أزمة لبنان وتأليف حكومته إيران تتمسك بنفوذها رغم كل التحديات وحزبها يتصلب تبعاً لذلك
أزمة لبنان وتأليف حكومته إيران تتمسك بنفوذها رغم كل التحديات وحزبها يتصلب تبعاً لذلك

الخبر: نقلاً عن مصادر كثيرة، أعلن مصطفى أديب المكلف بتشكيل الحكومة اللبنانية أمس الجمعة أنه وضع الرئيس ميشال عون بأجواء استشاراته للكتل السياسية، وقال إنه اتفق معه على لقاء صباح اليوم التالي السبت، أي اليوم. وبعد اللقاء المحدد صباح هذا اليوم، أعلن أديب اعتذاره عن متابعة مهمة تشكيل الحكومة.

0:00 0:00
Speed:
September 27, 2020

أزمة لبنان وتأليف حكومته إيران تتمسك بنفوذها رغم كل التحديات وحزبها يتصلب تبعاً لذلك

أزمة لبنان وتأليف حكومته

إيران تتمسك بنفوذها رغم كل التحديات وحزبها يتصلب تبعاً لذلك

الخبر:

نقلاً عن مصادر كثيرة، أعلن مصطفى أديب المكلف بتشكيل الحكومة اللبنانية أمس الجمعة أنه وضع الرئيس ميشال عون بأجواء استشاراته للكتل السياسية، وقال إنه اتفق معه على لقاء صباح اليوم التالي السبت، أي اليوم. وبعد اللقاء المحدد صباح هذا اليوم، أعلن أديب اعتذاره عن متابعة مهمة تشكيل الحكومة.

التعليق:

لقد جاء تكليف مصطفى أديب بتأليف الحكومة في مبادرة فرنسية طرحها الرئيسي ماكرون بقوة، وهدد بعقوبات ومصير صعب للبنان إذا لم يتم تنفيذ مبادرته وتوجيهاته. وقد تحدث آنذاك بفوقية توحي بعَظَمةٍ متميِّزة، فأعطى الأطراف اللبنانية مهلة 15 يوماً ليتفقوا على الحكومة تبدأ من 31 آب، وإلا فإن لبنان سيكون في خطر وجودي. وكان المطروح أن تأليف هذه الحكومة سيكون من اختصاصيين لا ينتمون إلى الكتل السياسية الحاكمة أو المتنفِّذة، وأنه لن يخضع لأي شروط منهم أو إلزامات. وقد لقيت هذه المبادرة تأييداً داخلياً واسعاً من كل الأطراف، بما في ذلك الرئيس عون وتياره (التيار الوطني الحر)، ومن الثنائي الشيعي أيضاً: حزب إيران اللبناني وحركة أمل، اللذين أبديا ارتياحاً كبيراً للمبادرة الفرنسية ولشخص المكلف، وهذا ما أشاع أجواء تفاؤل لدى المعارضة.

إلا أن المهلة انتهت من غير أي تقدم، وعادت أجواء التشاؤم والفشل لتظهر بشكلٍ أقوى، إذ إن الثنائي المذكور تمسك بشروط غير مستساغة في تشكيل حكومات لبنان، فتمسك بوزارة المالية، وبأن يسمي هو الوزراء الشيعة، ولم يلتزم ما كان أبداه بشأن هذه المبادرة وهذه الحكومة. وظهر هذا الأمر بوضوح، وتبيّن أن الثنائي الشيعي، وحزب إيران بشكل خاص يهدر الوقت، وأنه متمسك بما هو عليه من نفوذ في لبنان. ويرجع هذا الموقف المتصلب في الحقيقة إلى موقف إيران وتوجيهاتها إلى حزبها في لبنان. وقد أدى هذا التصلب إلى تسريبات وإشاعات أن أديب سيعتذر عن مهمته، وأن هذا الأمر ستكون له تداعيات خطيرة، فأعلن ماكرون عن تمديد المهلة. وكان من آثار ذلك شعور عام بضعف التأثير الفرنسي، وأن العنجهية التي دخل بها ماكرون كانت تمثيلاً أكثر مما هي حقيقة. يضاف إلى ذلك أن فرنسا رضيت بالتراجع عن أهم ما في مبادرتها، وقامت بإخراج ذلك عبر مبادرة مزعومة من سعد الحريري يعلن فيها عن قبول إعطاء وزارة المالية للثنائي الشيعي، إضافة إلى إمكان حصول تنازلات له حول تسمية الوزراء الشيعة. وهذا أيضاً يدل على تصلب حزب إيران، أي على موقف إيران.

ولقد أدى هذا الأمر، وبخاصة رفض شروط الثنائي الشيعي، إلى سجالات وتسريبات تتحدث عن منصب رئيس الجمهورية وعن حصره بالموارنة، ما يشكل تهديداً للنظام اللبناني الطائفي ولامتيازات النصارى. وهذا ما أثار نصارى لبنان وفي مقدمتهم البطرك بطرس الراعي، فظهرت عندهم تلويحات بأنه إذا كان سيحصل المساس بامتيازاتهم، وإذا كان حزب إيران سيظل على سلاحه ونفوذه، فهم يفضلون تقسيم لبنان. وأسفروا بكلام واضح واستفزازي في ذلك. فرفع أنصار حزب إيران من وتيرة التحدي وقوة التصلب وردوا بقوة. وتخلل ذلك عقد مؤتمر صحفي لميشال عون دلّ على خطورة هذا الوضع على لبنان الذي يراه النصارى أو يريدونه، ودلّ على المأزق الذي يجد ميشال عون نفسه فيه، ما جعله يقول إن لبنان في هذه الأوضاع قد يكون ذاهباً إلى جهنم.

وقد كان هذا سبباً لتأجيل اعتذار أديب عن تشكيل الحكومة، وإلى صمت أو تلبُّك معظم الأطراف إزاء ذلك بما في ذلك فرنسا، وتبيّن أن تأليف الحكومة وتحديد وزرائها تحُول دونه مصاعب كثيرة، هي بمثابة ثوابت متناقضة عند الأطراف أو الكتل المعنية. وهو ما أدى إلى الاعتذار أو إعلان الفشل المتوقع في تأليف الحكومة. وهو ما يؤكد أن إيران وحزبها وحركة أمل ورئيس الجمهورية وتياره كانوا من البداية يراوغون ويمطمطون تضييعاً للوقت. وواقع الحال في لبنان أنه حتى لو تراجع أديب عن اعتذاره هذا، أو حتى لو تشكلت حكومة بحسب المبادرة الفرنسية، فسيظل الأمر عند إيران وأدواتها إهداراً للوقت، إذ إنّ إسقاطهم للحكومة ممكن في أي وقت.

إنّ أهمّ أسباب هذا التأزم وأخطاره على لبنان هي سياسة أمريكا تجاه إيران، وهي تحجيمها عسكرياً، وتحجيم نفوذها وأذرعها في المنطقة، وبخاصةٍ في العراق ولبنان. وهو ما عاندته إيران وما زالت تواجهه رغم العقوبات الأمريكية المتصاعدة عليها، والتي تأمل ضعف مفعولها قريباً. وأما مراوغة حزبها في لبنان وإهداره الوقت، فالمتوقع استمراره إلى موعد الانتخابات الأمريكية، حيث إن إيران تراهن على خسارة ترامب، وعلى فوز جو بايدن الديمقراطي، والذي ربما ستختلف سياسته تجاه إيران عن سياسة ترامب، بشكل يخفف الضغوط عليها.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود عبد الهادي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست