، جاء ذلك خلال ترؤسه اجتماع المجموعة الوزارية الاقتصادية، وقال المستشار محمد الحمصاني، المتحدث الرسمي باسم رئاسة مجلس الوزراء، إن الاجتماع تناول سُبل تسريع جهود التحول إلى الطاقة النظيفة، بما يُسهم في تحقيق مستهدفات الدولة المصرية للوصول بالطاقة النظيفة إلى 42% من مزيج الطاقة بحلول عام 2030، كما أوضح أن الاجتماع ناقش آخر تطورات برنامج الطروحات الحكومية، حيث تم استعراض الكيانات الجاري الانتهاء من الإجراءات المُنظمة لعمليات طرح حصص محددة منها خلال الفترة المقبلة، ومن بينها كيانات في قطاعات البنوك والمطارات والمستحضرات الطبية والبلاستيك والزجاج والبتروكيماويات، وأشار الحمصاني إلى أن هناك نحو 15 طرحاً مُستقبلياً لكيانات في قطاعات مختلفة إلى جانب الكيانات التي يجري الانتهاء من عملية الطرح الخاص بها خلال الفترة المقبلة، وحتى نهاية العام المالي الجاري، وفي هذا السياق، وجّه رئيس الوزراء بسرعة الانتهاء من طرح الكيانات التي انتُهي من الإجراءات الخاصة بها، بما يُسهم في تحقيق مستهدفات الحكومة في هذا الشأن.

التعليق:

يواصل النظام المصري الإمعان في سياساته الكارثية التي يجر بها البلاد إلى مستنقع الأزمات مدعيا أنها خطط استراتيجية، لتعزيز الاقتصاد المصري، وتنويع مصادر النمو، والتوجه نحو التحول للطاقة النظيفة. في ظاهر الأمر، تبدو هذه الخطط طموحة ومبشّرة، ولكن قراءة الواقع السياسي والاقتصادي في مصر بشكل صحيح تضع هذه السياسات في سياق مختلف تماماً. فهذه التصريحات والمبادرات هي استمرار لسياسات تتبع إملاءات المؤسسات الدولية والاستعمارية، بعيداً عن الحلول الحقيقية الجذرية التي تنهض بمصر فعلاً وتعيد إليها عزتها وسيادتها.

أما عن رفع نسبة الطاقة النظيفة إلى 42% بحلول عام 2030، مع خفض الانبعاثات الكربونية، فيأتي في ظل التزام النظام باتفاقيات دولية مثل اتفاقية باريس للمناخ، التي تفرض على الدول النامية مسارات اقتصادية لا تتناسب مع احتياجاتها الفعلية ولا تراعي أولوياتها.

فهذه السياسات تُنفذ لإرضاء الغرب ومؤسساته الاستعمارية التي تقود أجندة المناخ، ليس من أجل حماية البيئة، بل لفرض شروط تمويلية قاسية واستعباد اقتصادي جديد. فيتم الزج بالبلاد في التزامات دولية تستهلك مواردها وتضعف اقتصادها أكثر.

أما تلك الطروحات لخصخصة مؤسسات في قطاعات استراتيجية مثل البنوك والمطارات والبتروكيماويات فإنها استمرار لسياسات الخصخصة التي دُشنت منذ عقود تحت ضغوط صندوق النقد الدولي والبنك الدولي، وهي سياسات لا تهدف إلا إلى تمكين الشركات متعددة الجنسيات ورأس المال الغربي من السيطرة على مقدرات الأمة، وحرمانها من مواردها الأساسية، فهذه الطروحات ليست إلا بيعاً لممتلكات الأمة التي يجب أن تكون في إطار الملكية العامة كما حددها الإسلام، لتستفيد منها الأمة بأسرها.

إن هذه السياسات وما تجره من كوارث وويلات لا تخدم سوى الغرب وشركاته الناهبة والمنتفعين من النظام والنخب المرتبطة بالغرب والتي تسعى لاستنزاف موارد الأمة وتحقيق مصالحها على حساب مصر وأهلها، فيستمر النظام في استنزاف أهل مصر عبر سياسات تقشفية، ورفع للضرائب، وأسعار المحروقات وباقي السلع والخدمات، وخصخصة المؤسسات، ما يؤدي إلى إفقار قطاعات واسعة من الناس، وتصبح مصر خادماً مطيعاً ينفذ مخططات الغرب على الساحات والمحافل الدولية ولو على حساب أهلها ومن دمائهم لو تطلب الأمر.

إن النهضة الحقيقية لا يمكن أن تتحقق إلا بتحرر الأمة من التبعية للغرب ومؤسساته، واستعادة سيادتها على مواردها، فيجب أن يكون القرار الاقتصادي بعيدا عن إملاءات الغرب ومؤسساته الاستعمارية، مبنياً على أحكام الإسلام وفي ظل دولته التي تطبقه تطبيقا كاملا شاملا يوجد العدل والرخاء والرفاهية لجميع الناس.

وإن كل الحلول التي يطرحها النظام المصري هي سم زعاف يتجرعه الناس رغما عنهم وهي استمرار في طريق خاطئ لن يؤدي إلا إلى مزيد من الفقر والتبعية، ولا سبيل لنهضة مصر ولا الأمة ولا نهاية لأزماتها إلا باقتلاع الرأسمالية أصل الداء وسبب كل بلاء بسياساتها وبرامجها التي تهدف لاستعباد الشعوب ونهب ثرواتهم، واقتلاع لكل أدواتها ومنفذيها والمرتبطين بها من الحكام العملاء والنخب الفاسدة، ومن ثم تطبيق نظام الإسلام كاملا شاملا في كل مناحي الحياة، في ظل الإسلام ودولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تعيد للأمة عزتها وسيادتها، وتحررها من هيمنة الغرب ومؤسساته الاستعمارية.

إن تطبيق الإسلام فوق كونه هو وحده ما يصلح حال مصر وأهلها إلا أنه يجب أن يطبق لكونه أحكاما شرعية واجبة التطبيق ننال بها ومن خلال تطبيقها رضا الله عز وجل بإقامة دولته التي تطبق أحكام شرعه فنستحق بهذا جنته سبحانه، وضمناً فإن تطبيق الإسلام هو وحده الضامن لرخاء الناس ورغد عيشهم في حياتهم الدنيا في ظل كفالة الإسلام ورعاية أحكامه التي تطبقها دولته؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

﴿وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود الليثي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست