أيا أمة المليارين! أتترك قضية إخوانكم الروهينغا للبابا وللمستعمر؟!
أيا أمة المليارين! أتترك قضية إخوانكم الروهينغا للبابا وللمستعمر؟!

الخبر:   ذكرت وكالات الأنباء أن بابا الفاتيكان فرنسيس الأول وصل يوم 2017/11/27 إلى ميانمار في مستهل جولة تشمل ميانمار وبنغلادش، وأنه سوف يبحث مسألة اضطهاد المسلمين هناك وتهجيرهم وأنه سيجتمع مع قائد الجيش في ميانمار مين أونغ هلينغ ورئيسة الحكومة فيها سان سو تشي. وكان قد صرح سابقا حول مسلمي الروهينغا: "إنهم يعانون على مدار أعوام ويعذبون ويقتلون ببساطة لأنهم يريدون أن يمارسوا ثقافتهم ودينهم الإسلامي". حيث رحلت ميانمار أكثر من 600 ألف مسلم من ديارهم إلى بنغلادش. وقد فرضت أمريكا عقوبات على الجيش في ميانمار وطالب وزير خارجيتها تيلرسون "بضرورة ضبط الجيش" و"حمل الجيش المسؤولية عن الحملة الشرسة ضد الروهينغا المسلمين" محذرا من أن "بلاده لن تقف متفرجة على الفظائع الذي يرتكبها الجيش" وحاول تبرئة سو تشي مما يرتكبه الجيش معتبرا أن "حكومتها ديمقراطية ناشئة".

0:00 0:00
Speed:
November 29, 2017

أيا أمة المليارين! أتترك قضية إخوانكم الروهينغا للبابا وللمستعمر؟!

أيا أمة المليارين!

أتترك قضية إخوانكم الروهينغا للبابا وللمستعمر؟!

الخبر:

ذكرت وكالات الأنباء أن بابا الفاتيكان فرنسيس الأول وصل يوم 2017/11/27 إلى ميانمار في مستهل جولة تشمل ميانمار وبنغلادش، وأنه سوف يبحث مسألة اضطهاد المسلمين هناك وتهجيرهم وأنه سيجتمع مع قائد الجيش في ميانمار مين أونغ هلينغ ورئيسة الحكومة فيها سان سو تشي. وكان قد صرح سابقا حول مسلمي الروهينغا: "إنهم يعانون على مدار أعوام ويعذبون ويقتلون ببساطة لأنهم يريدون أن يمارسوا ثقافتهم ودينهم الإسلامي". حيث رحلت ميانمار أكثر من 600 ألف مسلم من ديارهم إلى بنغلادش. وقد فرضت أمريكا عقوبات على الجيش في ميانمار وطالب وزير خارجيتها تيلرسون "بضرورة ضبط الجيش" و"حمل الجيش المسؤولية عن الحملة الشرسة ضد الروهينغا المسلمين" محذرا من أن "بلاده لن تقف متفرجة على الفظائع الذي يرتكبها الجيش" وحاول تبرئة سو تشي مما يرتكبه الجيش معتبرا أن "حكومتها ديمقراطية ناشئة".

التعليق:

إن بابا الفاتيكان يستغل مسألة اضطهاد المسلمين في ميانمار لمآرب دينية وسياسية، فهناك في ذلك البلد يوجد نصارى أيضا وهم قلة، ولكن لا تمسهم دولة ميانمار لأن هناك دول الغرب كلها تحميهم. والمسلمين لا حامي لهم، فيريد البابا أن يستغل هذه المسألة ليعزز الوجود النصراني في ميانمار البوذية، وفي محاولة لكسب المسلمين أيضا، فأضاف قائلا: "لقد طردوا من ميانمار ورحلوا إلى مكان آخر بسبب أنه لا أحد يريدهم. إنهم طيبون ومسالمون. إنهم ليسوا مسيحيين. إنهم طيبون. إنهم إخواننا وأخواتنا". ويستغل المسألة سياسيا لصالح أمريكا التي تضغط على الجيش الموالي للإنجليز وتعمل على تعزيز موقف حكومة سو تشي الموالية للأمريكان لتعزز النفوذ الأمريكي وتضرب النفوذ الإنجليزي حيث يجري صراع إنجلو أمريكي في ميانمار. ولهذا فرضت أمريكا عقوبات على الجيش وليس على الحكومة، وتعمل على الضغط على الجيش وتدين أعماله.

أما الأنظمة في العالم الإسلامي التي من المفترض أن تكون مسؤولة عن المسلمين وقضاياهم، فإنه لا شأن لها في الأمر ولا يعنيها. فمرة زأر رئيس تركيا أردوغان كأنه أسد ولكن تبين أنه أرنب تشبّه بالأسد! فهذه عادته دائما كما فعل فيما يتعلق بفلسطين وسوريا فخذل أهل فلسطين وغزة وخذل أهل سوريا وثورتهم وتآمر عليهم وباعهم. فأكثر ما عمل لمسلمي ميانمار أنه أرسل امرأته لتبكي مع البواكي من نساء المسلمين الروهينغا ووعد بإرسال 10 أطنان من المساعدات وسيعززها بآلاف أخرى عندما يتمكن! يا للعار له ولسائر حكام المسلمين الذين يخذلون المسلمين بل يتآمرون عليهم ويسحقونهم.

أيا أمة الإسلام! أمة تعدادها يزيد عن المليار والنصف، ولكن تتألم وتتحسر على ما يجري لجزء منها في ميانمار كما تتألم لما يجري لأجزاء أخرى في سائر أقطار الأرض، وفي كل يوم نرى القتل والتشريد يقع لجزء منها هنا وهناك، وتعدادها هائل جدا وإمكانياتها ضخمة جدا، ولكن كيف يحدث مثل ذلك لها فتطعن هنا وهناك، وتقطع أجزاء منها، وهي تتفرج على جسمها كيف يتمزق وتسيل منه الدماء في كل مكان! لماذا لا تقدرين على حماية أجزائك ولديك تلك الإمكانيات والأعداد؟ فما سر ضعفك يا أمة محمد r؟ ألم تدركي بعد ماذا فعل قائدك محمد rعندما كان المسلمون يضطهدون في مكة ويهجرون إلى الحبشة؟ ماذا فعل؟ أقام دولة تحمي حمى الإسلام والمسلمين، لم يرسل عشرة أطنان من الطحين والسمن والزبدة والملابس المستعملة؟ أقام دولة وأعلن الجهاد على الأحمر والأسود حتى يقولوا لا إله إلا الله محمد رسول الله. أقام دولة وليس ليحمي المسلمين فقط بل لينقذ العالم كله. قادها عشر سنوات مجاهدا وداعيا إلى الله وهادي الناس إلى دين الله. واستن بسنته وبفرض الله أصحابه الكرام في خلافة راشدة وتبعه المسلمون حتى هدمها الكافر المستعمر في اسطنبول بعد 1342 عاما، فتفرقت أمة الإسلام وأصبحت أجزاء ممزقة، ينهشك الكلاب والذئاب ويتعدى عليك الأوغاد وشذاذ الآفاق وشرار الخلق وأنذال الناس!!

يا أمة الإسلام! تحين ذكرى مولد نبيك محمد r بالمدائح وتقسيم الحلوى!! بل أحيي ذكراه بالاقتداء به بإقامة دولة عظيمة تحيي سنته وتطبق دينه، وقد بشرك بعودتها حيث قال: «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ». وستكون بإذن الله، فليعمل محبو النبي rوالذين يصلون عليه ويكثرون الصلاة عليه على إقامتها حتى يكونوا من زواره على الحوض، وسيرى الله أعمالكم وصدقكم وسيصدقكم بإقامتها ﴿وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّهِ قِيلاً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست