أونغ سان سو كي تنفي التطهير العرقي لمسلمي الروهينجا في ميانمار!! درس في الطبيعة المتقلبة للبوصلة الأخلاقية للديمقراطية (مترجم)
أونغ سان سو كي تنفي التطهير العرقي لمسلمي الروهينجا في ميانمار!! درس في الطبيعة المتقلبة للبوصلة الأخلاقية للديمقراطية (مترجم)

الخبر: في مقابلة مع هيئة الإذاعة البريطانية (بي بي سي) في السادس من نيسان/أبريل، نفت رئيسة حكومة ميانمار أونغ سان سو كي، التي كانت تشيد بها الحكومات الغربية كرمز للقتال من أجل الديمقراطية وحقوق الإنسان، نفت أن هناك تطهيراً عرقياً لمسلمي الروهينجا في البلد على الرغم من الأدلة الواسعة الانتشار على عكس ذلك. كما ادعت أن العنف في ولاية راخين، موطن مسلمي الروهينجا،

0:00 0:00
Speed:
April 11, 2017

أونغ سان سو كي تنفي التطهير العرقي لمسلمي الروهينجا في ميانمار!! درس في الطبيعة المتقلبة للبوصلة الأخلاقية للديمقراطية (مترجم)

أونغ سان سو كي تنفي التطهير العرقي لمسلمي الروهينجا في ميانمار!!

درس في الطبيعة المتقلبة للبوصلة الأخلاقية للديمقراطية

(مترجم)

الخبر:

في مقابلة مع هيئة الإذاعة البريطانية (بي بي سي) في السادس من نيسان/أبريل، نفت رئيسة حكومة ميانمار أونغ سان سو كي، التي كانت تشيد بها الحكومات الغربية كرمز للقتال من أجل الديمقراطية وحقوق الإنسان، نفت أن هناك تطهيراً عرقياً لمسلمي الروهينجا في البلد على الرغم من الأدلة الواسعة الانتشار على عكس ذلك. كما ادعت أن العنف في ولاية راخين، موطن مسلمي الروهينجا، كان جزئيا بسبب قتل المسلمين بعضهم وليس التطهير العرقي. ورفضت هذه الفتاة الذهبية للديمقراطية، وزعيمة الرابطة الوطنية للديمقراطية في البلاد، التحدث للدفاع عن حقوق هذه الأقلية المضطهدة، كما أخفقت في إدانة الحملة العسكرية الوحشية على الروهينجا في تشرين الأول/أكتوبر من العام الماضي والتي قتل فيها المئات كما أجبر 75 ألفا على الفرار حفاظا على حياتهم إلى بنغلاديش. بالإضافة إلى ذلك، تم منع الصحفيين الدوليين من الوصول إلى ولاية راخين للإبلاغ عن العنف والأوضاع المروعة التي تواجه مسلمي الروهينجا. وعلق فيرغال كين، الصحفي في هيئة الإذاعة البريطانية الذي أجرى المقابلة مع سو كي قائلا: "هناك مفارقة عميقة هنا. أنا وصحفيون آخرون في آسيا نتذكر الأيام التي كان فيها النظام العسكري الذي ندد بإبلاغنا عن انتهاكات حقوق الإنسان واتهمنا بالمبالغة. الآن هذه الشكاوى يتم تسويتها من قبل حكومة منتخبة ديمقراطيا يقودها سجين سياسي سابق".

التعليق:

إن نفي سو كي العنيد لدوافع سياسية من التطهير العرقي ومحاولات منع اكتشاف الرعب الحقيقي الذي يواجه مسلمي الروهينجا لا يمكن أن يخفي الحقائق على الأرض. ففي شباط/فبراير من هذا العام، أصدرت الأمم المتحدة تقريرا استنادا إلى مقابلات مع أكثر من 220 روهينجياً في بنغلاديش الذين فروا من العنف في ولاية راخين في تشرين الأول/أكتوبر الماضي. واتهمت قوات الأمن البورمية بارتكاب عمليات قتل جماعية واغتصاب جماعي وحرق للقرى في حملة "من المحتمل جدا" أن تصل إلى جرائم ضد الإنسانية والتطهير العرقي. وتضمن التقرير روايات مروعة عن الإيذاء والتعذيب والإعدام بإجراءات موجزة، بما في ذلك الأطفال. وفي إحدى الحالات، أفادت الأنباء أن الجنود البورميين قتلوا طفلا يبلغ من العمر 8 أشهر بينما اغتصبت أمه من خمسة ضباط أمن. كما أعطت روايات عن إضرام النار في عائلات بأكملها في منازلهم التي أغلقت عليهم. ووفقا لهيومن رايتس ووتش، تم تدمير 1200 منزل في القرى التي يسكنها مسلحو الروهينجا في 6 أسابيع فقط خلال ما يسمى بـ"عمليات مكافحة التمرد" في العام الماضي. وأفادت وسائل إعلام عديدة أيضا عن قيام قوات ميانمار بإطلاق النار على المدنيين حتى أثناء فرارهم من قراهم، بما في ذلك استخدام طائرات الهليكوبتر الحربية في "عملية التطهير"، وكذلك تدمير المواد الغذائية ومصادر الغذاء عمدا. وفي آذار/مارس من هذا العام، قال يانغي لي، المقرر الخاص للأمم المتحدة المعني بحقوق الإنسان في ميانمار، لمجلس الأمم المتحدة لحقوق الإنسان إن الأدلة "تشير إلى أن الحكومة قد تحاول طرد السكان الروهينجا من البلاد تماما". وأراد لي إنشاء لجنة تحقيق تابعة للأمم المتحدة للتحقيق في الحملة العسكرية الدموية، إلا أن الاتحاد الأوروبي لم يؤيد دعوته بسبب القلق من أن التحقيقات التي تجرى في الأمم المتحدة قد تهدد حملة الديمقراطية الهشة في البلاد. وعلى الرغم من أن دراسة أجرتها مبادرة الجرائم الحكومية الدولية في جامعة كوين ماري في لندن في عام 2015 ذكرت أن "الروهينجا يواجهون المراحل الأخيرة من الإبادة الجماعية" وأنهم كانوا على وشك "الإبادة الجماعية".

كل هذا درس، بأنه مع الديمقراطية، الانتهازية السياسية والطموح الشخصي سوف تتخلى دائما عن القيم الأخلاقية. فالنظام يفسد حتى أولئك الذين يدخلون بنوايا حسنة بحيث ينحون جانبا مبادئهم الأخلاقية ومعتقداتهم الطويلة من أجل تحقيق أهداف سياسية قصيرة الأجل. وينبغي بالتأكيد طرح السؤال: ما هي مصداقية أي نظام وما فائدة مبادئه عندما تنكر الإبادة الجماعية الصارخة ضد شعب من أجل المصالح السياسية؟! وعلاوة على ذلك، من الواضح أن الخط الفاصل بين الديكتاتورية والديمقراطية هو خط يمكن أن يكون غير واضح تماما - مع أهواء الأغلبية التي تقمع الأقليات ويسهّلها من هم في السلطة. فهذا دليل كافٍ على أن هذا النظام الديمقراطي لا يمكن أبدا الوثوق به لدعم العدالة أو حماية حقوق الأقليات، أو حتى حماية أي من رعاياه!

﴿أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىَ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [التوبة: 109]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتورة نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست