أيها الإخوة في طالبان! يمّموا وجوهكم شطر الأمة الإسلامية لا شطر المجتمع الدولي الكافر
أيها الإخوة في طالبان! يمّموا وجوهكم شطر الأمة الإسلامية لا شطر المجتمع الدولي الكافر

الخبر:   أوضح وكيل وزارة الثقافة والإعلام الأفغانية ذبيح الله مجاهد أن حكومة تصريف الأعمال لا تنوي المطالبة بتسليم الرئيس السابق أشرف غاني، وإنما تطالب بإعادة أموال البلاد المنهوبة، وردّاً على سؤال عمّا إذا كانت كابل طلبت وساطة لرفع العقوبات، قال وكيل الثقافة والإعلام الأفغانية إن روسيا يمكن أن تقوم بخطوة مهمة في هذا الأمر، ونوّه مجاهد بأن المساعدات تصل إلى أفغانستان من روسيا وقطر وباكستان والأمم المتحدة، مشدّدا على أن كابل تنتظر المزيد منها. وفيما يخص العلاقات مع روسيا، قال مجاهد إن حكومته ترغب في علاقات جيدة معها، وإنهم منفتحون على زيارة موسكو. ...

0:00 0:00
Speed:
September 26, 2021

أيها الإخوة في طالبان! يمّموا وجوهكم شطر الأمة الإسلامية لا شطر المجتمع الدولي الكافر

أيها الإخوة في طالبان!

يمّموا وجوهكم شطر الأمة الإسلامية لا شطر المجتمع الدولي الكافر

الخبر:

أوضح وكيل وزارة الثقافة والإعلام الأفغانية ذبيح الله مجاهد أن حكومة تصريف الأعمال لا تنوي المطالبة بتسليم الرئيس السابق أشرف غاني، وإنما تطالب بإعادة أموال البلاد المنهوبة، وردّاً على سؤال عمّا إذا كانت كابل طلبت وساطة لرفع العقوبات، قال وكيل الثقافة والإعلام الأفغانية إن روسيا يمكن أن تقوم بخطوة مهمة في هذا الأمر، ونوّه مجاهد بأن المساعدات تصل إلى أفغانستان من روسيا وقطر وباكستان والأمم المتحدة، مشدّدا على أن كابل تنتظر المزيد منها. وفيما يخص العلاقات مع روسيا، قال مجاهد إن حكومته ترغب في علاقات جيدة معها، وإنهم منفتحون على زيارة موسكو. في السياق ذاته، قالت "سبوتنيك" - نقلا عن الخارجية الروسية - إن موسكو وكابل تناقشان احتمال زيارة وفد من الحكومة الأفغانية المؤقتة. من جهته، دعا أمير خان متقي وزير الخارجية بالوكالة في حكومة تصريف الأعمال الأفغانية المجتمعَ الدولي إلى بناء علاقات طيبة مع بلاده، وجدّد متقي التأكيد على أن الحكومة الحالية تريد روابط وعلاقات جيدة مع الجميع. (الجزيرة نت).

التّعليق:

انتظرت الأمة طويلا إعلان حركة طالبان قيام دولة إسلامية أو دولة خلافة تحكم بكتاب الله وسنة نبيه، وإذا بها تعلن عن تشكيل حكومة وزارية من دون الإعلان عن معالم لطبيعة الدولة وشكلها، ودون الإعلان عن دستور وقانون واضحين يكونان مستنبطان من الكتاب والسنة، وبدلا من ذلك راحت الحركة تطمئن المجتمع الدولي ودول الجوار المعادية لها والموالية للمجتمع الدولي بالتزامها بالقانون الدولي وحسن الجوار وبالتزامها بما اتفقت عليه مع أمريكا في الدوحة؛ وطالبت بناء على ذلك المجتمعَ الدولي بالاعتراف بالحكومة الوزارية التي شكلتها، حيث طالب ذبيح الله مجاهد وكيل وزارة الإعلام في حكومة تصريف الأعمال الأفغانية المجتمعَ الدولي بالاعتراف بالحكومة الأفغانية الجديدة والتعامل معها وفق المعايير الدولية، نافيا أي وجود لتنظيمي الدولة والقاعدة في البلاد، وردّاً على هذا الطلب "دعا وزير الخارجية الأمريكي أنتوني بلينكن المجتمع الدولي إلى انتهاج مقاربة موحدة تجاه حركة طالبان، وشدّد على أن الشرعية الدولية التي تسعى لها طالبان مرتبطة بمدى التزامها بالتعهدات التي قطعتها، مثل السماح بحرية السفر ومنع الجماعات (الإرهابية) من استخدام أفغانستان كقاعدة لعمليات خارجية تهدد دولا أخرى، واحترام حقوق الإنسان الأساسية، خاصة بالنسبة للنساء والأطفال و(الأقليات)، والامتناع عن القيام بأعمال انتقامية، وغيرها".

إن "الدين النصيحة"، ونحن ننصح إخوتنا في حركة طالبان أن يولّوا وجوهم شطر الأمة الإسلامية، وليس شطر المجتمع الدولي الكافر والمعادي والكاره للإسلام والمسلمين، وننصحهم بعدم المفاضلة بين دولة ودولة، فالهند والصين وروسيا وأمريكا محور واحد لقوى الشر والكفر العالمي، والدول الظالمة القائمة في البلاد الإسلامية والمغتصبة لسلطة المسلمين فيها لا تقل عنها كرها وعداوة للإسلام والمسلمين، بل هي دول عميلة وأدوات وبيادق تستخدمها الدول الكبرى لتحقيق مصالحها في بلادنا، ولمحاربة الإسلام والمسلمين، والتأكد من عدم وصول الإسلام إلى سدة الحكم، فلا فرق بين باكستان وتركيا وإيران وقطر وبين أمريكا رأس الكفر. يجب على الحركة ألا تتبنّى التفكير البراغماتي ظانّة أن السياسة هي فن الممكن، بل أن تجعل مرجعيتها في كل كلمة وخطوة تقدم عليها هي الأحكام الشرعية لا غير، ولا تظننّ أنه بما يصدر عن عقول البشر العاجزة والقاصرة ومن خلال المناورة ومخالفة الأحكام الشرعية ستجني النجاة والسلامة، فهل طلب رسول الله ﷺ اعتراف الفرس والروم بدولته في المدينة أم أرسل إليهم الرسل يدعوهم للإسلام، على الرغم من أنهم لم يقاتلوه ولم يشكلوا أحلافا لقتاله؟! وهل طلب من قريش المساعدات الإنسانية وغير الإنسانية أو الإفراج عن أموال المهاجرين التي أخذوها منهم أم أعدّ العدة لقتالهم ودك حصونهم وفتح مكة؟! وهل عفا عليه الصلاة والسلام عن صناديد قريش وتشاور معهم في تشكيل "حكومته" أم قاتلهم في معركتي أحد وبدر؟!

إننا على علم بأن الآلاف من المجاهدين المخلصين في أفغانستان قد صدقوا الله ما عاهدوه عليه، طمعاً في مرضاته بإعلاء كلمته سبحانه وتعالى خفاقة فوق دار للخلافة التي كانوا يحلمون بها في كابول أو في إسلام آباد، ولم يبذلوا أرواحهم طمعا في كرسي معوجّة قوائمه في الأمم المتحدة أو إرضاءً للمجتمع الدولي الذي رماهم عن قوس واحدة وقاتلهم وقتّلهم ورمّل نساءهم ويتّم أطفالهم. لكن لمّا تبيّن للحركة أنه ليس عندها مشروع لإقامة الخلافة وعدم قدرتها على ذلك، كان يجب عليها وضع أيديها بأيدي إخوانها العاملين المخلصين لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فيعطوا النصرة لحزب التحرير، الحزب الذي عنده مشروع كامل لدولة الخلافة وقادر على إدارة الدولة ومؤسسات الدولة، الإدارة الشرعية والسياسية كما أدارها النبي محمد ﷺ، فالحزب قد أعدّ العدة لدولة خلافة على منهاج النبوة وليس على منهاج أمراء الطوائف أو الإمارات التي كانت قائمة في تاريخ المسلمين المتأخر. إن حزب التحرير لا يطمع في مناصب الحكم ولكنه لا يزهد في الحكم بالإسلام، لذلك فإنه حين يطلب الحكم فإنه يطلبه للحكم بالإسلام وليس طلبا لمغنم، فالحكم في الإسلام تكليف شرعي للقادر عليه، ولا يجوز للقادر عليه التخلف أو الزهد فيه، كما لا يجوز لغير القادر على الحكم بالإسلام أن يعضّ على مناصب الحكم وكأنه أصاب مغنما لنفسه، قال رسول الله ﷺ لأبي ذر: «يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفاً، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ، وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ» رواه مسلم، وقال له أيضا: «يَا أَبَا ذَرٍّ، إنَّكَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّها أَمَانَةٌ، وَإنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ، إِلاَّ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا» رواه مسلم.

#أفغانستان      #Afganistan#Afghanistan

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

بلال المهاجر – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست