أيها الحكام كفاكم إثماً أن تهنئوا روسيا وتستقبلوها على موائد الإفطار بينما هي تقصف جبل التركمان! (مترجم)
أيها الحكام كفاكم إثماً أن تهنئوا روسيا وتستقبلوها على موائد الإفطار بينما هي تقصف جبل التركمان! (مترجم)

الخبر: أصدرت القوات المسلحة التركية بيانًا حول منطقة جبل التركمان وهي المنطقة التي يسكنها أساسًا البايربوشاق التركمان في سوريا، أنها قد سقطت في أيدي النظام. وقال البيان إنه "بعد الهجوم بدأت المعارضة يوم 17 حزيران/ يونيو، وعادت الخطوط إلى مكانها السابق في منطقة التركمان، كما تمت استعادة قرى 'كيلز' و'عيسابيناري' و'اكشابيير'." (أخبار).

0:00 0:00
Speed:
June 24, 2016

أيها الحكام كفاكم إثماً أن تهنئوا روسيا وتستقبلوها على موائد الإفطار بينما هي تقصف جبل التركمان! (مترجم)

أيها الحكام كفاكم إثماً أن تهنئوا روسيا

وتستقبلوها على موائد الإفطار بينما هي تقصف جبل التركمان!

(مترجم)

الخبر:

أصدرت القوات المسلحة التركية بيانًا حول منطقة جبل التركمان وهي المنطقة التي يسكنها أساسًا البايربوشاق التركمان في سوريا، أنها قد سقطت في أيدي النظام. وقال البيان إنه "بعد الهجوم بدأت المعارضة يوم 17 حزيران/ يونيو، وعادت الخطوط إلى مكانها السابق في منطقة التركمان، كما تمت استعادة قرى 'كيلز' و'عيسابيناري' و'اكشابيير'." (أخبار).

التعليق:

منذ تاريخ 30 أيلول/سبتمبر 2015 أرادت روسيا مسح منطقة حلب ودمشق وحماة وحمص واللاذقية، وهي خط أحمر للنظام من قوى المعارضة. وقامت بقصف جوي لمنطقة جبل التركمان المتاخمة لتركيا كما تمت محاولة الاستيلاء عليها كليًا باستخدام استراتيجية الأرض المحروقة التي وضعها الأسد وإيران. ما هي أسباب الهجوم العنيف على جبل التركمان خلال الثمانية أشهر الماضية؟ ولماذا تطمع روسيا والأسد في هذه المنطقة كثيرًا؟ دعونا نحاول العثور على إجابات لهذه الأسئلة:

1- منطقة جبل التركمان بسبب موقعها الجغرافي ووضعها الديموغرافي لها أهمية استراتيجية تتعلق بالحرب الدائرة في سوريا، كما أن التلال التي تملؤها لها أهمية عسكرية بالنسبة لمدينة اللاذقية. هذه المنطقة بسبب موقعها خلف الحدود التركية تعتبر بمثابة بوابة إلى عدة مدن مثل جسر الشغور وإدلب بالنسبة للمعارضة.

2- اللاذقية تقع حيث يقع جبل التركمان، هي منطقة بيت عائلة الأسد وحيث تقع غالبية النصيريين، نتيجة هذه الأسباب تعيش هذه المنطقة حالة من الانهيار المعنوي. كذلك لأن التركمان الذين يعيشون هناك هم من السنة، ونظام الأسد يريد الهيمنة على المنطقة لأنّه في حال لو تم تقسيم سوريا في المستقبل سوف تنشأ هناك دولة علويّة.

3- اللاذقية هي المنطقة التي لها أهمية استراتيجية وعسكرية بالنسبة لروسيا. لأن روسيا لديها قواعد عسكرية على طول شاطئ البحر الأبيض المتوسط في اللاذقية وطرطوس، ولمساعدة نظام الأسد فالمرور عبر ميناء اللاذقية يزيد من أهمية المنطقة. وهذا هو السبب في مهاجمة روسيا لهذه المنطقة منذ بداية عملياتها في سوريا. بسبب انتهاكات الحدود في هجماتها فإن الطائرات التركية في المنطقة قد أسقطت مقاتلة لها وهو ما وتّر العلاقات بين روسيا وتركيا.

4- والسبب الآخر وراء الهجمات على هذه المنطقة هو تغيير التركيبة السكانية في هذه المنطقة. حيث يعيش الآلاف من المسلمين التركمان في هذه المنطقة. وفي أعقاب الهجمات قُدر عدد المهاجرين من هذه المنطقة نحو الحدود التركية أكثر من 40 ألف شخص، ومن ظل منهم واصلوا المقاومة. روسيا تريد تطهير المنطقة من غير النصيريين وجعل النصيريين هم السكان الوحيدين في المنطقة.

5- أيضا هناك خطة لفتح ممر كردي يصل إلى البحر الأبيض المتوسط مفصول عن سوريا. منطقة جبل التركمان تشكل عائقًا أمام ما يريد حزب العمال الكردستاني تشكيله في شمال سوريا. إذا رفعت عقبة جبل التركمان، فإن تشكيل شمال كردستان يصبح مضمونًا.

6- لأن جبل التركمان قريب جدًا من بلدة 'يالاداجي هاتاي' وهي منطقة ذات أهمية استراتيجية بالنسبة لتركيا. إذا تم التفريط في هذه المنطقة قد يؤدي إلى قيام دولة للعلويين أو منطقة لحزب العمال الكردستاني، ما من شأنه أن ينتج مشاكل جديدة بالنسبة لتركيا.

7- والسبب الآخر المهم وراء الهجمات الضارية على كل من جبل التركمان ومناطق مثل حماة وحلب، هو منع إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وللحفاظ على نظام الأسد ومنعه من السقوط ولإجبار المعارضة البالية على الوقوف مع الأسد. في الهجمات الأخيرة التي سقط فيها عشرات الشهداء وأصيب المئات لا يمكن أن تكون تغطية إعلامية أكثر عارًا مما هي عليه.

المثقفون! والعلماء! يلتزمون الصمت حيال خيانة دول العالم، ولكن لا يزال المجاهدون في منطقة جبل التركمان يواصلون جهادهم في سبيل الله. على الرغم من أنهم يتراجعون من وقت لآخر، إلاّ أنهم يستعيدون ما يتم فقدانه بعون الله. وعلى الرغم من أن حكام تركيا يرسلون رسائل تهنئة إلى روسيا من أجل تحسين العلاقات بينهما، واستضافة سفيريهما على مائدة الإفطار، فلم يعتمد إخواننا التركمان عليهم بل يعتمدون على الله في مواصلة نضالهم ليل نهار مع التوكل والصبر. أيًا كان السبب فإن الأشخاص الذين يتعاملون مع أعداء الإسلام والمسلمين سيخسرون بالتأكيد، وسينتصر المؤمنون بعون الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

موسى باي أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست