استراتيجية تركيا الفاشلة لمكافحة الجائحة هي الإغلاق
استراتيجية تركيا الفاشلة لمكافحة الجائحة هي الإغلاق

الخبر:   جاء في البيان الصادر عن وزارة الداخلية "أنه تم تطبيق إجراءات قضائية وإدارية على 66.161 شخصا انتهكوا قيود حظر التجوال المطبقة في جميع أنحاء البلاد بين 26 نيسان/أبريل و3 أيار/مايو".

0:00 0:00
Speed:
May 08, 2021

استراتيجية تركيا الفاشلة لمكافحة الجائحة هي الإغلاق

استراتيجية تركيا الفاشلة لمكافحة الجائحة هي الإغلاق

الخبر:

جاء في البيان الصادر عن وزارة الداخلية "أنه تم تطبيق إجراءات قضائية وإدارية على 66.161 شخصا انتهكوا قيود حظر التجوال المطبقة في جميع أنحاء البلاد بين 26 نيسان/أبريل و3 أيار/مايو".

التعليق:

نظرا لتزايد عدد الإصابات فقد قررت تركيا تقييد حظر التجوال بدوام كامل يوم الخميس 29 نيسان 2021، وسينتهي في الساعة الخامسة صباحا من يوم الاثنين 17 ايار/مايو 2021، بغض النظر عن أيام الأسبوع وعطلات نهاية الأسبوع. بعد ذلك اليوم شهدنا أن الشرطة التي مهمتها الأساسية حفظ النظام، تطارد الأشخاص الذين لا يطيعون الحظر في مختلف مدن البلاد على وسائل التواصل المرئي والإلكتروني، كما قامت بمداهمة الحفلات المحرمة وتغريم الناس في المقاهي ودور السياحة وإقامة الحواجز في الشوارع ورش المعتكفين في المساجد بالغاز المسيل للدموع.

وبموجب القيود فقد تم حبس الملايين من الناس في دورهم من ذوي الدخل المحدود، وتم كذلك إغلاق المتاجر الصغيرة، باستثناء بعض بائعي الزهور والبائعين المتجولين الذين كانوا يعيشون بدخلهم اليومي من العمل لكسب لقمة العيش. لقد رأينا الناس الذين لا يريدون قضاء الوقت وعطلة العيد بالإغلاق وبين أربعة جدران في المدن التي يعيشون فيها، رأيناهم كيف يتدفقون على منازلهم وقراهم وبلداتهم، ترى لماذا؟

لأن قرار الإغلاق الذي اتخذته تركيا، والذي تتبع فيه الدول الغربية بشكل أعمى، هو ضد تدفق الحياة، لأن الحياة تتدفق، فمن الحماقة حصر الحياة في المنازل أو محاولة منعها من التدفق، لأن الإنسان كائن اجتماعي ومن المخالف للطبيعة البشرية أن يُمنع من التواصل مع الناس. لذلك، ورغم الحظر، نرى أشخاصا يتجولون في الأحياء يأخذون الحقائب ويقتحمون السوق والأطفال يلعبون في الشوارع والأماكن العامة. ولذلك كان لا بد للنظام أن يغض النظر عن ذلك كله لأنه لا يستطيع وضع ضابط شرطة في كل شارع أو حي.

منذ آذار من العام الماضي كانت البلاد تُغلق تارة وتُفتح تارة اخرى. فتُغلق البلاد عندما يزداد عدد الإصابات وتُفتح عندما ينخفض العدد. فعند فتحها، يتم اعتماد استراتيجية الإغلاق الجزئي أو الكامل لمنع انهيار القطاع الصحي مع زيادة الإصابات أو من أجل عدم حرمان البلاد من الدخل السياحي في الصيف. لأن انهيار القطاع الصحي سينعكس على أردوغان بشكل سلبي كما حصل في الهند وهذا بدوره سيؤثر على انتخابات عام 2023. أو أن الزيادة في عدد الإصابات والوفيات والمرضى ستمنع السياح من القدوم إلى تركيا وهذا يعني حرمانها من دخل يتراوح بين 34-40 مليار دولار. كما هو واضح فإن الدولة تتبع نموذج "فتح-إغلاق" وفقا للحالة التي تواجهها.

عندما أصبح عدد حالات كورونا غير مخفية وتحولت جميع البلاد إلى "الضوء الأحمر" في تطبيق "الحياة هي البيت"، زادت حالات كوفيد-19 فيتم اتباع نموذج "إغلاق". أما نموذج "فتح" فتتم الاستعانة به لمنع الذروة الثانية والثالثة للجائحة، عندما ينخفض عدد الإصابات وتتحول البلاد إلى "اللون الأخضر".

لقد رأينا جميعا أن نموذج "فتح-إغلاق" غير ناجح وغير صحيح. إذن ما هو الحل الصحيح والحقيقي؟ الإسلام يحجر على الفور المكان الذي يظهر فيه الوباء لأول مرة ويحظر الدخول والخروج منه وإليه، ولا يتعامل مع الوباء بمظهر اقتصادي مالي بحت، بل بشكل إنساني، إذ لا يمكنه أن يمنع تدفق الحياة واستمرارها. فهو يحافظ على بقاء الحياة على مسارها الطبيعي، وهو لا يحبس الناس في منازلهم، وتوظف الدولة كل طاقاتها وقدراتها لمعالجة الوباء بين الناس. وبالتالي يمنع من البداية انتشار الوباء إلى مناطق أخرى، وحتى لو انتشر - وهذا لن يحدث - فهو لا يتبع نموذج "فتح-إغلاق"، فالحياة تستمر وتتدفق بشكل طبيعي وبكل مظاهرها، وفي الوقت نفسه تتخذ الدولة جميع التدابير اللازمة لمكافحة الوباء. واليوم وعلى الرغم من عدم ظهوره ابتداء في تركيا فإن الوباء انتشر في جميع أنحاء البلاد بسبب الاستراتيجية الخاطئة التي اتبعها النظام بالدرجة الأولى. فلو تم من البداية اتباع واتخاذ استراتيجية صحيحة فإن كل ذلك لم يكن ليحدث. يجب على النظام أن يتعظ ويعتبر من هذا، ويؤمل أن يتبع الاستراتيجية التي حددها الإسلام بدلا من اتباع نموذج "فتح-إغلاق" في الأوبئة اللاحقة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إرجان تكين باش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست