أوزبيكستان تشكل مثالاً سيئاً في منطقة آسيا الوسطى
أوزبيكستان تشكل مثالاً سيئاً في منطقة آسيا الوسطى

  الخبر: اعتقل ضباط اللجنة الحكومية للأمن الوطني في قرغيزستان قادة وأعضاء المنظمة الدينية المتطرفة "حزب التحرير"، التي حظرت أنشطتها في قرغيزستان، بما في ذلك القادة الحاليون والسابقون، ومسؤولو الأموال والمساعدون (مساعدو المسؤولين والمسؤولون عن منطقة محددة). (24.kg، 07/02/2025م)

0:00 0:00
Speed:
February 14, 2025

أوزبيكستان تشكل مثالاً سيئاً في منطقة آسيا الوسطى

أوزبيكستان تشكل مثالاً سيئاً في منطقة آسيا الوسطى

الخبر:

اعتقل ضباط اللجنة الحكومية للأمن الوطني في قرغيزستان قادة وأعضاء المنظمة الدينية المتطرفة "حزب التحرير"، التي حظرت أنشطتها في قرغيزستان، بما في ذلك القادة الحاليون والسابقون، ومسؤولو الأموال والمساعدون (مساعدو المسؤولين والمسؤولون عن منطقة محددة). (kg،24. 2025/02/07 )

التعليق:

في الآونة الأخيرة تصاعدت مرة أخرى حملة الأنظمة الطاغية في آسيا الوسطى ضد حزب التحرير الحزب السياسي الإسلامي. ولا شك أن وراء هذا الأمر دولاً استعمارية كافرة مثل روسيا. ولكن ثبت منذ فترة طويلة أن مثل هذه الحرب ليست موجهة ضد جماعة معينة فحسب، بل هي ضد جميع المسلمين في المنطقة بسبب رغبتهم بالإسلام، ومع الأسف فإن أوزبيكستان تتصدر هذه الحرب؛ لأن أي اتجاه يتخذه النظام الأوزبيكي فيما يتعلق بالدين، تتأثر به الدول المجاورة بشكل ما. فعلى سبيل المثال، في أيلول/سبتمبر 2023، حظرت أوزبيكستان ارتداء النقاب والبرقع على النساء. إن عدم التسامح تجاه الجلباب الذي يستر زينة المرأة قد تجلى بدرجات متفاوتة منذ زمن بعيد. وبعد ذلك، بدأت مسألة فرض حظر مماثل في قرغيزستان وطاجيكستان وكازاخستان، تثار على نحو أكثر جدية. ففي حزيران/يونيو 2024، حظرت طاجيكستان ارتداء الجلباب بشكل كامل بحجة الحفاظ على الهوية الوطنية. وفي كازاخستان، يحاول النظام أيضاً حظر النقاب الذي يغطي الوجه. وفي قرغيزستان، ورغم الكثير من النقاش والمعارضة، تم إقرار قانون يحظر ارتداء النقاب في كانون الثاني/يناير 2025. وأثناء إقرار هذا القانون، ألمح بعض النواب إلى أن حظراً مماثلاً قد تم فرضه في أوزبيكستان. وإذا نظرنا إلى حملة التدخل للملابس النسائية الإسلامية في آسيا الوسطى، فيصبح واضحا أن هذه المبادرة القبيحة أطلقها النظام الأوزبيكي أولاً.

وفي الآونة الأخيرة، انتشرت الأنباء عن ممارسة موظفي إنفاذ القانون التعذيب الجسدي على السجناء الذين يقضون مدة العقوبة في قرغيزستان. ومن المثير للاهتمام أن هؤلاء السجناء تعرضوا للتعذيب، بطريقة تشبه إلى حد كبير أساليب التعذيب التي تستخدمها أجهزة الأمن الأوزبيكية. ولهذا السبب، لا بد من الشكوك حول ما إذا كانت أوزبيكستان متورطة في هذا أيضاً.

أما فيما يتعلق بالأنباء عن اعتقال مسؤولين من حزب التحرير في قرغيزستان، فيبدو أن هذا الخبر أيضاً تأثر إلى حد ما بتصعيد النظام الأوزبيكي في الآونة الأخيرة محاربته الحزب. فكما هو معروف، فقد تم اعتقال أكثر من 50 سجيناً سياسياً سابقاً في أوزبيكستان خلال عام 2024، وحُكم على مجموعة منهم بالسجن لفترات طويلة، بينما تخضع مجموعة أخرى للمحاكمة حالياً. وفي قرغيزستان، أخذ الضغط ضد حزب التحرير منعطفاً خطيراً في الآونة الأخيرة. ففي كانون الأول/ديسمبر 2024، تم اعتقال 22 مسلماً بتهمة الانتماء إلى الحزب. وهكذا، وكما ذكر في التقرير أعلاه، أصبح عدد أكبر من الشباب المسلمين أهدافاً للنظام القمعي.

إن مراقبة هذه الحالات وغيرها من الحالات المماثلة تقودنا إلى الاستنتاج بأن أوزبيكستان تقف في طليعة الدول التي تحارب الإسلام وتمارس سياسات تسبب المعاناة للمسلمين في جميع أنحاء المنطقة. ولا شك أن وراء هذه الضغوط محاولة لاسترضاء الدول الاستعمارية الكافرة مثل روسيا وأمريكا. قد نرى اليوم أن النظام الأوزبيكي يتخذ إجراءات ضد رغبة شعبنا بالإسلام، ويصدر القوانين والقرارات في هذا الصدد، وتستغل الدول المجاورة ذلك فورا. وهذا يعني أن المتنافسين الرئيسيين في المنطقة؛ أمريكا وروسيا، يرون أن النظام الأوزبيكي له تأثير كبير على باقي دول المنطقة، ولذا يحاولون فرض توصياتهم عليه بشكل أكبر. وليس سراً أن أمريكا تسعى أيضاً إلى تحقيق مصالحها من خلال تنفيذ مشروعاتها المفسدة، مثل حقوق المرأة والأطفال، والمساواة بين الجنسين، وحرية الفكر، النابعة من ديمقراطيتها المنتنة أولاً في أوزبيكستان ثم من خلالها في جميع أنحاء المنطقة. فعلى سبيل المثال، أصبحت أوزبيكستان رائدة واضحة في آسيا الوسطى في ضمان المساواة بين الجنسين، وهو ما يعترف به حتى بعض المسؤولين من البلدان المجاورة وغيرها. ويقولون إننا يجب أن نأخذ أوزبيكستان مثالاً في هذا الصدد.

ولكن تنفيذ الإصلاحات الديمقراطية ولعب دور قيادي في محاربة الإسلام والمسلمين ليس أمراً يدعو للفخر، بل إنه يورث الخزي والعار. والحقيقة أن أوزبيكستان بإمكانها أن تصبح دولة قيادية للمنطقة. ولكن إذا استخدمت مثل هذه الميزة لنشر الفساد والشر فإنها لن تجلب إلا العار العظيم والكوارث لنفسها وللشعب المسلم في المنطقة. وبما أن أصحاب السلطة يعتبرون أنفسهم مسلمين، وبما أن شعبنا مسلم، فإن السياسة المتبعة يجب أن تكون أيضاً وفقاً لهذا. وعليه أن يستغل نفوذه بشكل فعال ويصبح مركزاً ينشر الخير في المنطقة. ويجب على شعبنا المسلم أن يرفض بشدة أن يصبح بلدنا الطاهر الذي أنجب البخاري والترمذي بؤرا للشر ينشر الشر والفساد في كل الاتجاهات، حيث تنفذ تلك الدول الكافرة مخططاتها الشنيعة المليئة بالفتن والفساد عبره. ولا ينبغي لنا أن ننسى أبداً أن جزءاً كبيراً من المسؤولية تجاه بلدنا وتجاه المنطقة بأكملها يقع على عاتقنا، وعلينا أن نخشى أن ينالنا عقاب الله بأن يستمر علينا الظلم والذل والبؤس الذي نقاسيه اليوم، والعياذ بالله، قال رسول الله ﷺ: «والَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ، ولَتَنْهَوُنَّ عَنِ المُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ الله أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَاباً مِنْهُ، ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلا يُسْتَجابُ لَكُمْ» رواه الترمذي وَقالَ: حديثٌ حسنٌ.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست