أزمة الطائرة ونتائجها (مترجم)
أزمة الطائرة ونتائجها (مترجم)

التقى وزير الخارجية التركي تشاووس أوغلو بنظيره الروسي لافروف في بلغراد. وقال لافروف بأنه لم يسمع "شيئا جديدا" في أول هذا اللقاء الذي يعد اللقاء الأول وجها لوجه بعد أزمة الطائرة.

0:00 0:00
Speed:
December 11, 2015

أزمة الطائرة ونتائجها (مترجم)

أزمة الطائرة ونتائجها (مترجم)

الخبر:

التقى وزير الخارجية التركي تشاووس أوغلو بنظيره الروسي لافروف في بلغراد. وقال لافروف بأنه لم يسمع "شيئا جديدا" في أول هذا اللقاء الذي يعد اللقاء الأول وجها لوجه بعد أزمة الطائرة. فيما قال تشاووس أوغلو بأنه: "متأكد من أنه بعد أن تم تجاوز العاطفة والانفعال، سينتصر الحس السليم وستعود علاقتنا لسابق عهدها القديم". (الجزيرة التركية)

التعليق:

بغض النظر عن التحليلات السياسية المختلقة المنقسمة، فإن هذا الوضع الحالي في العلاقات التركية الروسية ليس أمرا يمكن تفسيره بناء على أحداث وأزمة الطائرة فحسب. ويمكن القول بأن التطورات في الوضع السوري، ونتائج اجتماع فيينا والهجمات الروسية على الجماعات العسكرية في سوريا عدا تنظيم الدولة، فضلا عن علاقة حزب الاتحاد الديمقراطي بروسيا، كل هذه الأمور تظهر بأن الجانب الروسي اخترق عمدا الحدود. كما تظهر ردود الأفعال الفورية التي صدرت عن الساسة الأتراك بعد إسقاط الطائرة بأنهم لا دخل لهم ولا تأثير في إسقاط الطائرة. تركيا، الغارقة في بحور الأزمة، انقلبت أحوالها رأسا على عقب في محاولة منها لمد قناة اتصال مع روسيا. وأخيرا كان هناك اجتماع، علق فيه لافروف بأنه "لم يسمع شيئا جديدا"، فيما قال فيه تشاووس أوغلو بأنه: "متأكد من أنه بعد أن تم تجاوز العاطفة والانفعال، سينتصر الحس السليم وستعود علاقتنا لسابق عهدها القديم".

إلى أن تم الترتيب لهذا التواصل، عملت روسيا وبعناد على تصعيد التوتر، وأوقعت عددا من العقوبات الاقتصادية على تركيا، فيما ألقي القبض على رجال أعمال أتراك وتم ترحيلهم، وأصبحت الشاحنات التجارية الداخلة لروسيا تفتش بكثافة. بل إن الحدث ذهب أبعد من ذلك بالقول بأن تركيا تشتري النفط من تنظيم الدولة، وبأن أردوغان بصفة مباشرة يتولى ويرعى هذه الأعمال التجارية. وبالإضافة إلى ذلك فقد تم استهداف الرئيس أردوغان مباشرة من خلال نشر أشرطة متعلقة بالفساد كانت قد نشرت سابقا. ولفت هذا الوضع طبعا أنظار المعارضين لأردوغان في محاولة لجعل الرأي العام المحلي لصالح روسيا. وإلى جانب هذا كله، كثفت روسيا العمليات داخل سوريا وبخاصة إلى المناطق الحدودية، بل وقامت بإطلاق النار على شاحنات إغاثة. هذا بالإضافة إلى أنها نقلت صواريخ S-400 إلى سوريا. وكان هذا، عبر اجتياز مضيق الدردنيل بعد يوم واحد فقط من إسقاط الطائرة!

لقد كان البيان بشأن أزمة الطائرة والتي أدلت به أمريكا التي وضعت الأساس السياسي والعسكري للممارسات الروسية والمجازر في سوريا كان أكثر ما يكون تصريح من يمسك العصا من المنتصف. فبينما كانت تصرح بأن "تركيا لديها الحق في حماية حدودها"، كانت من الناحية الأخرى تمهد الطريق أمام فتح قواعد عسكرية في تركيا لتستخدمها ألمانيا وفرنسا وبريطانيا، كما كانت تزيد من الضغط على تركيا لتعمل على تحصين السلامة وتأمينها على طول الحدود السورية. وجنبا إلى جنب مع تكثيف روسيا وجودها في البحر الأبيض المتوسط بسبب أزمة الطائرة، تقدم حلف الناتو وجمَّع سفنه في البحر المتوسط أيضا.

إن تركيا - على وجه الخصوص نظرا لاعتمادها على الغاز الطبيعي وكلفة مناقصة المحطة النووية الباهظة - ليست في وضع مؤاتٍ ضد روسيا. ومع ذلك، ولا سيما في مواجهة هذه الأوقات الصعبة، فإن روسيا لن تتجاهل تركيا. وهنالك شيء واحد مؤكد، وهو أنه عندما انهار الاقتصاد السوفييتي، انهار معه الجيش الأحمر بذات السرعة. ما أقوله هو أن الأجواء المتوترة التي يُسعى إلى خلقها عبر بعض وسائل الإعلام غير واقعية. وتصريحات المسؤولين الروس تؤيد هذا الوضع على أي حال.

وسواء تعلق الأمر بهجمات باريس، أم بأزمة الطائرة، فإن أمريكا قد استفادت من هذين الحدثين من خلال تحويل مسار الجميع وأنظارهم بعيدا عن نظام الأسد إلى ما يسمى الحرب على "الإرهاب". وحتى تركيا التي كانت تطلق الخطب الحماسية بـأن "على الأسد أن يرحل" أصبحت الآن تتحدث عن "التغيير مع أو دون الأسد". وقد كتب تشاووس أوغلو مقالا لصحيفة التايمز البريطانية عنوانه "على روسيا أن تركز على العدو المشترك".

وختاما، فإن روسيا بحجة الأزمة، أصبحت تنشر صواريخ S-400 براحة أكبر، وتمعن في مجازرها في سوريا أكثر مما أمعنت سابقا، كما استطاعت من خلالها إمداد نقطة الضعف التركية، حزب الاتحاد الديمقراطي، بالمزيد من الذخيرة، كما عززت وقوّت يد الأسد أكثر في جنيف. وإذا ما حصل اختراق آخر لحدودها، فإن تركيا لن تفكر في القيام بما قامت به هذه المرة. وفي الواقع، فإن الشرح تلو الشرح عن كون "أننا لو عرفنا أن الطائرة روسية لربما كنا حذرناها بشكل مختلف" و"إننا آسفون" هي إشارات على ما ذكر آنفا. وكان الشيء الوحيد الذي قامت به تركيا في مقابل العقوبات الروسية هو زيارة قطر وأذربيجان من أجل إيجاد "مصدر لشراء الغاز البديل، في حال قامت روسيا بقطع إمدادات الغاز".

وفيما يتعلق بالتركمان الذين كانوا سببا في إسقاط الطائرة.. فلن يتغير شيء بالنسبة لهم. والآن تهاجم روسيا بقسوة وبطش أكبر.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عثمان يلدِيز

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست