أوروبا تعيش أسوأ أيامها تكتلا ودولا
أوروبا تعيش أسوأ أيامها تكتلا ودولا

الخبر: تراجعت قيمة العملة الأوروبية الموحدة اليورو أمام نظيرتها الأمريكية إلى أقل من دولار لكل يورو وذلك لأول مرة منذ عشرين عاما. البنك المركزي الأوروبي حاول التقليل من أهمية هذا التطور مؤكدا أن سياسته "لا تستهدف سعر صرف معين لليورو"، موضحا في الوقت ذاته متابعة البنك لتأثير سعر اليورو على معدل التضخم.

0:00 0:00
Speed:
July 16, 2022

أوروبا تعيش أسوأ أيامها تكتلا ودولا

أوروبا تعيش أسوأ أيامها تكتلا ودولا

الخبر:

تراجعت قيمة العملة الأوروبية الموحدة اليورو أمام نظيرتها الأمريكية إلى أقل من دولار لكل يورو وذلك لأول مرة منذ عشرين عاما. البنك المركزي الأوروبي حاول التقليل من أهمية هذا التطور مؤكدا أن سياسته "لا تستهدف سعر صرف معين لليورو"، موضحا في الوقت ذاته متابعة البنك لتأثير سعر اليورو على معدل التضخم.

التعليق:

أولا: شكلت الحرب الروسية على أوكرانيا وتداعياتها على الاقتصاد العالمي، ولا سيما الاقتصاد الأوروبي، صدمة كبيرة جدا لدول القارة الأوروبية، التي بدأت منذ العام الحالي ببذل جهود مكثفة لإزالة تداعيات فيروس كورونا على اقتصاداتها، والأزمات العالمية الاقتصادية والمالية لتأتي حرب أوكرانيا كنقطة مفصلية جدا في قارة أوروبا التي بدأت تتحسس زوال الاتحاد وانتهاء مرحلة الوحدة والتي بقيت تعاني الانقسامات السياسية والأزمات وتفرق البيت الأوروبي بشكل كبير، ولعله إن طال بقاء الهيكلية الأوروبية فستكون كبيت العنكبوت لا تقي حرا ولا تحمي شتاء بل مجرد هيكل مشلول لا قيمة له وإن علت أصوات بعضهم وتحركت له بعض الأعضاء لكنها حركة لا تعني الكثير. وسأقف هنا على بعض التداعيات الخطيرة لأوروبا بعد الحرب فأقول وبالله التوفيق:

من الناحية السياسية فقدت أوروبا الأمل بتكوين جيش أوروبي موحد، ويعود تاريخ التفكير في تأسيس جناح عسكري للاتحاد الأوروبي إلى عام 1999 والذي نتج عنه تأسيس "المجموعات القتالية" عام 2007، دون أن تشارك تلك القوات في أي عملية على الإطلاق حتى الآن، ومع مجيء الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون إلى رئاسة بلاده عام 2017، بدأ الحديث عن تشكيل جيش أوروبي يأخذ بعداً آخر.

فماكرون، الذي يرى نفسه تلميذاً للزعيم الفرنسي التاريخي شارل ديغول، يريد استعادة أمجاد فرنسا الإمبراطورية، ويبدو أن تأسيس جيش أوروبي تقوده فرنسا بطبيعة الحال كان ولا يزال حلماً يطارد الرئيس. وكان ماكرون قد صرح مرارا وتكرارا بموت الناتو سريريا وهي تصريحات وصفها الرئيس الأمريكي السابق دونالد ترامب "بالمسيئة والمقرفة سياسياً"، بحسب تقرير لشبكة الإذاعة البريطانية.

فما كان من الولايات المتحدة إلا أن وجهت له ضربة قاصمة حيث وقف مشلولا في حرب روسيا ضد أوكرانيا في ظل انقسام حقيقي خطير وإعادة أوروبا لقبضة الناتو من جديد وبيان عجز أوروبا مجتمعة عن اتخاذ قرار مصيري، فكيف بدولها متفرقة؟ لذا كان من أهم وأخطر أهداف توريط روسيا في أوكرانيا لجم أوروبا وإعادتها لبيت الطاعة الأمريكي، ولتبقى تصريحات ماكرون ظاهرة صوتية ممجوجة على واقع سياسي مؤلم.

البعد الاقتصادي: في الميزان الاقتصادي لتداعيات الحرب الروسية الأوكرانية على دول أوروبا، يرى الخبير الاقتصادي الدكتور مروان قطب لمجلة "اتحاد المصارف العربية"، أن "الحرب الروسية على أوكرانيا ليست حدثاً عابراً محصورة آثاره بدولتين، بل هي حرب لها بُعد إقليمي"، وهذا الكلام صحيح بلا شك.

 فقد خسرت العملة الأوروبية منذ مطلع العام الجاري ما لا يقل عن 12% من قيمتها، ما أثر على مجموع المبادلات التجارية الخارجية للتكتل القاري. ووفق بيانات مكتب يوروستات فإن نصف واردات منطقة اليورو تتم بالدولار مقابل 40% بالعملة الموحدة. ويذكر أن فواتير مواد الطاقة كالبترول والغاز تتم بالدولار أساسا، وهي مواد زادت تكلفتها على خلفية الحرب في أوكرانيا. وهذا معناه أن مزيدا من المواد المستوردة فقدت قدرتها التنافسية في السوق الأوروبية، ما يساهم في رفع مستويات التضخم. وبالتالي فإن تكاليف المنتجات الأوروبية ستزداد، خصوصا تلك التي تعتمد على الطاقة والمواد الخام المستوردة. غير أن هناك منتجات أخرى كالخدمات والصناعات التحويلية (الكيماويات، صناعة الطائرات والسيارات.. إلخ) ستستفيد حين تصديرها من تراجع اليورو، لأنها ستصبح أكثر تنافسية. وقد يؤدي تسارع مستوى التضخم بالبنك المركزي الأوروبي إلى رفع أسعار الربا بشكل أسرع. وهي خطوة قد يقدم عليها خلال شهر تموز/يوليو الجاري في سابقة، إذا حدثت، فستكون الأولى من نوعها منذ أحد عشر عاما. موقع ميركور. دي. إي الألماني في التاسع من تموز/يوليو رصد تقهقر العملة الأوروبية وكتب معلقا "في غضون عام، فقد اليورو ربع قيمته مقابل العملة الأمريكية. كما انخفضت العملة الأوروبية إلى أدنى مستوى لها في سبع سنوات مقابل اليوان الصيني. ضعف اليورو يمثل مشكلة كبيرة بالنسبة لأوروبا، لأنها تزيد من تكلفة الواردات من بقية أنحاء العالم. هذا يدفع نسبة التضخم إلى الأعلى ويؤدي إلى اختلال الميزان التجاري الألماني إلى المنطقة الحمراء لأن ظروف الصرف العالمية تتغير بشكل غير مواتٍ لنا". وبينت المفوضية الأوروبية في قراءتها لتداعيات الحرب إلى خفض توقعاتها للنمو في منطقة اليورو خلال العامين الحالي والمقبل على التوالي إلى 2.6 بالمئة و1.6 بالمئة، مقابل 2.7 بالمئة و2.3 بالمئة كانت متوقعة حتى الآن. كما رفعت المفوضية توقعاتها لنسبة التضخم إلى 7.6 بالمئة في 2022 و4 بالمئة في 2023، مقابل 6.1 بالمئة و2.7% في التقديرات السابقة.

لقد وصل الأمر بصحيفة فراكفورته ألغماينه تسايتونغ التي تساءلت عما إذا كانت ألمانيا ستتحول من جديد إلى رجل أوروبا المريض، بعدما توقعت المفوضية الأوروبية 1.4% كنسبة نمو للاقتصاد الألماني العام الحالي و1.4% العام المقبل وهي أضعف نسبة نمو في منطقة اليورو. "ونظراً لاعتماد ألمانيا الكبير على الغاز الروسي، فإن المخاطر الاقتصادية لألمانيا أعلى أيضاً من المتوسط من حيث مخاطر تعليق الإمدادات الروسية، ما سيؤثر على الصناعة الألمانية بشكل أقوى بكثير من الاتحاد الأوروبي في المتوسط، مقارنة مع باقي البلدان الأوروبية".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست