اتفاقية احتلال الأردن عسكريا
اتفاقية احتلال الأردن عسكريا

الخبر:   نشرت الجريدة الرسمية في الأردن نص اتفاقية التعاون الدفاعي ‫بين عمان وواشنطن والتي بدأ سريانها الثلاثاء 23/3/2021، وكان قد تم توقيع الاتفاقية في 31 كانون الثاني/يناير الماضي، وأقرتها الحكومة في 17 شباط/فبراير الماضي، وقد صدرت الإرادة الملكية بالموافقة على الاتفاقية لتنشر في الجريدة الرسمية وتصبح سارية المفعول.

0:00 0:00
Speed:
March 28, 2021

اتفاقية احتلال الأردن عسكريا

اتفاقية احتلال الأردن عسكريا

الخبر:

نشرت الجريدة الرسمية في الأردن نص اتفاقية التعاون الدفاعي ‫بين عمان وواشنطن والتي بدأ سريانها الثلاثاء 23/3/2021، وكان قد تم توقيع الاتفاقية في 31 كانون الثاني/يناير الماضي، وأقرتها الحكومة في 17 شباط/فبراير الماضي، وقد صدرت الإرادة الملكية بالموافقة على الاتفاقية لتنشر في الجريدة الرسمية وتصبح سارية المفعول.

التعليق:

بالرغم من أن الاتفاقية تحمل عنوان التعاون الدفاعي فإن جميع موادها البالغة 19 مادة لم تأت على ذكر أي شكل من أشكال الدفاع عن الأردن أو (أمريكا من قِبل الأردن). ولم تأت على ذكر أي خطر يهدد الأردن ما يستدعي وجود قوات أمريكية لتدافع عنه. ولم تأت على ذكر أي التزامات أمريكية للأردن. فجميع مواد الاتفاقية جاءت لتؤكد التزام الأردن بتقديم كافة ما يلزم لتسهيل وتمكين الوجود العسكري الأمريكي في الأردن، وهي تشبه إلى حد كبير اتفاقيات الاحتلال الأمريكي لليابان وألمانيا وكوريا. والفرق أن تلك الاتفاقيات جاءت بعد حروب طاحنة ومنها نووية أدت إلى إجبار ألمانيا واليابان مثلا على توقيع اتفاقيات عسكرية مع أمريكا.

فقد جاءت مواد الاتفاقية التي تم عقدها مع الأردن تبين آلية تمكين أمريكا من احتلال الأردن عسكريا وبدون أي حرب عسكرية، أو التزام أمريكي أيا كان نوعه تجاه الأردن.

وفيما يلي مقتطفات تبين طبيعة معاهدة الاحتلال:

جاء في المادة (2): "يجوز لقوات الولايات المتحدة حيازة وحمل الأسلحة في الأراضي الأردنية أثناء تأدية مهامها الرسمية".

 وجاء في المادة (3): "يوفر الأردن لقوات الولايات المتحدة وأفراد الولايات المتحدة ومتعاقدي الولايات المتحدة وغيرهم... إمكانية الوصول إلى المرافق والمناطق المتفق عليها واستخدامها بدون عوائق للقيام بأنشطة تشمل الزيارات؛ والتدريب؛ والتمارين؛ والمناورات؛ والعبور... وإقامة الأفراد؛ والاتصالات؛ وتجميع ونشر القوات والمواد... والأنشطة الأخرى... ويجوز تخصيص مثل تلك المرافق للاستخدام الحصري من قِبل قوات الولايات المتحدة، كما ‫يوفر الأردن جميع المرافق والمناطق المتفق عليها للولايات المتحدة بدون إيجار أو تكاليف مشابهة".

ومكنت المادة (4) أمريكا من التمركز المسبق وتخزين المعدات والإمدادات والمواد المختلفة.

وأكدت المادة (6) حق الأمريكان بالدفاع عن أنفسهم دون التعرض لأي مسؤولية حيث ورد فيها "للقادة العسكريين للولايات المتحدة حق متأصل في الدفاع عن النفس ويجوز لهم الرد حسب الضرورة على أي تهديد أمني وشيك".

أما المادة (7) فقد أكدت حق قوات الولايات المتحدة وأفرادها بالدخول إلى الأراضي الأردنية والخروج منها ‫ولن يطلب الأردن منها جوازات سفر أو تأشيرات للدخول إلى الأراضي الأردنية والخروج منها.

...وهكذا جاءت جميع المواد تبين بكل صراحة أو وقاحة آلية الاحتلال التام والذي لا يعوقه أي معوق مطلقا ودون أية تكاليف أو التزامات مقابل هذ الاحتلال المشين.

لا يوجد أدنى شك أن هذه الاتفاقية ليست اتفاقية تعاون دفاعي، بل هي اتفاقية احتلال عسكري كامل. ولما كانت الاتفاقية جاءت دون مبررات ولا مقدمات ولا حرب أدت إلى استسلام الأردن، فما هو المبرر لمثل هذه الاتفاقية؟! وما هو الثمن الذي تم قبضه لتمرير هكذا اتفاقية تجعل السيادة المطلقة للجيش الأمريكي على النواحي العسكرية في الأردن؟ ومن الذي قبض الثمن؟ أي من هو الطرف الذي سلم الأردن هكذا وبكل بساطة لاحتلال خارجي؟ وما هو الثمن الذي قبضه لقاء كل ذلك؟ مثل هذه الأسئلة لم يتم طرحها في مجلس النواب الأردني ولم تتم الإجابة عليها من أي مسؤول في الأردن!

ولكن الإجابة في الحقيقة لا تحتاج إلى كلمات وتبريرات أحد. فالأردن منذ إنشائه وهو فاقد السيادة وفاقد المبرر السياسي لوجوده، ناهيك عن المبرر الشرعي. فبريطانيا أنشأت الأردن لفترة انتقالية ريثما يتم البت في موضوع فلسطين وكيان يهود وكيف سيكون ترتيب الكيان السياسي الذي يستوعب وجود كيان لليهود إما كاملا مستقلا أو جزءاً من كيان آخر. ولم يتم البت في هذا الأمر حتى الآن، وبالتالي بقي وضع الأردن منذ ذلك التاريخ انتقاليا. ومن يتولى إدارة الأردن يعلم هذا الواقع تمام العلم، وبالتالي لا يهمه من قريب أو بعيد سيادة الكيان أو خضوعه للحماية أو الاحتلال، فهو حارس مؤقت ليس أكثر. وقد بقي الكيان الأردني عمليا تحت الحماية البريطانية بموجب معاهدة الحماية التي تم إنهاؤها (وليس إلغاءها) عام 1956. والآن جاءت أمريكا وفرضت هيمنتها العسكرية على المقدرات العسكرية في الأردن. وهذه المقدرات العسكرية كان قد تم تسخيرها منذ إنشائها إلى حماية النظام في الأردن وتمكينه من إدارة شؤونه إلى أن يتم البت في أمر هذا الكيان نهائيا بناء على ما يتمخض عن قضية فلسطين وكيان يهود التي لا زالت تراوح مكانها. ولا شك أن الهيمنة العسكرية الأمريكية على المقدرات العسكرية الأردنية قد تفقدها المقدرة على تأدية دورها السابق والمحصور بحماية النظام، ما يجعل لأمريكا القدرة على التحكم بمستقبل النظام في الأردن سواء بالإبقاء عليه أو تغييره أو تغيير ولاءاته دون أن يكون للعسكر في الأردن المقدرة على حماية النظام.

فهل يدرك النظام في الأردن مدى خطورة الاتفاقية على وجوده وتبعيته؟ لا شك أنه يدرك ذلك تمام الإدراك فإن لم يكن إدراكا ذاتيا فلا أقل من معرفة أسياده في بريطانيا بمثل هذه الخطورة. ومن ثم فإن إقدامه على مثل هذه الاتفاقية لا يخلو من أحد احتمالات؛ أولها أن الأمر خارج عن إرادة الأردن ومقدرته على دفع الاتفاقية خاصة وأن الوجود العسكري الأمريكي في الدول المجاورة مثل العراق وسوريا أمر واقع، والأردن ليس عصيا ولا بعيدا عن ذلك. والثاني أن بريطانيا الحامي الأول للأردن تخلى عن حمايته وترك لأمريكا حرية التصرف فيه (وهذا احتمال بعيد). والثالث أن صاحب الصلاحية في ترتيب الاتفاقية وتوقيعها قبض ثمنا عاليا مقابل الاتفاقية. ولا يستبعد أن يكون الأمر هو مزيجاً من هذه الاحتمالات.

وختاما نذكّر بأنه:

مَنْ يَهُنْ يَسْهُلِ الهَوَانُ عَلَيهِ *** ما لجُرْحٍ بمَيّتٍ إيلامُ

والله تعالى يقول: ﴿بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَاباً أَلِيماً * الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ * أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ للَّهِ جَمِيعاً﴾ [النساء: 138-139]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست