أيها المخلصون! افضحوا الفخاخ المُعدّة لإدلب (مترجم)
أيها المخلصون! افضحوا الفخاخ المُعدّة لإدلب (مترجم)

الخبر:   رفع القادمون من الغوطة الشرقية أعباء إدلب من جديد، إلى جانب الملايين من طالبي اللجوء الذين سبقوهم إلى المنطقة. فهؤلاء المظلومون الهاربون من ظلم الطاغية الأسد يتصارعون مع العديد من المشاكل على الحدود التركية. وقد دعا مجلس مدينة إدلب القوات التركية المسلحة للمشاركة في عملياتها من أجل السلام في المنطقة.

0:00 0:00
Speed:
April 10, 2018

أيها المخلصون! افضحوا الفخاخ المُعدّة لإدلب (مترجم)

أيها المخلصون! افضحوا الفخاخ المُعدّة لإدلب

(مترجم)

الخبر:

رفع القادمون من الغوطة الشرقية أعباء إدلب من جديد، إلى جانب الملايين من طالبي اللجوء الذين سبقوهم إلى المنطقة. فهؤلاء المظلومون الهاربون من ظلم الطاغية الأسد يتصارعون مع العديد من المشاكل على الحدود التركية. وقد دعا مجلس مدينة إدلب القوات التركية المسلحة للمشاركة في عملياتها من أجل السلام في المنطقة.

التعليق:

لقد استنجد الشعب السوري بالحكومة التركية طوال 7 سنوات. وتتابعت رسائلهم المستغيثة. لكن المسؤولين الذين تغاضوا عن استغاثات الشعب المرتفعة من بانياس وحماة ودرعا وحلب والغوطة الشرقية؛ أطلقوا عملية درع الفرات استجابة لأمريكا وروسيا في إطار عملية كبيرة انتهت بجريمة تسليم حلب لنظام الأسد القاتل! والوضع يشير إلى أن الوقت حان من أجل تسليم إدلب، وأن التحضيرات جارية لتسليمها أيضاً إلى النظام. وهكذا يأتي دور الإعلام الدولي والتركي في تحضير الرأي العام بنقل المأساة الإنسانية التي تعيشها المدن المحاصرة من قبل روسيا وإيران والنظام إلى الرأي العام.

وهذا ما حدث في حلب، فالإعلام الذي كان أصم وأعمى وأبكم أمام المذابح والإبادات الجماعية سنوات عديدة، استيقظت إنسانيته فجأةً! وأطلق حملةً تغطية لعملية تفريغٍ "إنسانية!" وإجلاء المدنيين من حلب، وتسليمها في النهاية إلى نظام الأسد القاتل، وانبرى المسؤولون الذين ذرفوا دموع التماسيح فجأة ليكونوا أبطال إجلاء المدنيين من حلب، وتوطينهم في إدلب.

وهذا ما حدث كذلك في الغوطة الشرقية، إذ تم إسكات القوى المدافعة عنها بأكاذيب وقف إطلاق النار، ولم يكلفوا أنفسهم حتى عناء إدراج انتهاك القوات الروسية وقوات نظام بشار لقرار مجلس الأمن الدولي. وخدعوا المقاومة مرة أخرى إذ أقنعوها بأن لا حيلة لهم إلا الجلاء عن الغوطة إلى إدلب.

وجاء الآن دور إدلب، ففي الخبر أعلاه دعوة من مجلس مدينة إدلب لدخول القوات التركية المسلحة. وهنا يجب أن نسأل من الذي يمثل شعب إدلب؟ هل هو مجلس مدينة إدلب أم المجموعات الثورية في المدينة؟ وهل يريد الشعب حقاً أن تدخل تركيا إلى إدلب؟ فإن كان الشعب فعلاً يطلب دخولها؛ فمن المسؤول عن دفع الشعب الذي قدم الضحايا والتضحيات ولا يزال طوال سبعة أعوامٍ للقبول بالحل الأمريكي؟ وكيف بلغت ثورة الشعب السوري إلى مثل هذا العجز؟

إن الجيش السوري الحر الذي آثر البقاء في أماكنه المحررة، وتقاعس عن أي قتالٍ لنظام المجرم بشار، وتقاعس عن توجيه الضربة القاتلة لهذا النظام؛ يقاتل الآن تحت قيادة التحالف الذي تسير في ركاب الحل الأمريكي. نعم هذه المجموعات التي لا تثق بوعد الله ولا تتخذ بشرى رسول الله r حافزاً لها وتعمل على غرس اليأس في الشعب السوري؛ يزحفون الآن في سبيل الوعود التركية الكاذبة وتطبيق الحل الأمريكي، ويقفون في صف التحالف الأمريكي الروسي الإيراني.

والمجموعات المخلصة التي لم تتمكن من توحيد صفوفها، واختيار قيادة سياسية تقودها، وحكمت على نفسها أن تبقى أسيرةً للظروف الصعبة رغم وقوف الشعب معها، ومنحها ثقته طوال هذه الفترة ألا تتحمل جزءاً من المسؤولية؟ بلى تتحمل مسؤولية كبرى كذلك، وهذه الجماعات هي التي تحدثت عن أن دخول تركيا إلى إدلب باعتبارها الجهة الضامنة لمقررات اتفاقيات أستانة لن يتطور لصالح روسيا وإيران والنظام. وواضح أن عدم رؤية الأضرار التي لحقت بالثورة نتيجة القرارات المأخوذة في اجتماعات أستانة التي نظمتها أمريكا، واتفقت فيها روسيا وإيران وتركيا يبعد كل البعد عن الحكمة والبصيرة. وهكذا فـ "القرية الظاهرة للعيان لا تحتاج إلى دليل" كما يقول المثل، والقادة أعلنوا بكل وضوح أن دور إدلب قد حان.

وقد سبق للرئيس أردوغان الذي تحدث يوم الجمعة 23 آذار/مارس في إسطنبول: «لن ينتهي الأمر في عفرين، والأمر سيستمر، فهناك إدلب وهناك منبج، وهناك تكامل هذا الأمر مع منطقة عمليات درع الفرات. والقضية برمتها هي إرجاع إخواننا المظلومين والمتضررين هناك إلى أراضيهم بأسرع وقت ممكن».

ومن هذا التصريح يمكننا رؤية ما يلي: هناك تكامل في المعنى والهدف والنتيجة بين عمليتي غصن الزيتون ودرع الفرات. والقيام بهذه العمليات لها معنىً واحد ألا وهو خدمة أمريكا في خطة الحل السوري. وأما الهدف فهو خلق عمليات عسكرية في المنطقة تهدف إلى توجيه الجماعات الثورية الإسلامية إلى أهداف أخرى وتجميد قتالها ضد النظام السوري وتمزيق وحدتها. وأما النتيجة فهي إجبار الجماعات المتمردة لترك أراضيها في حلب وإدلب وتسليمها للنظام عن طريق عمليات القصف والذبح من قبل روسيا والنظام من جهة وخداع تركيا السياسي من جهة أخرى.

إن الصراع مع الجماعات مثل حزب العمال الكردستاني وحزب الاتحاد الديمقراطي، وتنظيم الدولة التي تعد بمثابة فيالق الجيش الأمريكي في المنطقة ما هي إلا عملية خداعٍ وقتالٍ مزيف. لأن تركيا لا تستطيع أن تزعم الحرب على إرهاب هذه الجماعات مع استمرار صداقتها وتحالفها مع أمريكا باعتبارها الفاعل الرئيسي وراء هذه المنظمات. وهذا الطريق الذي تسلكه تركيا لن يوصل أولئك الذين يؤمنون بهذه الأكاذيب والحيل إلى النصر بل إلى الاعتراف بمشروعية نظام الأسد القاتل مع الأسف. وينبغي رؤية هذا الطريق، هكذا نفق لا يمكن الخروج منه. وجميع الحملات التي تقام اليوم والتي ستقوم فيما بعد تحت شعار "أنقذوا إدلب" لن تكون دعوةً لإنقاذ إدلب، ولا لاستمرارية الثورة، بل ستكون حملات تخدم إنهاء الثورة وقتلها. وهذا ما حصل في حلب وما حصل في الغوطة الشرقية، ومن واجبنا أن نبين للناس حتى لا تتكرر حلب والغوطة في إدلب، وأن يفتح الشعب أعينه، ويرى الحقيقة كما هي. واليد التي ستمدها تركيا بناءً على محادثات أمريكا والأمم المتحدة في أستانة للشعب في إدلب ستكون ضربة لإنهاء الثورة وجر إدلب إلى الفخ. فيا أيها المخلصون افضحوا الفخاخ المُعدّة لإدلب.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست