أزمة مصر في الرأسمالية التي تنحدر بها من سيئ إلى أسوأ وخلاصها في الخلافة الراشدة على منهاج النبوة
أزمة مصر في الرأسمالية التي تنحدر بها من سيئ إلى أسوأ وخلاصها في الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

الخبر:   نقل موقع الجزيرة نت الأربعاء 2017/10/04م، تحذير خبراء اقتصاديين من أن مصر وصلت حد الخطر في الاقتراض الخارجي، وأكدوا أن ارتفاع الديون بشكل قياسي يمثل عبئا على موارد الدولة من العملة الصعبة، كما يؤثر على معيشة المواطنين. وارتفعت ديون مصر الخارجية إلى مستويات غير مسبوقة خلال الفترة الأخيرة، إذ أعلن البنك المركزي المصري في تقرير الاستقرار المالي بلوغها 79 مليار دولار نهاية حزيران/يونيو الماضي، مقابل 55.8 مليارا قبل سنة من ذلك، بزيادة تعادل 41.57%. يأتي ذلك بعد إعلان وزارة المالية أن إجمالي دين الموازنة العامة للدولة (المحلي والخارجي) ارتفع إلى نحو 3.7 تريليونات جنيه (208.3 مليارات دولار) نهاية آذار/مارس الماضي، وهو ما يعادل 107.9% من الناتج المحلي للبلاد

0:00 0:00
Speed:
October 10, 2017

أزمة مصر في الرأسمالية التي تنحدر بها من سيئ إلى أسوأ وخلاصها في الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

أزمة مصر في الرأسمالية التي تنحدر بها من سيئ إلى أسوأ

وخلاصها في الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

الخبر:

نقل موقع الجزيرة نت الأربعاء 2017/10/04م، تحذير خبراء اقتصاديين من أن مصر وصلت حد الخطر في الاقتراض الخارجي، وأكدوا أن ارتفاع الديون بشكل قياسي يمثل عبئا على موارد الدولة من العملة الصعبة، كما يؤثر على معيشة المواطنين. وارتفعت ديون مصر الخارجية إلى مستويات غير مسبوقة خلال الفترة الأخيرة، إذ أعلن البنك المركزي المصري في تقرير الاستقرار المالي بلوغها 79 مليار دولار نهاية حزيران/يونيو الماضي، مقابل 55.8 مليارا قبل سنة من ذلك، بزيادة تعادل 41.57%. يأتي ذلك بعد إعلان وزارة المالية أن إجمالي دين الموازنة العامة للدولة (المحلي والخارجي) ارتفع إلى نحو 3.7 تريليونات جنيه (208.3 مليارات دولار) نهاية آذار/مارس الماضي، وهو ما يعادل 107.9% من الناتج المحلي للبلاد .ومن المتوقع أن تتجاوز قيمة عجز الموازنة نهاية العام المالي الجاري نحو 322 مليار جنيه (18.2 مليار دولار). ويمول هذا العجز عن طريق بعض المساعدات والمنح من الدول العربية والقروض الدولية، إضافة إلى طرح البنك المركزي أذونات وسندات خزانة، فقد كشف وزير المالية المصري عمرو الجارحي أنه سيتم طرح سندات دولارية بين شهري كانون الثاني/يناير وشباط/فبراير المقبلين، يعقبها إصدار سندات باليورو. وباعت مصر في كانون الثاني/يناير الماضي سندات دولية بأربعة مليارات دولار، ورفعتها إلى سبعة مليارات في نيسان/أبريل المنصرم، كما باعت ما قيمته ثلاثة مليارات دولار في أيار/مايو الماضي. وسبق هذا بيع سندات دولية بقيمة 1.5 مليار دولار في حزيران/يونيو 2015، حيث كانت الأولى من نوعها منذ ثورة يناير 2011.

التعليق:

مزيد من الأعباء والديون يتحملها البسطاء من أهل الكنانة الذين يحصّلون بالكاد قوت يومهم ورزق عيالهم، في ظل الارتفاع المتزايد والمستمر بلا توقف في أسعار السلع والخدمات التي تلتهم الرواتب والدخول، فضلا عن رفع الدعم الممنهج والمستمر خضوعا لتوصيات وقرارات البنك الدولي المانح الأكبر لتلك القروض والتي لا تعود على أهل مصر بشيء رغم تحملهم لكافة الأعباء المترتبة عليها فضلا عن سدادها وفوائدها الربوية.

إن واقع مصر وما فيها من خيرات وموارد وما تملكه من طاقات بشرية هائلة يجعلها في غنى عن كل تلك القروض وعن حملات التسول التي يقوم بها النظام ليل نهار، فما تملكه مصر من موارد لا تملكه بريطانيا وفرنسا مجتمعتين إذا توقف عنهما ما يُضخ من مستعمراتهم في بلادنا وما ينهبون من ثرواتنا، وهي قادرة بطاقات أبنائها على استخراج هذه الثروات واستغلالها والانتفاع بها على الوجه الصحيح إذا وجدت إدارة واعية همها وغايتها رعاية الناس لا الجباية منهم ونهب ثروتهم، إن الأزمة الحقيقية التي يعاني منها أهل مصر هي هذا النظام ونفعيته وتوحشه، وستظل الأزمات تتوالى وتشتد عليهم طالما بقي هذا النظام الذي يضمن للغرب الكافر بقاءه في بلادنا مهيمنا على خيراتنا ومقدراتنا ناهبا لثرواتنا...

كما تضمن تلك القروض والتبعات التي تثقل كاهل البلاد مزيدا من الارتهان للكافر المستعمر والخضوع لشروطه وقراراته، وبقاء عملائه من الحكام الخونة فوق رقابنا حرسا لمصالحه في بلادنا، ولن يخرجنا من هذه الدائرة إلا اقتلاع هذا النظام من جذوره وتطبيق الإسلام كاملا شاملا في ظل الخلافة على منهاج النبوة تقطع أصابع الغرب وأياديه العابثة في بلادنا وتعيد لنا ما نهب من خيراتنا وتحسن استغلال ما في يدنا من ثرواتنا فتضعها في أيدينا لخيرنا بعد أن كانت نهبا لعدونا.

يا أهل الكنانة! لقد ذقتم على مدار عقود بؤس الرأسمالية وشقاءها، وقد آن لكم أن تنعموا بظل الإسلام وعدله وهذا يحتاج منكم إلى وقفة في وجه حكامكم لا من أجل استبدال شخوصهم فقط بل من أجل اقتلاع النظام بكل أركانه ورموزه وأدواته وإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة على أنقاضه تحقق العدل الذي افتقدتموه وتعيد لكم الخير الذي سُلبتموه، وتعيد لكم العزة والكرامة المفقودة وتدحر الغرب وتعيده خائبا إلى عقر داره إن بقي له عقر دار.

يا أبناء جيش الكنانة! ألا ترون ما يحل بأهلكم في مصر وينالكم منه نصيب؟! ألا يثير مشاعركم ما يقوم به حكامكم من تكبيل بلادكم بقيد الرق والارتهان لعدوها وعدو دينها؟! حتى متى يطول صمتكم على نهب وسلب الثروات والخيرات تحت سمعكم وبصركم وفي حراسة وحماية حكامكم؟! أليس فيكم رجل رشيد؟! يقولها لله وحده يكفي ما فات وينصر ويبايع المخلصين القادرين على مقارعة الغرب ورأسماليته بالإسلام وأفكاره ونظامه، فيهدمون أركان الراسمالية في بلادنا ويرسون دعائم حكم راشد على منهاج النبوة، ويقولونها للغرب لا ديون لك علينا يكفيك ما نهبت من خيراتنا، بل ويطالبونه برد هذه الثروات المنهوبة ويعيدونه من حيث أتى خالي الوفاض؟ وهذا لا يكون إلا بمشروع متكامل لدولة خلافة راشدة يحمله لكم وبينكم حزب التحرير واصلا ليله بنهاره ليصل إلى المخلصين منكم ليقوموا مقام أنصار الأمس فينصروا الله ورسوله وتكون عزة الإسلام من جديد على أيديهم.

يا أهل الكنانة! اعلموا أنه لا خلاص لكم ولن ينهي أزماتكم تلك إلا ما يحمله لكم حزب التحرير، وقد جهز لكم مشروعا فيه خيركم وما تطمحون إليه من عدل وما من أجله خرجت ثائرة ثورتكم، فاحملوا معه حملكم واحتضنوا رجاله فهم نعم الرجال والقادة، واعملوا معهم ليصل إسلامكم للحكم فيكون العدل الذي ترجون وتنتظرون والعز الذي أنتم به جديرون، فتقام دولة عزكم الخلافة الراشدة تعيد سيرة الرجال الكبار أبي بكر وعمر الأخيار، اللهم اجعل هذا اليوم قريبا واجعلنا من شهوده وجنوده.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست