أزمات المسلمين حلها إقامة نظام الإسلام
أزمات المسلمين حلها إقامة نظام الإسلام

تحدث الشيخ أحمد بن حمد الخليلي المفتي العام لسلطنة عمان، عن الأزمة الاقتصادية في ظل انخفاض أسعار النفط والسبل للخروج منها قائلاً: "نحتاج إلى عنصرين لحل كل مشاكلنا وهما: التخطيط السليم والتنفيذ الأمين فإن وجدت ارتقت الأمة، والنفط في بلادنا بحاجة إلى تعاون وتكامل وليس التشاحن والتباغض".

0:00 0:00
Speed:
January 07, 2016

أزمات المسلمين حلها إقامة نظام الإسلام

أزمات المسلمين حلها إقامة نظام الإسلام

الخبر:

تحدث الشيخ أحمد بن حمد الخليلي المفتي العام لسلطنة عمان، عن الأزمة الاقتصادية في ظل انخفاض أسعار النفط والسبل للخروج منها قائلاً: "نحتاج إلى عنصرين لحل كل مشاكلنا وهما: التخطيط السليم والتنفيذ الأمين فإن وجدت ارتقت الأمة، والنفط في بلادنا بحاجة إلى تعاون وتكامل وليس التشاحن والتباغض". وذكر أن الإسلام لم يغفل تنظيم الجانب الاقتصادي في حياة المسلمين، وحذر من أكل المال بغير حق. جاء ذلك في حديث له لبرنامج "سؤال أهل الذكر" الذي بثه تلفزيون السلطنة مساء الأحد مشيراً إلى أن التقشف ليس الحل الوحيد.

التعليق:

إن العلماء صنفان؛ علماء ربانيون هم ورثة الأنبياء، يحمون دين الأمة وعقيدتها، وهم من يبصّر الأمة الحق ويبعدها عن الزلل والانحراف. وعلماء سلاطين، يوالون الحاكم ويناصرونه، ويدعمون قراراته بل وخيانته للأمة وتجرؤه على دين الله في كثير من الأحيان. وفي ظل الأزمات التي تعيشها الأمة اليوم، والواقع الأليم الذي نشهده فإن الناس في أشد الحاجة إلى علماء ربانيين يبيّنون لهم بالفقه الصحيح والفكر المستنير المخرج والخلاص مما هم فيه من أزمات ومشكلات، ويقودون حركتهم نحو التغيير الواعي والارتقاء.

وعندما يتحدث عالم بمنزلة مفتي عام السلطنة ونائب رئيس الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين، ويقول للناس أن حل كل مشاكلنا هما "التخطيط السليم والتنفيذ الأمين"، فإن العوام الذين يثقون بعلمه وفقهه يفهمون من حديثه هذا بأننا في بلدٍ النظام فيه نظام إسلامي، وأن السياسات والقوانين كلها وضعت وفقا للأحكام الشرعية، وأنه لا ينقصنا سوى "التخطيط السليم والتنفيذ الأمين" لهذه السياسات حتى ترتقي أمتنا وتكون الأمور كلها على خير ما يرام. وحينما يذكر المفتي في حديثه أن الإسلام لم يغفل تنظيم الجانب الاقتصادي في حياة المسلمين، ومن ثم يقول أن "النفط في بلادنا بحاجة إلى تعاون وتكامل"، فهل لنا أن نفهم من ذلك أن المفتي يجهل أننا في بلد لا يطبق النظام الاقتصادي الإسلامي ومنها الأحكام الشرعية المتعلقة بالنفط والتي من أبرزها كونه من الملكية العامة، أي حق لعامة المسلمين جميعا وليس ملكا للدولة وليس لأحد التصرف به إلا وفق الإقرار الشرعي وضوابطه الفقهية؟!.

إن من الأمور المكشوفة للعامة ناهيك عن العلماء والمثقفين، أن جميع المعالجات والسياسات والمعاملات الاقتصادية في بلادنا قائمة على النظام الرأسمالي. فنظام الربا في البنوك والمصارف، ونظام التأمين، ونظام الخصخصة، والتجارة الحرة... الخ، كلها نظم اقتصادية رأسمالية، بل حتى الميزانيات التي توضع في بلادنا توضع على أساس هذا النظام الرأسمالي العفن. والمعلوم أيضا أن الحكومات تقوم بتنفيذ سياسات صندوق النقد الدولي والبنك الدولي ومنظمة التجارة العالمية، تلك المؤسسات التي أنشأتها الدول الاستعمارية الكافرة لنهب ثروات البلاد الإسلامية وغيرها من دول العالم الثالث وبسط سيطرتها على شعوب العالم. ومن المدرك، لا سيما عند علماء المسلمين، أن هذه المعالجات والسياسات الوضعية جميعها مخالفة لأحكام الإسلام. وأن الاستمرار في تطبيق هذا النظام والسير على خطى الغرب و"التنفيذ الأمين" لمعالجاته التي بان عوارها لن يزيدنا إلا إثما وعنتا ومشقة.

إن العلماء الربانيين لا يصورون الحلول الترقيعية في ظل الأنظمة الوضعية بأنها هي الحل للمشكلات، لما في ذلك حرف للمسلمين عن جادة الحق والصواب. ولا يقومون بمسايرة الأنظمة العلمانية القائمة على غير أساس الإسلام لإطالة أمدها، حيث إن ذلك ليس من شيم العلماء الربانيين، وهو خداع للمسلمين الذين يتوقون للرقي والعيش الكريم. وبدلا من ذلك فإن واجب العلماء أن يبينوا للأمة أن الأزمة الاقتصادية التي نمر بها سببها تطبيق النظام الاقتصادي الرأسمالي العلماني الجشع، الذي أنتجه عقل بشري عاجز ناقص، والذي أثبت ويثبت فشله وتناقضه مع مبدأ تكريم الله للإنسان وخلافته وتمكينه في الأرض. وأن الحل الإسلامي الوحيد والمتكامل والخالص والنابع من عقيدة المسلمين لهذه الأزمة ولكل ما يعانيه المسلمون من مشكلات، هو التحرر من هيمنة نظام الدول الاستعمارية الكافرة، وتطبيق أنظمة الإسلام في الاقتصاد والدولة والنظام الاجتماعي وغيره من الأنظمة، وأن تحقيق ذلك لا يكون إلا في خلافة على منهاح النبوة الواجب إقامتها. فالأمة ترتقي فقط باستئناف الحياة الإسلامية وذلك بإقامة دولة إسلامية تطبق الإسلام كاملا وليس من خلال "التخطيط السليم والتنفيذ الأمين" لما يقدمه لنا الغرب الكافر من أنظمة فاسدة أساسها فصل الدين عن الحياة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فاطمة بنت محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست