أزمة أنجرليك الحاصلة مع ألمانيا
أزمة أنجرليك الحاصلة مع ألمانيا

الخبر: وفقاً للأنباء التركية في التلفزيون الألماني (دويتشه فيله)، قال الوزير جابرييل من الحزب الديمقراطي الاجتماعي (SPD) في تصريح له اليوم في سانت بطرسبرغ قبل زيارته إلى تركيا: "نحن نبحث عن فرص من أجل إعادة العلاقات مع تركيا إلى طبيعتها". [سبوتنيك تركيا، 2017/06/03]

0:00 0:00
Speed:
June 05, 2017

أزمة أنجرليك الحاصلة مع ألمانيا

أزمة أنجرليك الحاصلة مع ألمانيا

الخبر:

وفقاً للأنباء التركية في التلفزيون الألماني (دويتشه فيله)، قال الوزير جابرييل من الحزب الديمقراطي الاجتماعي (SPD) في تصريح له اليوم في سانت بطرسبرغ قبل زيارته إلى تركيا: "نحن نبحث عن فرص من أجل إعادة العلاقات مع تركيا إلى طبيعتها". [سبوتنيك تركيا، 2017/06/03]

التعليق:

دعونا أولاً ننشّط ذاكرتنا قليلاً ونورد باختصار كيف تطورت هذه الأزمة، ولنقيّم بعد ذلك الموضوع من وجهة نظر الأحكام الشرعية ومن منظور سياسي. كما تعرفون، فإن حكومة إردوغان لم تسمح للمسؤولين الألمان بزيارة القوات الألمانية المتمركزة في قاعدة إنجرليك الجوية، وذلك كرد فعل على منح الضباط الذين كانوا من بين الذين اشتركوا في محاولة انقلاب 15 تموز حق اللجوء في ألمانيا، ورفض إعادتهم لتركيا. وبناءً على ذلك نشب توتر في العلاقات بين تركيا وألمانيا عُرف بأزمة إنجرليك.

يوجد حوالي 260 جندياً ألمانياً في قاعدة إنجرليك لمحاربة ما يُسمّى تنظيم الدولة. وتوجد أيضاً قوات ألمانية تنشط على طائرات أواكس في قونيا بهدف التجسس على المسلمين. هذه الطائرات باستطاعتها نقل معلومات إلى قياداتها البرية والبحرية والجوية والتواصل معها رقمياً.

وفقاً لحكم الشرع، فإن تأسيس تحالف عسكري مع قوات كافرة استعمارية وتأمين قاعدة عسكرية لهم على أراضٍ إسلامية هو حرام شرعاً. لأن هذا الأمر يفتح المجال أمام القوات الاستعمارية للهيمنة والسيطرة على المسلمين.

يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿وَلَن يَجْعَلَ اللّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾ [النساء: 141]، حيث إن الطائرات الحربية المرتبطة بقوات التحالف التي تقلع من إنجرليك تقصف المسلمين الأبرياء في سوريا والعراق باسم مكافحة (الإرهاب) المزعوم. فعلى سبيل المثال، التحالف الدولي لمحاربة تنظيم الدولة بقيادة أمريكا، قيادة القوات المركزية الأمريكية (CENTCOM) تحديداً، كانت قد صرحت بتسببها بمقتل 484 مدنياً "عن طريق الخطأ" في عملياتها في سوريا والعراق التي بدأت في شهر آب/أغسطس 2014 وحتى شهر نيسان/أبريل. [zernews.com، 2017/06/03] هؤلاء الذين قُتلوا عن طريق الخطأ هم مسلمون أبرياء. أما المسلمون الأبرياء الذين يُقتلون عن قصد فهم بالآلاف.

وعلى الرغم من أن الطائرات الحربية التركية لم تشارك في العمليات، إلا أن هؤلاء المسلمين الأبرياء قد قُتلوا بواسطة طائرات التحالف الحربية التي تُقلع من أراضٍ تركية. لذلك، فإن المسؤولين الأتراك مسؤولون بالدرجة الأولى عن قتل هؤلاء. لأنهم قد سمحوا لهذه الطائرات الحربية القاتلة بالإقلاع من أراضيهم. في حين إن الله سبحانه وتعالى يقول: ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [المائدة 2].

أما سياسياً فهي مخاطرة أخرى. إردوغان وفريقه، وأثناء معاندتهم لألمانيا التي أقرت بحق اللجوء للمشتبه بهم في الانقلاب، وبحسب إردوغان، فإن غولن وأتباعه المشتبه بهم رقم واحد في محاولة 17-25 كانون الأول/ديسمبر ولاحقاً في محاولة الانقلاب العسكري في 15 تموز يقيمون منذ سنوات طويلة في أمريكا. لماذا لم يطالب بهم من الإدارات الأمريكية بصوت عالٍ؟ وإذا تم رفض طلبات إعادتهم التي تمت على استحياء عن طريق الإعلام، فلماذا لم يحسم أمره بشأن إغلاق قاعدة إنجرليك، التي تُعتبر وكراً للإرهاب الأمريكي؟ أليس من الأجدر لإردوغان معاندة أمريكا التي تقدم السلاح لوحدات حماية الشعب الكردية YPG، والتي أمنت الحماية لمنظمة تُعتبر المنظمة "الإرهابية" رقم واحد بالنسبة لتركيا، ولا تعترف أمريكا بأنها منظمة إرهابية أساساً؟

حسناً، عندما يريد عضو من أعضاء الكونجرس الأمريكي زيارة إنجرليك التي يخدم فيها الجنود الأمريكيون، هل سيستطيع إردوغان أن يقول لأمريكا "لا، أعطونا أولاً الإرهابي غولن، وغيّروا قوانينكم، وبعد ذلك نسمح لكم"؟ رأينا كيف أنه أثناء لقائه مع أمريكا دونالد ترامب في البيت الأبيض في 16 أيار/مايو في المقابلة التي استمرت لعشرين دقيقة لم يقل ذلك ولم يعانده.

اليوم إذا عاند ألمانيا بشأن موضوع إنجرليك، فليكن معلوماً أن هذا الأمر يحصل بإذن أمريكا. لأن هناك أزمة في العلاقات بين ألمانيا وبين أمريكا. اليوم إذا جاء الوزير الألماني إلى تركيا من أجل إعادة العلاقات إلى طبيعتها، فهذا أيضاً ضمن إطار الأوامر والتعليمات التي تعطيها أمريكا لتركيا. حيث إن وزير الخارجية الألماني سيجمار جابرييل وأثناء لقائه نظيره الأمريكي ريكس تليرسون، كان قد طلب من أمريكا التدخل في موضوع منح الإذن للمسؤولين الألمان بزيارة جنوده الموجودين في إنجرليك من قبل تركيا.

من المحتمل أن أزمة إنجرليك كانت ضمن أجندة مناقشات إردوغان مع أنجيلا ميركل وترامب في قمة الناتو في 25 أيار/مايو، وأنه تم التوصل إلى حل وسط بشأن الأزمة. إنها ليست تركيا، وإنما أمريكا هي من سيقرر فيما إذا كان الجنود الألمان سيغادرون إنجرليك أم لا ضمن إطار هذا الحل الوسط. لأن إنجرليك ليست أرضاً تركية وإنما هي أرض أمريكية. ولكن تركيا هي صاحبة الكلمة في أمور شكلية كإعطاء الإذن بالزيارة. لذلك، فإن الآلية الوحيدة لدحر الولايات أمريكا وغيرها من الدول الاستعمارية وطردها من هذه الأراضي هي الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، القائمة قريبا بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إرجان تكينباش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست