أي خيانة أعظم منْ أن يصبح كيان يهود حليفاً بعد أن كان عدواً؟!
أي خيانة أعظم منْ أن يصبح كيان يهود حليفاً بعد أن كان عدواً؟!

الخبر: قال رئيس وزراء كيان يهود نتنياهو خلال استقباله الرئيس الإيطالي "سيرجو ماتاريلا" يوم الأربعاء 2016/11/2: "إن ما يثير الأمل في نفسه أن العديد من الدول العربية لم تعد ترى في كيان يهود عدوا، بل حليفا في مواجهة "الإرهاب الإسلامي" وهذا تغيير كبير في العالم العربي". وأضاف نتنياهو محاولا شرح مقاصده أن ما يقصده هو محاربة الإرهاب الإسلامي والإسلام المتطرف سواء أكان بقيادة داعش أم إيران. وتطرق نتنياهو لتحقيق السلام في المنطقة التي قال إنها اختلفت كثيراً لدرجة أن السلام مع الفلسطينيين لم يعد شرطاً أو ممراً للسلام مع العرب بل العكس هو الصحيح حيث بات السلام مع العرب ممراً نحو السلام مع الفلسطينيين. (وكالة معاً)

0:00 0:00
Speed:
November 04, 2016

أي خيانة أعظم منْ أن يصبح كيان يهود حليفاً بعد أن كان عدواً؟!

أي خيانة أعظم منْ أن يصبح كيان يهود حليفاً بعد أن كان عدواً؟!

الخبر:

قال رئيس وزراء كيان يهود نتنياهو خلال استقباله الرئيس الإيطالي "سيرجو ماتاريلا" يوم الأربعاء 2016/11/2: "إن ما يثير الأمل في نفسه أن العديد من الدول العربية لم تعد ترى في كيان يهود عدوا، بل حليفا في مواجهة "الإرهاب الإسلامي" وهذا تغيير كبير في العالم العربي". وأضاف نتنياهو محاولا شرح مقاصده أن ما يقصده هو محاربة الإرهاب الإسلامي والإسلام المتطرف سواء أكان بقيادة داعش أم إيران.

وتطرق نتنياهو لتحقيق السلام في المنطقة التي قال إنها اختلفت كثيراً لدرجة أن السلام مع الفلسطينيين لم يعد شرطاً أو ممراً للسلام مع العرب بل العكس هو الصحيح حيث بات السلام مع العرب ممراً نحو السلام مع الفلسطينيين. (وكالة معاً)

التعليق:

قبل 99عاماً وبالتحديد في 2 تشرين الثاني/نوفمبر من عام 1917، وفي رسالة لا تزيد كلماتها عن 130 كلمة، منح وزير خارجية بريطانيا آرثر بلفور الأرض التي لا يملكها لمَن لا يستحقّها، حيث أعطى اليهود حق إقامة وطن قومي لهم في فلسطين، وبهذا الوعد المشؤوم غرست بريطانيا هذا الخنجر المسموم في خاصرة الأمة الإسلامية، ليكون قاعدة للغرب في المنطقة وجسرًا للعبور إلى جسد الأمة، فتعهدت هذا الكيان وقدمت له الدعم والمساعدة المادية وغير المادية، ومن ثم أصبح هذا الكيان الطفل المدلل لأمريكا وتولت رعايته ودعمه، والجرائم التي ارتكبها وما زال يرتكبها يهود بحق أهل فلسطين من قتل واعتقال وتدنيس وهدم للبيوت واقتحامات للأقصى، ما هي إلّا ثمرة من ثمار البذرة الخبيثة التي زرعتها بريطانيا في فلسطين.

ومنذ إنشاء كيان يهود وهناك تهافت عربي وإسلامي نحو التطبيع معه، حتى بات نتنياهو يتباهى بأن العديد من الدول العربية لم تعد ترى في كيان يهود عدواً لها! بل أكثر من ذلك، أن هذه الدول أصبحت حليفة لهذا الكيان في محاربة "الإرهاب الإسلامي"، فعن أي إرهاب يتحدث نتنياهو وهو رئيس وزراء لكيان مجرم محتل، لم يسلم من إجرامه لا البشر ولا الشجر ولا الحجر، وتاريخه وحاضره مليء بالمجازر الدموية بحق المدنيين العزل؟! وإلى أي حد من العمالة والخيانة وصل هؤلاء الحكام حتى أصبحوا هم وكيان يهود في خندق واحد في الحرب على الإسلام؟!

إن مَنْ يتابع الأحداث والأخبار يرى هذا التهافت بشكل واضح ويرى كيف يحاول هؤلاء الحكام الخونة جعل وجود هذا الكيان أمراً عادياً والتعايش معه حتمياً، ويرى كيف بات التطبيع يجري بشكل علني بعد أن كان من تحت الطاولة، وكيف يسارع هؤلاء الحكام لخدمة هذا الكيان المحتل لبلاد المسلمين، يستوي في ذلك الدول المجاورة له كمصر والأردن وغير المجاورة أيضاً كتركيا، وما وفود التعزية في المجرم بيريز إلا أبرز دليل على مدى الخيانة والوقاحة التي وصل لها هؤلاء الحكام، حتى إنهم حاولوا فرض التطبيع على الأجيال الناشئة في بلاد المسلمين، وقد ظهر ذلك بشكل جلي في موجة تغيير المناهج المدرسية التي اجتاحت العالم العربي في الآونة الأخيرة، وتنظيمهم ورعايتهم للرحلات التطبيعية المشبوهة لطلاب المدارس والجامعات إلى كيان يهود.

إن مما يبعث الأمل في نفوسنا أن كل الجهود الحثيثة التي بذلتها الأنظمة في بلاد المسلمين لجعلها تقبل بالتطبيع مع كيان يهود لم تفلح، وأن حالة العداء والحرب لا زالت قائمة بين المسلمين وهذا الكيان المجرم، والاحتجاجات التي عمت شوارع الأردن مؤخراً احتجاجاً على اتفاقية الغاز الخيانية شاهدة على ذلك، ففلسطين لا زالت درة التاج وواسطة العقد بالنسبة للمسلمين والحمد لله.

إن قضية فلسطين هي قضية أمة احتُلت أرضُها المباركة، وإن تضليل المضللين، وخيانة وتآمر المتآمرين لن يغير من الواقع شيئاً، وتحريرها يقع على عاتق جيوش المسلمين، الواجب عليهم الإطاحة بهؤلاء الحكام الخونة المجرمين، وإقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة على أنقاض عروشهم، ومن ثم الزحف لتحرير مسرى رسول الله r وسائر بلاد المسلمين وفي ذلك عز الدارين بإذن الله.

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أختكم براءة مناصرة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست