أيّها المسلمون: إخوانكم في أوزبيكستان… أيضاً يستنصرونكم
أيّها المسلمون: إخوانكم في أوزبيكستان… أيضاً يستنصرونكم

سلطات أوزبيكستان تعيد شباب حزب التحرير إلى السجون بعد قضاء شطر أعمارهم فيها بتهم مزورة بعد إجبارهم على الاعتراف بها تحت التهديد باغتصاب نسائهم والتنكيل بعائلاتهم.

0:00 0:00
Speed:
July 11, 2024

أيّها المسلمون: إخوانكم في أوزبيكستان… أيضاً يستنصرونكم

أيّها المسلمون: إخوانكم في أوزبيكستان… أيضاً يستنصرونكم

الخبر:

سلطات أوزبيكستان تعيد شباب حزب التحرير إلى السجون بعد قضاء شطر أعمارهم فيها بتهم مزورة بعد إجبارهم على الاعتراف بها تحت التهديد باغتصاب نسائهم والتنكيل بعائلاتهم.

التعليق:

آسيا الوسطى: أوزبيكستان وقرغيزستان وتركمانستان وكازاخستان وطاجيكستان وتركستان الشرقية، من أعظم حواضر الإسلام والمسلمين، مهد العلم والعلماء والأبطال المجاهدين، من أعزّ ديار الإسلام… يأبى أعداء الإسلام أن يدَعوها تعود إلى حضن أمّتها، ويسوؤهم مجرّد أن يتنسّم أهلها نسائم الإيمان والإسلام، ويرعبهم أن يتوق أهلها مجرّد توق للحياة الإسلامية، ويحرصون على إبقائها طيّ النسيان وسجينة الجدران الجغرافية والسياسية.

حين تقرؤون في تاريخ الإسلام أيّها المسلمون عن أعلام كالبخاري والترمذي والخوارزمي والمروزي والسمرقندي والفرغاني… بل حين تسمعون وتقرؤون عن القائد المجاهد الظاهر بيبرس قاهر المغول والصليبيين ومحيي الخلافة في القاهرة بعد هدمها في بغداد، فإنّما عن أعلام أنجبتهم تلك البلاد، بلاد ما وراء النهر… تسمعون وتقرؤون.

وقعت هذه البلاد العزيزة على قلوب المسلمين تحت احتلال روسيا القيصرية منذ أكثر من مائة وخمسين سنة، لتمسي بعد قيام الاتّحاد السوفياتي أسيرة الشيوعية الملحدة والمتوحّشة، فتُمحى آثار الإسلام، ويكاد ذكره يندثر فيها بعد أن نشأت أجيال لا تعرف عنه شيئاً سوى أن آباءها كانوا في غابر الزمان يسمّون بالمسلمين دون أن يعرفوا معنى هذا الإسلام شيئا! وعلى الرغم من هذه الغربة الرهيبة يبدأ هؤلاء بالعودة بسرعة مذهلة إلى دينهم بمجرّد انهيار المنظومة السوغياتية وشيوعيتها وجدرانها الحديدية. وعلى الرغم من العناية البالغة التي حظيت بها الكنيسة الأرثوذكسية في روسيا الاتّحادية ما بعد الشيوعية والحرص على إعادة مجدها ودورها في المجتمع، يأبى فلول الشيوعيين في بلاد آسيا الوسطى الإسلامية إلّا أن يطمسوا معالم الإسلام الحقيقي الذي يُنشئ حياة ومجتمعاً وطريقة عيش. وكان أبرز هؤلاء المجرمين رئيس أوزبيكستان المقبور المدعو زوراً "إسلام كريموف"، ذلك الحاقد الذي تراكم حقده على الإسلام من جذوره الشيوعية وأصوله اليهودية. شنّ هذا الطاغية منذ ربع قرن حرباً على كلّ مظاهر الإسلام التي أرّقت نومه ونوم سيّده بوتين، فشنّ حملة على كلّ حَمَلة الدعوة الإسلامية بشتّى مدارسهم وانتماءاتهم، وعلى اللباس الشرعي الإسلامي ومدارس تعليم القرآن والشريعة. وكان أكثر مَن نالَهم إجرامُه شباب حزب التحرير الذين امتازوا بقوّة فكرهم ووضوح تعبيرهم عن الإسلام من حيث هو مشروع حضارة ونظام عيش بديل عن الشيوعية والرأسمالية معا. فراح يجتاحهم اعتقالاً وتشريداً وتعذيباً وسحقاً لعظامهم وحرقاً لأجسادهم وسلخاً لجلودهم وبقراً لبطونهم… في صور يندى لها جبين الإنسانية وتنخلع من هولها القلوب.

وكان أهون تلك الممارسات الوحشية الحكم على المئات منهم بالسجن لمدد طويلة لا يقلّ معظمها عن العشرين سنة في أسوأ السجون وأكثرها امتهاناً للكرامة الإنسانية!

هلك الطاغية سنة 2016 وخلفه الرئيس ميرزياييف الذي أعلن أنّه لا يوافق على انتهاكات حقوق الإنسان التي اقترفها سلفه، وأنّه سيوقفها وسيفتتح مرحلة جديدة تتّسم باحترام القانون والحرّيات العامّة، فاستبشر الناس خيراً وتنفّسوا الصعداء، ولكنّهم ما لبثوا أن فُجعوا بأنّ هذه التصريحات كانت مجرّد سراب وأوهام. فشباب حزب التحرير الذي أمضوا شطر أعمارهم في السجون وخرجوا بعد أن انتهت مدد أحكامهم - بل كثير منهم جدّدت أحكامهم بعد أن أمضوها - ما لبثوا أنّ رأوا أنفسهم يساقون مجدّدا إلى التحقيق ليجبَروا على الاعتراف بجرائم لم يرتكبوها وليوقّعوا على اعترافات معدّة مسبقاً يودعون بموجبها مجدّداً في السجون وأقبية الزنازين، تحت التهديد باغتصاب نسائهم واعتقال أبنائهم والتنكيل بذويهم إن هم أبوا المصادقة على الاعترافات المعدّة مسبقاً!

هؤلاء المجرمون ما كانوا ليتمادوا في إجرامهم هذا لو كانوا يتوقّعون أن يكون ثمّة أدنى محاسبة لهم بل حتّى أقلّ لوم من أيّ حاكم من حكّام بلاد المسلمين الذين سلّموا بتبعية تلك البلاد المسلمة للمنظومات الدولية الكافرة. فأنّى لهم أن يحسبوا حساباً لهؤلاء الحكّام وهم يرونهم رأي العين يخذلون أهل غزّة الذين يبادون ويقتل منهم عشرات الآلاف وتمحى ديارهم من على وجه البسيطة وهم على مرمى حجر من بلادهم وجيوشهم، بل ويتواطؤون مع عدوّهم عليهم! بل قد شهدوا من قبل خذلانهم لجيرانهم التركمان في تركستان الشرقية التي تحتلّها الصين وتسوم أهلها سوء العذاب… وغيرهم وغيرهم…

كلّ هذا الذي يجري - وكثير منه لا يسمع به أحد من الناس - لَيؤكّد أنّ هذه الأمّة لن تنجو من لؤم أعدائها ونكالهم بها واستضعافهم إيّاها إلّا بأن تبني لنفسها بنياناً تأوي إليه، وتأمن فيه على أنفسها وأعراضها، ويكون لها مِجَنّاً، تقاتل من ورائه وتتّقي به أعداءها، دولةً راشدة تنتمي إليهم وينتمون إليها، ففيها الاستخلاف والتمكين والأمن من الخوف والقتل والتشريد، وفيها يعبدون الله تعالى آمنين مطمئنين، ومنها ينطلقون ليجاهدوا عدوّهم وليحرّروا ما اغتصب من أرضهم، ولينشروا إسلامهم رسالة خير ونور إلى العالم كلّه.

#صرخة_من_أوزبيكستان

#PleaFromUzbekistan

#ЎЗБЕКИСТОНДАН_ФАРЁД

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد القصص

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست