أوقفوا سبب اللجوء الذي تشاركون فيه!
أوقفوا سبب اللجوء الذي تشاركون فيه!

الخبر:   شهدت وزيرة الدولة بمجلس الوزراء أم سلمة محمد إسماعيل بمجلس الصداقة الشعبية العالمية حفل تخريج 200 لاجئ في إطار مشروع تحسين سبل كسب العيش للاجئين من دولة اليمن بالخرطوم والذي أقامته منظمة نساء العمال والمهن الطوعية وجمعية الصداقة النسائية العالمية.وأشادت السيدة الوزيرة لدى مخاطبتها الاحتفال بهذه المناسبة بمستوى العلاقات السودانية اليمنية مجددة دعم الدولة في تقديم يد العون للاجئين بدولة اليمن بالسودان من خلال مؤسسات الدولة المختلفة ذات الصلة بالعمل الإنساني حتى تضع الحرب أوزارها في اليمن الشقيق، مثمنة جهود المرأة السودانية ومساهماتها ومشاركتها في إنجاح تلك البرامج والمشاريع.

0:00 0:00
Speed:
November 13, 2018

أوقفوا سبب اللجوء الذي تشاركون فيه!

أوقفوا سبب اللجوء الذي تشاركون فيه!

الخبر:

شهدت وزيرة الدولة بمجلس الوزراء أم سلمة محمد إسماعيل بمجلس الصداقة الشعبية العالمية حفل تخريج 200 لاجئ في إطار مشروع تحسين سبل كسب العيش للاجئين من دولة اليمن بالخرطوم والذي أقامته منظمة نساء العمال والمهن الطوعية وجمعية الصداقة النسائية العالمية.


وأشادت السيدة الوزيرة لدى مخاطبتها الاحتفال بهذه المناسبة بمستوى العلاقات السودانية اليمنية مجددة دعم الدولة في تقديم يد العون للاجئين بدولة اليمن بالسودان من خلال مؤسسات الدولة المختلفة ذات الصلة بالعمل الإنساني حتى تضع الحرب أوزارها في اليمن الشقيق، مثمنة جهود المرأة السودانية ومساهماتها ومشاركتها في إنجاح تلك البرامج والمشاريع.

التعليق:

نعم لقد ربطت المسلمين في السودان علاقاتٌ تاريخية ممتدة مع إخوانهم المسلمين في اليمن، تميزت بالتداخل والمصاهرة وتبادل المنافع، ولم يعكر صفوها أي نوع من العداوات في أي وقت من الأوقات، إلى أن جاءت المشاركة الأخيرة للجيش السوداني في الحرب اليمنية، فما هي حقيقة هذه الحرب؟ وهل يكفي أن نقدم الدعم للاجئي اليمن أم يجب أن تكون الخطوة هي خطوة معالجة جدية لسبب اللجوء؟ وحتى متى يشارك السودان في حرب اليمن لتكون النتيجة مزيداً من اللجوء؟ ومتى تضع الحرب أوزارها والصراع يتأجج كل يوم وجيش السودان طرف فيه؟!

لقد أرسل السودان آلافا من الجنود لليمن مبررا هذه الخطوة على لسان الصوارمي أحمد سعد الناطق باسم القوات المسلحة السابق، بأﻥ "ﺷﻌﺐ ﺍﻟﺴﻮﺩﺍﻥ ﺍﻟﻤﺴﻠﻢ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﻟﻦ ﻳﺒﻘﻰ ﻣﻜﺘﻮﻑ ﺍﻷﻳﺪي، ﻭﺍﻟﺨﻄﺮ ﻳﺤﺪﻕ ﺑﻘﺒﻠﺔ ﺍﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ، ﻣﻬﺒﻂ ﺍﻟﻮحي ﻭﺍﻟﺮﺳﺎﻟﺔ ﺍﻟﺨﺎﺗﻤﺔ"، وأضاف سعد أن "ﻣﺸﺎﺭﻛﺔ ﺍﻟﻘﻮﺍﺕ ﺍﻟﻤﺴﻠﺤﺔ ﺍﻟﺴﻮﺩﺍﻧﻴﺔ ﻓﻲ ﻋﻤﻠﻴﺎﺕ ﻋﺎﺻﻔﺔ ﺍﻟﺤﺰﻡ ﺗﻌﺒﻴﺮ ﻋﻦ ﺭﻏﺒﺔ ﺍﻷﻣﺔ ﺍﻟﺴﻮﺩﺍﻧﻴﺔ ﻓﻲ ﺣﻤﺎﻳﺔ ﺍﻟﻤﻘﺪﺳﺎﺕ ﻭﻗﺒﻠﺔ ﺍﻷﻣﺔ ﺍﻹﺳﻼﻣﻴﺔ ﻭهي ﻫﺒﺔ ﺃﻫﻠﻨﺎ ﻟﺤﻤﺎﻳﺔ ﺃﺭﺽ ﺍﻟﺤﺮﻣﻴن.

وبمضي زمن وجيز أدرك غالبية أهل السودان أنها حرب سياسية وصراع على السيطرة والنفوذ بالدرجة الأولى، وهي ليست حربا دينية من أجل الدفاع عن أرض الحرمين، ولو كانت كذلك لكان الأجدر أن يشارك جيش السودان في تحرير القدس أو لإنقاذ أهل سوريا وغيرها من القضايا الساخنة التي هي الأولى؛ لأن طرفها الآخر كافر فُرض الجهاد لقتاله، ولم يفرض لقتال المسلمين.

هذه الدراما الساذجة التي تحاول معسكرات الصراع في اليمن تصويرها على أنها حرب دينية بين معسكر المسلمين السنة ومعسكر الشيعة (الروافض) بحسب إطلاق علماء السعودية، لا يمكن أن يصدقها واعٍ متتبع للأحداث، لأن الحرب تقع في إطار الصراع الجيوسياسي بين الاستعمار القديم ممثلا في بريطانيا ودول أوروبا من ناحية وأمريكا من ناحية أخرى، وهي ليست حربا مذهبية وهذا ما يؤكده التحالف الذي جمع قوات الرئيس السابق على عبد الله صالح بالحوثيين وتصريحات أمريكا في بداية الحرب على أنها تعمل في إدارة حرب اليمن والتخطيط والدعم اللوجستي... فأي دين هذا الذي يجمع بين كافر ومسلم في طرف وفي الطرف الآخر مسلم؟!!

كما أن التضليل من الجانب السعودي كان واضحا جدا لكل ذي عينين، لأن السعودية تتمتع بعلاقتها الودية مع دول الغرب الرأسمالي الاستعماري الكافر بل ومع كيان يهود المسخ، والذي تسربه وسائل الإعلام قليل من كثير ولكنها تستخدم الشيعة كفزاعة فقط، كما أن التاريخ يؤكد الدعم الكبير الذي وفرته السعودية لـ"محمد البدر" إمام المملكة المتوكلية اليمنية، وهي مملكة شيعية زيدية، إبان حرب السنوات الثماني بين الجمهوريين والملكيين 1962ـ1970 والتي انتهت بقيام الجمهورية، مما يعني أن السعودية لا تخوض حربا دينية ضد الشيعة بل تريد أن يكون دورها الإقليمي على حساب إيران التي هي الأخرى تخضع لدول الغرب لتمرير مخططات تمزيق بلاد المسلمين لعبة الشيعة والسنة.

كما لا يخفى على أحد أن السودان كان هو الحليف الأكبر لإيران في المنطقة منذ مجيء جبهة الإنقاذ لسدة الحكم، إذ قامت إيران بدعم حكومة الإنقاذ سياسيا واقتصاديا وكانت في مقدمة الدول التي أمدتها بالسلاح، وأشرفت على برامج التصنيع الحربي وقامت بإنشاء الأجهزة الأمنية وتدريب الكادر الاستخباراتي للنظام الحاكم، فكيف إذن تحولت إيران بين عشية وضحاها لمهدد لقبلة المسلمين ومهبط الوحي؟! لكنها السياسة الرأسمالية التي لا تعرف إلا المصلحة وتعظيمها لصالح الدول المستعمِرة.

إن كانت ثمة مساعدة يجب أن تقدم للاجئي اليمن فهي سحب الجيش السوداني فورا من اليمن.. ومنظمة نساء العمال والمهن الطوعية وجمعية الصداقة النسائية العالمية لا تقدم حلا جذرياً ولن تنفع مساعدتها للاجئين والحرب تشرد كل يوم لاجئين جدد...

وعلى الأمة الإسلامية أن تعي أن هذه المخططات لم تكن لتمر لولا هذه الحكومات التي تستخدم من الغرب الذي لا يعيرها انتباهاً إلا بوصفها تابعة ذليلة تقتل شعوبها ولا تحصد إلا السراب، ولعل الله يكحل عيوننا بدولة الإسلام الحقيقية التي تجعل السيد هو شرع الله الذي يحرم أن يحمل المسلم حديدة في وجه أخيه المسلم.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الأستاذة/ غادة عبد الجبار – أم أواب

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست