أزكمتم أنوفنا بعد أن صدعتم رؤوسنا يا حكام الضلال
أزكمتم أنوفنا بعد أن صدعتم رؤوسنا يا حكام الضلال

الخبر:   أعلن الرئيس التركي رجب طيب أردوغان، عن استعداد بلاده لتقديم المساعدة للاجئين المسلمين، الذين فروا من ميانمار إلى بنغلاديش. وقال خلال القمة الأولى لمنظمة التعاون الإسلامي في العلوم والتكنولوجيات التي عقدت في أستانا عاصمة كازاخستان، إن المسلمين الروهينجا يواجهون في الوقت الراهن مجموعة كبيرة من الصعوبات والأزمات، داعيا إلى تعزيز الوحدة والصفوف والتعاون للتغلب عليها. وأضاف الرئيس التركي: "يلقى إخواننا المسلمون في ميانمار، معاملة قاسية جدا، ويجبرون على مغادرة ديارهم. يجب علينا بذل الجهود لمنع معاملتهم بهذا الشكل غير العادل. نحن نرغب بالعمل مع حكومتي ميانمار وبنغلاديش من أجل منع هذه الدراما الإنسانية". وشدد أردوغان خلال كلمته على ضرورة تقديم المساعدة للاجئين في بنغلاديش وقال: "لقد أبلغنا السلطات البنغالية بأننا نريد المساعدة في هذا الصدد". (المصدر: نوفوستي)

0:00 0:00
Speed:
September 11, 2017

أزكمتم أنوفنا بعد أن صدعتم رؤوسنا يا حكام الضلال

أزكمتم أنوفنا بعد أن صدعتم رؤوسنا يا حكام الضلال

الخبر:

أعلن الرئيس التركي رجب طيب أردوغان، عن استعداد بلاده لتقديم المساعدة للاجئين المسلمين، الذين فروا من ميانمار إلى بنغلاديش. وقال خلال القمة الأولى لمنظمة التعاون الإسلامي في العلوم والتكنولوجيات التي عقدت في أستانا عاصمة كازاخستان، إن المسلمين الروهينجا يواجهون في الوقت الراهن مجموعة كبيرة من الصعوبات والأزمات، داعيا إلى تعزيز الوحدة والصفوف والتعاون للتغلب عليها. وأضاف الرئيس التركي: "يلقى إخواننا المسلمون في ميانمار، معاملة قاسية جدا، ويجبرون على مغادرة ديارهم. يجب علينا بذل الجهود لمنع معاملتهم بهذا الشكل غير العادل. نحن نرغب بالعمل مع حكومتي ميانمار وبنغلاديش من أجل منع هذه الدراما الإنسانية". وشدد أردوغان خلال كلمته على ضرورة تقديم المساعدة للاجئين في بنغلاديش وقال: "لقد أبلغنا السلطات البنغالية بأننا نريد المساعدة في هذا الصدد". (المصدر: نوفوستي)

التعليق:

لقد كدنا ننسى يا أردوغان أنك رئيس لدولة قوية ذات تاريخ عظيم مشرف في نصرة المظلوم ورفع الضيم عنه، لقد غاب عنا أن هذه الدولة كانت الحضن الدافئ الذي يلجأ إليه كل المستضعفين في مشارق الأرض ومغاربها، ولكننا أيضا كدنا ننسى أن هذه الدولة الآن هي من أوائل الدول التي اعترفت بكيان يهود كدولة على أرض فلسطين، بل وطبعت مع هذا الكيان الغاصب أيضا بعد أن قتل أبناءها في سفينة مرمرة. لقد كدنا ننسى أن أردوغان لم يترك وسيلة رخيصة ولا غالية إلا واستخدمها لنيل رضا أسياده في البيت الأبيض، فغاب عنا أنه قد خدع القاصي والداني وتخلى عن إخوته المسلمين في أرض الشام فأقفل في وجوههم الأبواب وتآمر عليهم في حلب وفي غيرها، بل إنه لا يزال يسعى بكل جهده أن تكون خاتمته سوداء مليئة بالكذب والخذلان للمسلمين كافة، بداية من أبناء شعبه الذين حكمهم ما يزيد عن خمس عشرة سنة، إلى الأقربين له في سوريا والعراق، فتراه يلهث وراء سراب يصوَّر له أنه الماء الشافي المعافي المبقي أبد الدهر المبعد عن الحساب ولكنه خسر وخاب فإن هذا هو عين الوهم.

وأما الآن فها هو هذا الرئيس الأفاك الأشر بعد أن صرح بالأمس أن أستانا هي الخيار الأخير لثورة الشام وأنها هي ما ستنهي الثورة وتصفيها كما يظن هو وأسياده في البيت الأبيض، بعد أن صرح هذه التصريحات المليئة بالخيانة للشام وأهله ها هو يصرح اليوم تصريحات جوفاء كعادته من قبل، فيقول بأن إخواننا المسلمين في ميانمار يستحقون عطفه ورحمته وكأنه يشعر بهم ويهتم لأمرهم ويعاني ما يعانو!، فهو يصف الإبادة التي يعاني منها إخوتنا في ميانمار "بالصعوبات"، فكيف تصف أيها الرئيس قتلهم وتصفيتهم وإبادتهم بهذا الوصف بعد أن لم يبق لأحد أي عذر بعد أن شاهدنا الجرائم البشعة بحقهم هناك؟! كيف وزوجتك نقلت ما يحدث هناك؟! ثم كيف أيها الرئيس الأفاك تتكلم عن الوحدة ورص الصفوف؟! عن أي وحدة وأي صفوف تتكلم، أم أنها لغتك الفضفاضة التي لم تسعفك، فلم تعلم ما يترتب على هذا القول الثقيل على أمثالك؟! ثم إنك تقول إنهم يعاملون بشكل قاس ومؤلم، فماذا أنت فاعل بعد هذا التصريح، أم أنك تظن أن ميانمار هي روسيا التي تأسفتَ وطلبت ودَّها من أجل مسامحتك؟! أم أنك تظنها وحكامها بأنهم أمريكا رأس الكفر وبلد النفوذ فلا تريد أن تجرح مشاعرهم وتؤذيهم فيختل التوازن الدولي من بعدها؟!

أَفِقْ أيها الرئيس الغارق في سكرات موتك، إن ميانمار لا تحتاج سوى جولة واحدة من جولات الجيش التركي التي ترسلها للعراق والشام وقطر، إن هذه الدويلة لا تحتاج من جنود المسلمين سوى سويعات إن قادهم بطل مخلص غيور على أمته ودينه، بل إنهم من الرعب سيولون مدبرين لا مقبلين قبل أن تصلهم الجيوش، لقد كان يجب أن تسمعهم ما ينسيهم وساوس الشيطان وينصف إخوتنا المسلمين هناك الذين هم منا ونحن منهم ونحن منك براء.

اعلم أيها الرئيس أن الله لن يتركهم وحدهم وإن خذلهم الأقربون، فإن لهم ربّاً يرى ويسمع كل شيء فهو ناصرهم، ولن ينال أمثالك العزة والفخر والتمجيد، فأنت وأمثالك قد لبستم لباس العمالة والخيانة ولم يبق لكم شيء تغطون به رائحة عمالتكم التي أزكمت أنوفنا بعد أن صدعتم رؤوسنا، وإننا لعلى ثقة بأن هذه الأحداث وغيرها يهيئها الله تعالى لنا حتى يأتي الخليفة الرباني فينال شرف التحرير ونصرة الدين ورفعة الأمة وعزها، فينال شرف تحرير البشرية من شراذمكم وسمومكم، وإننا لنراه قريبا وترونه بعيداً، ولكن الله مُحِقٌّ وعدَه وجاعلنا الوارثين في الأرض بخلافة راشدة على منهاج النبوة تقام بأيدينا على أنقاض عروشكم، فانتظروا إنا منتظرون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. ماهر صالح – أمريكا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست