عذراً غزة...
عذراً غزة...

مرور قرابة الشهرين على عملية طوفان الأقصى وعدوان كيان يهود على قطاع غزة...

0:00 0:00
Speed:
November 30, 2023

عذراً غزة...

عذراً غزة...

الخبر:

مرور قرابة الشهرين على عملية طوفان الأقصى وعدوان كيان يهود على قطاع غزة...

التعليق:

في زمن عز فيه الرجال وكثر فيه أشباه الرجال، وأنا أتحدث عن قادة الجيوش العربية، الذين يفتخرون بأنهم تخرجوا من أرقى الأكاديميات العسكرية الغربية، مثل ساند هيرست الإنجليزية، وبوينت الأمريكية وغيرهما كثير، إذ تعلموا في هذه الأكاديميات الخوف والخنوع، وعلمهم أسيادهم كيف يكون قتل الأطفال والشيوخ وهم يتفرجون على هذه المجازر التي ترتكب في حق المدنيين، وعلموهم أن العقيدة العسكرية تُلزمهم بالولاء للحكام العملاء الخونة، وعلموهم كيف يدافعون عن عروش الحكام الفاسدين، وعلموهم كيف يُسكتون صوت الحق بالرصاص والغاز المسيل للدموع!

أمّا أبطال غزة فقد تعلموا في أكاديميات الكرامة وعزة النفس والشجاعة والإيمان بالله، والثقة بوعد الله سبحانه، وبالقدرات الذاتية البسيطة، والفوز بالشهادة والتطلع إلى الانتقال من دار الفناء إلى دار البقاء عبر أقصر الطرق، وهي الشهادة في سبيل الله والقتال حتى نيلها، لذلك ارتقوا إلى أعلى درجات الشرف، وهبط غيرهم إلى أدنى درجات الذل والعار.

فجيش يهود في طوفان الأقصى لم يواجه جيشا عربيا جرارا، وقادة أصحاب كروش يعلقون نياشين وهمية علقها على صدورهم زعماء وعملاء خونة من أجل شراء ذممهم، بل واجه أحفاد خالد بن الوليد، وسعد، والقعقاع، وطارق بن زياد، وصلاح الدين، فقد دخلوا التاريخ من أوسع أبوابه، إذ تعلموا الشجاعة والمروءة والإيمان والنصر.

واليوم وقد مرّ قرابة الشهرين على أبطال المقاومة وهم صامدون، فإننا لم ولن نسمع أن هناك دولة عربية أو أجنبية واحدة أمدتهم بالسلاح أو الذخيرة، بل أقصى ما فعله الأشقاء هو قناني ماء ومساعدات إنسانية بسيطة! وأما الغرب الكافر وعلى رأسه أمريكا فقد مدّوا جسراً جوياً لنقل القنابل والعتاد والصواريخ والأسلحة إلى كيان يهود المجرم.

يا أهل غزة: أنتم أكرم منا جميعاً، أنتم أطهر من هؤلاء المتخاذلين، أنتم أطهر من أولئك الحكام الذين ينعمون الآن في قصورهم على موائد الخمر والنبيذ والدعارة. هؤلاء هم ورثة أبي رغال، أخزاهم الله في الدنيا والآخرة، فلا تعولوا على ملوك السعودية والأردن والمغرب، ورؤساء وقادة الدول العربية، فكلهم مشغولون بملذاتهم، ولا يهمهم نواح الثكالى ولا عويل الأرامل... أخزاهم الله.

شعب صغير بسيط العدة على مساحة محدودة بلا ماء، ولا كهرباء، يعيش في ظلام تحت القصف وهو صابر يضمد جراحه، إلا أنه يخيف العالم ويرعب الحكام، وصار يهدد عروش الجبابرة المتسلطين، ويهدد دولاً عظمى نووية وحربية، والغريب أن حكام الخزي والعار يطالبون بعدم التصعيد، لأنهم يساوون ما بين كيان غاصب مجرم يملك الصواريخ والطائرات والدبابات والقنابل، كيان يتلقى الدعم من واشنطن وأوروبا، وبين شعب لا يملك شيئاً سوى عقيدته التي يحيا ويموت من أجلها، فعزاؤه الوحيد هو تلك العقيدة التي ورثها عن أجداده، وورث الرجولة والمقاومة التي هي أخطر من جميع أسلحتهم، لذلك نرى كيان يهود لا يبالي بجميع المجازر التي يرتكبها بحق الأبرياء العزل، لأنه على يقين أن الذي سوف يحدث هو مسيرات وتجمعات لجماهير تصرخ عبر الفضائيات لأيام وبعدها يعود الجميع إلى منازلهم لاهثين وراء لقمة العيش!

لكم الله يا أهل غزة، فلا تعولوا على شعوب بات همها لقمة العيش، وحكام ليس عندهم أكثر من نباح التنديد والشجب، حتى وإن بكينا عليكم دماً فأنتم من يحترق، وما نحن إلا ممن يشاهد دخان هذا اللهب على الفضائيات التي يرعاها الحكام الخونة بأموالهم ودعمهم، ثم يقتلوننا نحن بمشاهد موتاكم.

إن النكبة التي يتحدث عنها الإعلام ليست هي نكبة ضياع فلسطين، بل النكبة الحقيقية هي يوم ضاعت دولة المسلمين، يوم أن تآمر عليها الخونة من حكام البلاد الإسلامية، فبضياعها ضاعت فلسطين، وضاعت كشمير، وضاعت قبرص، وضاع جميع إرث أجدادنا العظام. ضاعت فلسطين التي حررها خليفة رسول الله ﷺ الفاروق عمر بن الخطاب رضي الله عنه، والتي حكمت في عهده بالوثيقة العمرية.

وضاعت مرة أخرى وحررتها جيوش الإسلام وأعادتها إلى الدولة الإسلامية مرة أخرى. وما إن هدمت الخلافة العثمانية حتى ضاعت فلسطين بالكامل وضاعت معها العزة والكرامة، فلا عزة ولا كرامة ولا حياة حرة كريمة إلا بوجود دولة تحمي وتذود عن الحمى الإسلامية، لتحميها من طمع الطامعين وعبث العابثين.

نسأله تعالى أن يعجل فرجه بعودة دولتنا، وعزنا، وكرامتنا، وما ذلك على الله ببعيد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مؤنس حميد – ولاية العراق

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست