أوقفوا الاقتتال بينكم... وكونوا عباد الله إخوانا
أوقفوا الاقتتال بينكم... وكونوا عباد الله إخوانا

الخبر: وكالات - قال أبو زهير الشامي القائد العام لغرفة عمليات دمشق وريفها لـ"إيلاف"، إن صراعات الفصائل المسلحة كلفت سوريا حوالي "700 شهيد في الغوطة"، وسط تكتم شديد من الفصائل على الأعداد الحقيقية، في حين تنطلق مظاهرات حاشدة في عدة بلدات في ريف دمشق غدًا الجمعة تنديدًا بصراع الفصائل.

0:00 0:00
Speed:
October 12, 2016

أوقفوا الاقتتال بينكم... وكونوا عباد الله إخوانا

أوقفوا الاقتتال بينكم... وكونوا عباد الله إخوانا

الخبر:

وكالات - قال أبو زهير الشامي القائد العام لغرفة عمليات دمشق وريفها لـ"إيلاف"، إن صراعات الفصائل المسلحة كلفت سوريا حوالي "700 شهيد في الغوطة"، وسط تكتم شديد من الفصائل على الأعداد الحقيقية، في حين تنطلق مظاهرات حاشدة في عدة بلدات في ريف دمشق غدًا الجمعة تنديدًا بصراع الفصائل.

وكانت قد أوقعت اشتباكات عنيفة مستمرة منذ مطلع الشهر الجاري دون توقف، رغم المبادرات والمناشدات، نتيجة صراع على النفوذ بين فصائل جيش الإسلام وفيلق الرحمن في الغوطة الشرقية في ريف دمشق، عشرات القتلى من المقاتلين كما سقط مدنيون، واستغل النظام السوري هذا الاقتتال ليحقق تقدمًا على الأرض.

كما تدور اشتباكات بين جماعة "جند الاقصى" الجهادية من جهة و"حركة أحرار الشام" الإسلامية وفصائل متحالفة معها من جهة ثانية في ريف إدلب الجنوبي.

التعليق:

إن اقتتال الفصائل فيما بينها هو تطبيق لما اتفق عليه شياطين الشرق والغرب على شيطنة الثورة ومنع قيام مشروع الخلافة الذي وافقت عليه معظم الفصائل عام 2012، ويدرك الأعداء أن توحد الفصائل على مشروع الخلافة على منهاج النبوة الذي نص عليه حزب التحرير مشروعا محدد المعالم وقابلاً للتطبيق يوقف تبعية سوريا لأمريكا خاصة ولدول الغرب عامة، ويدرك الأعداء أن وحدة الفصائل على مشروع الخلافة يطرد الغرب ليس من سوريا فقط ولكنه يطردهم من العالم الإسلامي كله، ويهدم الأنظمة العميلة له القائمة للحفاظ على مصالحه.

من هنا اتخذ الأعداء قرار شيطنة الثورة وتأليب الفصائل على بعضها بعضاً مستخدمين المال لشراء الذمم والولاءات، لذلك اتفق الأعداء على اختلاف مصالحهم على إيقاع الكراهية والضغينة بين الفصائل باغتيال قادة كل منهم واتهام الفصائل بالاغتيال واعتقال العناصر والهجوم على المقرات ومصادرة سلاحهم، كما تم عقد هدن مع النظام لتجميد بعض الجبهات ليتفرغ النظام للقتال على جبهات أخرى. وإذا ما أطلق عناصر أي فصيل مهادن النار على النظام قام قائد الفصيل بمعاقبته بحسم راتبه أو قتله أو سجنه مما يضطر العناصر أن تظل أسيرة للقائد منفذةً لأمره وهو بدوره ينفذ أمر الداعم.

وهكذا يستمر قتال الفتنة بين الفصائل... ولا يقطعها إلا طاعة الله وحده ومخالفة أوامر القادة والخروج عليهم وخلعهم. فما خرج المسلمون في سوريا لخلع بشار ليضعوا بدلا منه كلابا كثيرة يذلون لها الرقاب لقاء بعض الليرات، يبيعون دماء إخوانهم وأعراضهم مقابل أن يجد طعاما وشرابا... أنسيت أيها الثائر قول الله تعالى ﴿إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾ [الذاريات: 58] وقوله تعالى: ﴿وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ * فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَاْلأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ﴾ [الذاريات: 22-23] عندما سمع أعرابي هذا القسم صاح قائلا: سبحان الله، مَن الذي أغضب الجليل حتى حلف؟! ألم يصدِّقوه حتى ألجؤوه إلى اليمين؟!

إن من يظن أن رزقه بيد القائد الفلاني والفصيل العلاني وأنه يجب أن يلتزم بأمره حتى لا يحرمه راتبه هو أولا: لم يؤمن بأن الرزق بيده الله وحده... ولا يتوكل على الله ثانيا... ولا يدرك أن الجهاد هو لإعلاء كلمة الله وليس لإعلاء كلمة الداعم ثالثا... ولا يفرق بين الجهاد وقتال الفتنة رابعا، ولا يدرك أهمية دم المسلم وحرمة إراقته خامسا، وينسى قول الله تعالى ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾ [النساء: 93]، وقاتل مرتزق سادسا يبيع روحه وهي أغلى ما عنده بثمن بخس.. وينسى الصفقة الرابحة مع الله ﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ [التوبة: 111]

كفاكم تكفيرا لبعضكم، واستباحة دمائكم وأموالكم بدعوى التكفير، فقد نبه الله إلى هذا الأمر. تأمل قوله تعالى ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴾ [النساء: 94]

إن طاعة الداعمين تخرجكم من إيمانكم وتؤدي بكم إلى الكفر والعياذ بالله لأن الداعم لا يملي عليك إلا ما يمليه الغرب الكافر عليه من اليهود والنصارى، وإن طاعتهم هي طاعة لليهود والنصارى، وقد حذرنا الله من طاعة هؤلاء والاستجابة لأمرهم في قوله تعالى ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا فَرِيقًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ﴾ [ال عمران: 100]

فالحذر الحذر أن تنزلقوا للكفر بعد أن أكرمكم الله بالإيمان، وإن استشهاد البعض بقوله تعالى ﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا...﴾ فهو خاص بالمؤمنين عندما يقتتلون على تأويل لتطبيق شرع الله ويكون خروجهم ذاتيا ليس بمال الفرس والروم وليس بدسيسة منهم، فلا ينطبق نص الآية على الفصائل في سوريا، لأنها تتقاتل على المصالح والسلطة والثروات أي تتقاتل على الدنيا، واستجابة لقوى الكفر والطغيان العالمي التي تسعى لضرب المسلمين فيما بينهم والقتال على أرضهم وبأيديهم وبسلاحهم نيابة عن دول الكفر التي أدركت أنها لا تستطيع الصمود أمام قوة المسلم.

إن اتحاد الفصائل على مشروع الخلافة على منهاج النبوة وتركها أموال الداعمين وخلعها للقادة وشنها هجوما موحدا على النظام دون توقف ونقل المعركة إلى أرضه في دمشق والساحل وعدم الراحة والتوقف إلا بعد تحقيق الانتصار الساحق هو الذي ينصر الثورة ويسقط النظام البعثي الكافر ويقضي على مؤسساته الأمنية والعسكرية التي تسعى شياطين الغرب والشرق للإبقاء عليها لتنتقم من الشعب السوري وتعيده إلى عهود الظلم والظلام...

إن تنصروا الله ينصركم، اطلبوا النصر من الله لا من العبيد، اطلبوا الرزق من الله لا من الممولين، كونوا عبيدا لله وحدة لا عبيدا للعبيد.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست