أزمة الأرز في مصر هي أزمة نظامٍ أدمن التفريط في حقوق أهلها
أزمة الأرز في مصر هي أزمة نظامٍ أدمن التفريط في حقوق أهلها

الخبر:   ذكر موقع الخليج الجديد الجمعة 2018/9/14م، أن الخلاف تفاقم بين الحكومة المصرية والمزارعين حول قرارات التسعير المعلنة رسميا للمحصول خلال الموسم الجاري، بسبب مخاوف من نقص الأرز، وارتفاع أسعاره، بعد قرار تقليص مساحة زراعته، وحددت الوزارة وفقا لقرار صادر مؤخرا، شراء "الأرز الشعير"، لحساب الهيئة العامة للسلع التموينية (حكومية)، بما يتراوح بين 4400 - 4500 جنيه (246.6 – 252 دولارا) للطن من الأرز رفيع الحبة، بينما حددت مبلغ 4600 - 4700 جنيه (257.8 – 236 دولارا) للطن من الأرز عريض الحبة، على حسب درجة النقاوة. ونقل قول عضو مجلس إدارة غرفة صناعة الحبوب باتحاد الصناعات (مستقل)، "مجدي الوليلي"، أن الأسعار التي أعلنتها وزارة التموين، "غير واقعية، في ظل الظروف الحالية"، مطالبا بترك أسعار شراء الأرز من الفلاحين، طبقا لآلية السوق الحرة، حسب العرض والطلب.

0:00 0:00
Speed:
September 17, 2018

أزمة الأرز في مصر هي أزمة نظامٍ أدمن التفريط في حقوق أهلها

أزمة الأرز في مصر هي أزمة نظامٍ

أدمن التفريط في حقوق أهلها

الخبر:

ذكر موقع الخليج الجديد الجمعة 2018/9/14م، أن الخلاف تفاقم بين الحكومة المصرية والمزارعين حول قرارات التسعير المعلنة رسميا للمحصول خلال الموسم الجاري، بسبب مخاوف من نقص الأرز، وارتفاع أسعاره، بعد قرار تقليص مساحة زراعته، وحددت الوزارة وفقا لقرار صادر مؤخرا، شراء "الأرز الشعير"، لحساب الهيئة العامة للسلع التموينية (حكومية)، بما يتراوح بين 4400 - 4500 جنيه (246.6 – 252 دولارا) للطن من الأرز رفيع الحبة، بينما حددت مبلغ 4600 - 4700 جنيه (257.8 – 236 دولارا) للطن من الأرز عريض الحبة، على حسب درجة النقاوة. ونقل قول عضو مجلس إدارة غرفة صناعة الحبوب باتحاد الصناعات (مستقل)، "مجدي الوليلي"، أن الأسعار التي أعلنتها وزارة التموين، "غير واقعية، في ظل الظروف الحالية"، مطالبا بترك أسعار شراء الأرز من الفلاحين، طبقا لآلية السوق الحرة، حسب العرض والطلب.

التعليق:

في ظل الأزمات التي تعيشها أرض الكنانة تطل أزمة الأرز التي جلبها النظام بتفريطه في حقوق مصر في مياه النيل بالموافقة والسماح ببناء واستكمال سد النهضة في إثيوبيا ثم عمل على تخفيض المساحات المخصصة لزراعة الأرز القوت اليومي لأهل مصر لمحاولة تجنب آثار تشغيل سد النهضة الأزمة، الذي يهدد بجفاف وتصحر الكثير من الأراضي في مصر.

النظام المصري لا يعنيه أهل مصر ولا تشغله حاجاتهم وإلا لما سمح ببناء مثل هذا السد ولا غيره على مجرى النيل ولاتخذ في سبيل ذلك كل إجراء ممكن حتى ولو وصل لإعلان الحرب، فمن يملك قرار إعلان الحرب على (الإرهاب) المحتمل أو المزعوم ولا يملك قرار إعلان الحرب على من يهدد أقوات الناس هو نظام فاشل يتستر بحروب وهمية يبرر بها فشله ويقتل خلالها من يجب عليه حمايتهم والدفاع عن حقوقهم التي يفرط فيها ليل نهار.

يا أهل مصر الكنانة! إن العلاج الحقيقي لأزمة الأرز قطعا ليس في تحديد الدولة لسعر الأرز لأنه يفتح الباب أمام المحتكرين لرفع الأسعار واحتكار الأرز وتخزينه حتى يزيد سعره كما هو متوقع في ظل تقليص المساحة المزروعة، الأمر الذي ينذر بكارثة حقيقية سيكتوي الناس بنارها بعد أن ينتهي المخزون المتبقي قريبا جدا مع دخول المحصول الجديد بكمياته القليلة، وستتحول مصر من دولة مصدرة للأرز إلى دولة مستوردة، وسيقفز سعر الأرز إلى مستويات لا نتخيلها وتحت سمع وبصر الدولة التي قد تلجأ إلى تسعير بيعه للجمهور وفتح الباب أمام السوق السوداء لترهق كواهل الناس بأعباء جديدة بينما كان العلاج سهلا يسيرا بالوقوف بقوة أمام بناء مثل سد النهضة أو غيره وهدم كافة السدود المقامة على مجرى النهر بما فيها السد العالي وبدلا من ذلك حفر المزيد من القنوات والترع والتفريعات التي تمتص المياه القادمة مع الفيضانات وتفتح مناطق جديدة لا لزراعة الأرز وحده بل وكافة المحاصيل وخاصة الاستراتيجية وتمكن الدولة من الاكتفاء الذاتي وربما التصدير، فالعلاج على الحقيقة سهل يسير ولكنه يحتاج إلى مشروع حقيقي يختلف عن هذا النظام الذي يحكم البلاد، ورجال مخلصين قادرين على تنفيذه والنهوض بمصر والأمة من خلاله وهذا ما يملكه ويطرحه للأمة حزب التحرير خلافة راشدة على منهاج النبوة، نظام رعاية حقيقي بديل يعمل على رعاية الناس ولا يفرط في حقوقهم بل يرى في حفظ حقوق الناس واجبات شرعية يجب عليه حفظها والقيام على تنميتها وردها على الناس كاملة في وقتها.

يا أهل الكنانة! إن مشكلاتكم أكبر من الأرز وسعره؛ فأزمتكم الحقيقية في غياب الإسلام عن حكمكم وغياب طريقة إعادته للسيادة عن عقولكم وتفكيركم والتي إن وجدت فيكم ووجد فيكم السعي لتحكيم الإسلام من خلال الخلافة الراشدة فستكون الطامة الكبرى على الغرب وستكون فجرا جديدا لمصر والأمة من خلفها، فجرا يعيد السيادة لدينكم وشرع ربكم ويجري الخير على أيديكم فيحفظ الله بكم الحقوق ويرد المظالم ويحفظ على الناس ما ينهبه الغرب من ثرواتهم وخيراتهم التي لا حصر لها والتي لا يعلمون مداها، حفظكم الله بحفظه يا أهل الكنانة ونجاكم من بطش نظامكم الذي يعيث فسادا وقتلا... ألا فلتكونوا حملة هذه الراية التي ترضي ربكم وتقيم فيكم شرعه وتنصر دينه، احملوها بحقها وأقيموها مع إخوانكم في حزب التحرير خلافة راشدة على منهاج النبوة فإنها الفوز الذي ما بعده فوز والعز الذي ما بعده عز، وفوقه تكون لكم أموالكم التي ينهبها الغرب الآن نافلة ينعم الله عليكم بها... نسأل الله أن يقيمها بكم وأن نراها في مصر واقعا ينير الأرض من جديد، اللهم اجعله قريبا واجعلنا من جنوده وشهوده.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست