اتحاد علماء المسلمين يحذر من نقل سفارة أمريكا إلى القدس!
اتحاد علماء المسلمين يحذر من نقل سفارة أمريكا إلى القدس!

الخبر:  الجزيرة: حذر الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين من عواقب نقل السفارة الأمريكية من تل أبيب إلى القدس المحتلة، ودعا الأمة الإسلامية لنصرة القضية الفلسطينية. وقال الاتحاد في بيان له يوم السبت إن تعهد الرئيس الأمريكي الجديد دونالد ترامب بنقل سفارة بلاده إلى القدس المحتلة مخالفة صريحة لقرارات الأمم المتحدة، وطالب المنظمات الدولية بحماية حقوق الفلسطينيين الشرعية والقانونية. كما حث الأمة الإسلامية وقادتها على القيام بواجبهم تجاه قضية القدس وفلسطين، وقال إن "ما أصاب العالم الإسلامي من تفرق وتمزق هو ما شجع الطامعين المتربصين على انتهاز هذه الفرصة لمزيد إضعاف الأمة". وقال الاتحاد إن "الأمة الإسلامية بمفكريها وعلمائها وقادتها لن تقبل بنقل السفارة الأمريكية إلى القدس الشريف، لأن هذا السلوك يبث روح النزاع والشقاق، ويدعم أصحاب الأفكار المتشددة، ويدعو إلى إشعال نار الكراهية ضد من يعتدون على حقوق الشعب الفلسطيني".

0:00 0:00
Speed:
January 23, 2017

اتحاد علماء المسلمين يحذر من نقل سفارة أمريكا إلى القدس!

اتحاد علماء المسلمين يحذر من نقل سفارة أمريكا إلى القدس!

الخبر:

 الجزيرة: حذر الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين من عواقب نقل السفارة الأمريكية من تل أبيب إلى القدس المحتلة، ودعا الأمة الإسلامية لنصرة القضية الفلسطينية.

وقال الاتحاد في بيان له يوم السبت إن تعهد الرئيس الأمريكي الجديد دونالد ترامب بنقل سفارة بلاده إلى القدس المحتلة مخالفة صريحة لقرارات الأمم المتحدة، وطالب المنظمات الدولية بحماية حقوق الفلسطينيين الشرعية والقانونية.

كما حث الأمة الإسلامية وقادتها على القيام بواجبهم تجاه قضية القدس وفلسطين، وقال إن "ما أصاب العالم الإسلامي من تفرق وتمزق هو ما شجع الطامعين المتربصين على انتهاز هذه الفرصة لمزيد إضعاف الأمة".

وقال الاتحاد إن "الأمة الإسلامية بمفكريها وعلمائها وقادتها لن تقبل بنقل السفارة الأمريكية إلى القدس الشريف، لأن هذا السلوك يبث روح النزاع والشقاق، ويدعم أصحاب الأفكار المتشددة، ويدعو إلى إشعال نار الكراهية ضد من يعتدون على حقوق الشعب الفلسطيني".

التعليق:

خمسون عاما مضت على احتلال القدس، وما يقرب من سبعين عاما من احتلال فلسطين ولم نر تحركا لجيوش المسلمين لتحرير القدس وفلسطين، ولكن ما نراه هو تسابق حكام المسلمين على الصلح مع يهود...

إذا كنتم أيها العلماء غيورين حقا على القدس فإن القدس بحاجة إلى تحرير، بحاجة إلى همة العلماء لكي يقفوا صفا واحدا ويقودوا الجيوش لتحرير القدس كما صنع صلاح الدين الأيوبي رحمه الله. إن القدس بحاجة لكم لكي تقفوا صفا واحدا في وجه القادة والحكام الذين يجتمعون مع حكام يهود، وقبل أن تدعوا وقوفكم في وجه أمريكا ونقل سفارتها إلى القدس، اسبقوا أمريكا وحرروا القدس وفلسطين، وخلصوا العالم من ظلم أمريكا وكيان يهود.

أيها العلماء! أنكروا على حكامكم التطبيع مع كيان يهود، أنكروا عليهم خيانتهم، اصنعوا أيها العلماء صنيع العز بن عبد السلام رحمه الله عندما كان في دمشق، وكان الحاكم رجلاً يقال له الملك الصالح إسماعيل، من بني أيوب، فولى العز بن عبد السلام خَطابة الجامع الأموي، وبعد هذه الفترة قام هذا الملك بالتحالف مع أعداء المسلمين، فحالفهم، وسلم لهم بعض الحصون، كقلعة الشقيف وصفد، وبعض المدن، من أجل أن يستعين بهم على قتال الملك الصالح أيوب في مصر، تعاون مع أعداء المسلمين ليتقوى بهم فينتصر على المسلمين، إنه مسلم يستعين بكافر على قتال مسلم! - أرأيتم إلى التاريخ كيف يعيد نفسه - فلما رأى العز بن عبد السلام هذا الموقف الموالي لأعداء المسلمين لم يصبر، فصعد المنبر، وتكلم، وأنكر، وقالها صريحةً، وقطع الدعاء، وختم الخطبة بقوله: اللهم أبرم لهذه الأمة أمراً رشدا، تعز به وليك، وتذل فيه عدوك، ويؤمر فيه بالمعروف، وينهى فيه عن المنكر، ثم نزل، وعرف الأمير الملك الصالح أنه يريده، فغضب عليه غضباً شديداً، وأمر بإبعاده عن الخطابة، وسجنه وكان الملك الصالح إسماعيل قد عقد اجتماعاً مع بعض زعماء أعداء المسلمين، وكان اجتماعهم قريباً من العز بن عبد السلام، حيث يسمعون قراءته للقرآن، فقال: هل تسمعون هذا الذي يقرأ؟ قالوا: نعم، فقال متفاخراً: هذا هو أكبر علماء المسلمين سجناه لأنه اعترض علينا في محالفتنا لكم، وتسليمنا لكم بعض الحصون، والقلاع، واتفاقنا معكم على قتال المصريين، فقال له ملوك الأعداء: لو كان عندنا رجل بهذا الإخلاص للأمة، وبهذه القوة، وبهذه الشجاعة، لكنا نغسل رجليه، ولشربنا الماء الذي غسلنا به رجليه، فأصيب الملك بالخيبة والذل.

كونوا أيها العلماء كالعز بن عبد السلام أو ابن تيمية أو غيرهما من علماء المسلمين الذين نصروا الله فنصرهم الله، وقفوا مواقفهم التي غيرت مجرى التاريخ، سيروا على نهجهم وغيروا مجرى التاريخ وأعيدوا وحدة الأمة الإسلامية، بإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد سليم – فلسطين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست