أي استقلال احتفل به الشعب الإندونيسي..؟ وأي خطر يهددهم سوى فساد النظام الاستعماري المطبق في البلاد؟
أي استقلال احتفل به الشعب الإندونيسي..؟ وأي خطر يهددهم سوى فساد النظام الاستعماري المطبق في البلاد؟

الخبر:   احتفل الشعب الإندونيسي، في 18 آب/أغسطس، بعيد استقلال بلادهم وهو ذكرى إعلان الزعيمين أحمد سوكارنو ومحمد حتى استقلال البلاد. ففي هذه المناسبة حث رئيس إندونيسيا جوكووي، أهل إندونيسيا على التوحد لمواجهة التحديات الوطنية بما في ذلك الفقر والتطرف. وقال جوكو ويدودو في خطاب حول حالة الأمة أمام البرلمان الإندونيسى قبل يوم واحد من الاحتفال بعيد استقلال البلاد "إن التحديات التى نواجهها الآن ليست سهلة". وأضاف "ما زلنا نواجه الفقر والفوارق (في الدخل) كما أننا ما زلنا نواجه التطرف والتشدد والإرهاب". وذكر أن الحكومة لا تعمل فقط بجد لمعالجة المشاكل الاقتصادية ولكن أيضا لتعزيز الأسس الأيديولوجية للبلاد. وأضاف " نحن نواصل تعزيز إجماعنا الوطنى لحماية مبادئ البانتشاسيلا ودستور عام 1945 و[شعار] الوحدة في التنوع". (الأوسط، 2017/08/18).

0:00 0:00
Speed:
August 22, 2017

أي استقلال احتفل به الشعب الإندونيسي..؟ وأي خطر يهددهم سوى فساد النظام الاستعماري المطبق في البلاد؟

أي استقلال احتفل به الشعب الإندونيسي..؟

وأي خطر يهددهم سوى فساد النظام الاستعماري المطبق في البلاد؟

الخبر:

احتفل الشعب الإندونيسي، في 18 آب/أغسطس، بعيد استقلال بلادهم وهو ذكرى إعلان الزعيمين أحمد سوكارنو ومحمد حتى استقلال البلاد. ففي هذه المناسبة حث رئيس إندونيسيا جوكووي، أهل إندونيسيا على التوحد لمواجهة التحديات الوطنية بما في ذلك الفقر والتطرف. وقال جوكو ويدودو في خطاب حول حالة الأمة أمام البرلمان الإندونيسى قبل يوم واحد من الاحتفال بعيد استقلال البلاد "إن التحديات التى نواجهها الآن ليست سهلة". وأضاف "ما زلنا نواجه الفقر والفوارق (في الدخل) كما أننا ما زلنا نواجه التطرف والتشدد والإرهاب". وذكر أن الحكومة لا تعمل فقط بجد لمعالجة المشاكل الاقتصادية ولكن أيضا لتعزيز الأسس الأيديولوجية للبلاد. وأضاف " نحن نواصل تعزيز إجماعنا الوطنى لحماية مبادئ البانتشاسيلا ودستور عام 1945 و[شعار] الوحدة في التنوع". (الأوسط، 2017/08/18).

التعليق:

حصلت إندونيسيا على الاستقلال عسكريا منذ 72 سنة مع انتهاء عصر الاستعمار القديم، ولكن وقعت إندونيسيا تحت الاستعمار الجديد من قبل أمريكا. وذلك بعد أن نجحت أمريكا في إخراج هولندا التي سيطرت على البلاد طوال ثلاثمئة وخمسين سنة، وإطفاء مقاومة الإندونيسيين، وإفشال محاولات إنجلترا التسرب إلى إندونيسيا عن طريق عملائها، والمضايقات لإخضاع حكام إندونيسيا تحت النفوذ الأمريكي بعد إعلان الاستقلال، حيث ظهرت هذه المضايقات في إحداث الثورات ضدها وإدخال الشيوعية إلى إندونيسيا وتشجيع هجرة الصينيين إليها، من أجل ذلك فتحت الحكومة الإندونيسية منذ عهد سوكارنو الأبواب أمام هذا الاستعمار الجديد بطرقه الخبيثة، ومن أهمها: القروض الأجنبية، والمساعدات العسكرية، والاستثمارات الأجنبية...

فقد وقّع سوكارنو قبل استقالته من منصب رئاسة الدولة ببضعة أشهر قانون الاستثمار الأجنبي الذي أعطى شرعية للشركات الأجنبية لاستغلال إندونيسيا، حيث كانت شركة بيربوت الأمريكية أول شركة جنت من هذا القانون نفعا، وتلتها شركات النفط، والاستثمار الأجنبي في البنوك وغيرها، حيث أصبح النفوذ الأجنبي يسيطر الآن على 75% من حقول المعادن، و85% من آبار النفط في إندونيسيا، و50.6% من الموجودات المصرفية...

وقد خلّف سوكارنو ديوناً أجنبية بمبلغ 6.3 مليار دولار التي امتدت فترة سدادها إلى خمسة وثلاثين عاما بعد استقالته. وهكذا ما أتى حاكم جديد إلا وقد ورث ديونا من سابقه وخلّف ديونا أخرى للاحقه إلى أن تجاوز مبلغ الديون الإندونيسية 4000 ترليون روبية التي تجاوزت أقساط سدادها فقط بالنسبة للميزانية الإندونيسية 30% سنويا.

ومن أجل هذه الديون وسيطرة النفوذ الأجنبي على ثروات البلاد اعتمدت إندونيسيا في تمويل حاجاتها على الضرائب المفروضة على الناس حتى تجاوزت 85% من قيمة دخلها، وأجبرت على إلغاء أنواع الدعم لا سيما للوقود والكهرباء اللذين لهما تأثير كبير في ارتفاع الأسعار، وبالتالي زادت نسبة الفقر والمسكنة؛ حيث وصل عدد الفقراء في شهر آذار/مارس من هذا العام 27.77 مليون نسمة، باعتبار أن مقياس الفقير هو من يحصل على دخل 11.000 روبية يوميا (أي أقل من دولار) كما حددته وكالة الإحصاء المركزية. أما إذا قدر الفقر بحسب ما قرره البنك الدولي، يعني دولارين في اليوم، فإن عدد الفقراء في إندونيسيا يصل إلى أكثر من مئة مليون نسمة.

إذا كان الأمر كذلك، فأي استقلال احتفل به الشعب الإندونيسي غير شعار لا معنى له في الواقع؟! فإن الشعب ما زال يعاني من ضنك العيش من جراء تطبيق النظام الذي فرض عليهم بقوة الاستعمار الذي أعطى لها شرعية لاستغلال ثروات البلاد واستنزاف دماء شعبها. وحينما عاد وعي الشعب الإندونيسي، وأكثرهم مسلمون، حينما عاد وعيهم على واقعهم وأحكام دينهم فطالبوا بتطبيق شريعتهم وإقامة خلافتهم سار حكام هذه البلاد على طريقة الاستعمار في حربهم لما يسمى بـ(الإرهاب والتطرف)، تغطيةً لفشلهم في رعاية شؤون الرعية وإدارة الدولة، وصداً عن عودة الإسلام ونهضة الأمة الإسلامية التي أرعبت الكفار والمستعمرين.

وآخر المحاولات لأجل ذلك هو إصدار الحكومة الإندونيسية قرارات تجاه المنظمات الشعبية لاستهداف حزب التحرير الذي تم حله تذرعا بهذه القرارات الظالمة. وما "ذنب" حزب التحرير إلا عمله الذي هو توعية الأمة الإسلامية ودعوتها للرجوع إلى الإسلام بكافة أحكامه وإقامة الخلافة على منهاج النبوة التي ستحرر البلاد من كل القوى استعمارية فتملأ الأرض قسطا وعدلا بعد أن ملئت ظلما وجورا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أدي سوديانا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست