أيّ فخر هذا؟! إنّه لشهر الانحطاط بامتياز!
أيّ فخر هذا؟! إنّه لشهر الانحطاط بامتياز!

الخبر: وقع شجار قرب مدرسة ابتدائية في أحد شوارع مدينة لوس أنجلوس الأمريكية أمس الجمعة بين ذوي تلامذة من جهة، ومؤيدي المثلية الجنسية من جهة أخرى. واحتشد أكثر من 100 من ذوي التلامذة صباح الجمعة 02 حزيران/يونيو 2023 في شارع نورث هوليوود احتجاجا على إجراء فعاليات لـ"شهر الفخر" المثلي في المدرسة، قائلين إنهم يعارضون تعليم المثلية الجنسية في المدارس الابتدائية. ورفع المحتجون لافتات قرب مدرسة Saticoy الابتدائية، كتب عليها "لا فخر في الاستمالة" و"اختيار الوالدين مهم" و"اتركوا أطفالنا وشأنهم".

0:00 0:00
Speed:
June 08, 2023

أيّ فخر هذا؟! إنّه لشهر الانحطاط بامتياز!

أيّ فخر هذا؟! إنّه لشهر الانحطاط بامتياز!

الخبر:

وقع شجار قرب مدرسة ابتدائية في أحد شوارع مدينة لوس أنجلوس الأمريكية أمس الجمعة بين ذوي تلامذة من جهة، ومؤيدي المثلية الجنسية من جهة أخرى. واحتشد أكثر من 100 من ذوي التلامذة صباح الجمعة 02 حزيران/يونيو 2023 في شارع نورث هوليوود احتجاجا على إجراء فعاليات لـ"شهر الفخر" المثلي في المدرسة، قائلين إنهم يعارضون تعليم المثلية الجنسية في المدارس الابتدائية. ورفع المحتجون لافتات قرب مدرسة Saticoy الابتدائية، كتب عليها "لا فخر في الاستمالة" و"اختيار الوالدين مهم" و"اتركوا أطفالنا وشأنهم".

ووفقا لبعض الإفادات، فقد عارض الأهالي بشكل خاص القراءة المخطط لها لـ"الكتاب الكبير للعائلات" بقلم ماري هوفمان، والذي يتحدث عن جميع أشكال العائلات بينها متعددة الأعراق ومتعددة الأديان والآباء غير المتزوجين، كما يحتوي أيضا على إشارة واحدة إلى العائلات مثلية الجنس. وفي الجانب المقابل من الشارع تجمع حوالي 100 من مؤيدي حقوق المثليين تعليم المثلية، في مظاهرة مضادة، ورغم محاولات الشرطة للفصل بين الطرفين تصاعدت التوترات إلى أن اندلع شجار وعراك.

التعليق:

وفقاً لموقع People، أعلن الرئيس بيل كلينتون رسمياً في عام 1999، أن شهر حزيران/يونيو هو شهر فخر المثليين، وخصص الشهر كاملاً لاحتفالاتهم ودعمهم بعد أن كان الاحتفال من قبل مقتصرا على يوم فخر واحد سنوياً للمثليين في يوم الأحد الأخير من شهر حزيران/يونيو. ومن ثمّ بعد 12 عاماً، وسّع الرئيس باراك أوباما الاحتفال ليشمل ثنائيي الجنس والمتحولين جنسياً، معلناً رسمياً بداية شهر حزيران/يونيو 2011، شهر فخر المثليين ومزدوجي الميول الجنسية والمتحولين جنسياً. إنّه لأمر جلل عندما تنحرف الفطرة ويتم اعتبار المثلية الجنسيّة ظاهرة طبيعية بل ويُصاب كل من يعارضها بالهوموفوبيا أو رهاب المثلية ويُهدّد بالمقاطعة كما حدث لرئيس أوغندا بعد إقراره مؤخرا قانونا صارما لمكافحة المثلية الجنسيّة؛ فقد "ندّد بايدن بالقانون واعتبره انتهاكا مأساويا لحقوق الإنسان ولوّح بقطع المساعدات والاستثمارات عن هذا البلد. كما أصدر وزير الدولة البريطاني للشؤون الخارجية بيانا مفاده أن هذا القانون سيزيد من أخطار العنف والتمييز والاضطهاد، وسيؤدي إلى تراجع مكافحة الإيدز، وسيشوه صورة أوغندا على الساحة الدولية". أما دول الاتحاد الأوروبي فقد جعلت العلاقات الدولية مع أوغندا بمقتضى هذا القانون مهددة. ناهيك عن استهجان المنظمات الحقوقية كمنظمة العفو الدولية ومنظمة هيومن رايتس ووتش ومفوضية الأمم المتحدة السامية لحقوق الإنسان لهذا القانون واعتباره قمعيا ويمثل اعتداء خطيرا على حقوق الإنسان.

بالمختصر، ليس هناك أبشع من هذا القمع والضغط الذي يمارسه النظام الرأسمالي بقيادة أمريكا لإجبار شعوبها عامة والمسلمين خاصة على تقبل الشذوذ الجنسي والاعتياد على رؤية هذه الرذائل في الشوارع والتسامح مع هذه القيم النتنة باسم الديمقراطية. وأيّ حرية وحقوق يتحدثون عنها ولم يتركوا مكانا (رياض الأطفال، المدارس، الجامعات، الشوارع، السفارات...) ولا مادة إعلامية (المسلسلات والأفلام والكرتون...) إلا ولوّثوه بهذا العفن من خلال تنظيم حملات مكثفة تستهدف كل الفئات العمرية لنشر هذا الانحطاط الأخلاقي. هذا وقد أظهرت نتائج استقصاء قامت بها شركة إبسوس (IPSOS) للدراسات والأبحاث في 30 بلداً نُشرت في غرة هذا الشهر حزيران/يونيو 2023 بمناسبة شهر الفخر، فإن 19٪ من أفراد الجيل الذين ولدوا في عام 1997 وما بعده، يُعرفون أنفسهم في العالم بأنهم +LGBT. (صحيفة لوفيغارو 2023/06/04)

فالحمد لله على نعمة الإسلام وكفى بها نعمة، دين الفطرة السليمة والأخلاق القويمة والقيم الراقية المستقيمة. قال تعالى: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفاً فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ﴾. وإنها لدعوة للحذر من هذا التمييع لهذه المفاهيم الخطرة بقيادة هذه المنظمات الدولية والدول الغربية للتطبيع مع هذا الانحراف الفطري تحت دعاوي حقوق الإنسان والحريات. ولا يُصنف المدافعون عن هذا الشذوذ باسم الحريات إلا في خانة الذين يحبّون أن تشيع الفاحشة في الذين آمنوا، فاعتبروا يا أولي الأبصار وكونوا بالصدّ لأي محاولة لشرعنة أو تقنين أو دعم لهؤلاء المنحرفين.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. درة البكوش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست