بعد إهانة اتفاق طالبان، أمريكا بدأت انسحاباً جزئياً من أفغانستان
بعد إهانة اتفاق طالبان، أمريكا بدأت انسحاباً جزئياً من أفغانستان

  الخبر: وفقاً لمجلة التايم فإن معظم المحاربين القدامى في الحرب التي دامت 18 عاماً في أفغانستان لم يتوقعوا أن هذه هي الطريقة التي ستنتهي بها الحرب بعد هجمات 11 أيلول/سبتمبر: فمع وصف الرئيس الأمريكي للصراع بأنه إهدار للدم والمال الأمريكي، واتفاق السلام الأمريكي مع طالبان قد أجبر المسؤولين الأفغان على الجلوس مع المقاتلين ومناقشة حل حكومة ساعدت أمريكا في بنائها.

0:00 0:00
Speed:
March 19, 2020

بعد إهانة اتفاق طالبان، أمريكا بدأت انسحاباً جزئياً من أفغانستان

بعد إهانة اتفاق طالبان، أمريكا بدأت انسحاباً جزئياً من أفغانستان
(مترجم)


الخبر:


وفقاً لمجلة التايم فإن معظم المحاربين القدامى في الحرب التي دامت 18 عاماً في أفغانستان لم يتوقعوا أن هذه هي الطريقة التي ستنتهي بها الحرب بعد هجمات 11 أيلول/سبتمبر: فمع وصف الرئيس الأمريكي للصراع بأنه إهدار للدم والمال الأمريكي، واتفاق السلام الأمريكي مع طالبان قد أجبر المسؤولين الأفغان على الجلوس مع المقاتلين ومناقشة حل حكومة ساعدت أمريكا في بنائها.


كما أن الصفقة التي طال انتظارها بين أمريكا وطالبان لإنهاء الحرب، الموقعة في 29 شباط/فبراير، لم تكن ذات بداية سلسة. فبعد أيام من تحريرها، هاجمت الجماعة المتشددة القوات الأفغانية في جنوب البلاد، على ما يبدو بسبب رفض الحكومة الأفغانية الأولية إطلاق سراح 5000 سجين، وهو شرط مكتوب في الاتفاق قبل بدء المحادثات بين الأفغان. وقصفت القوات الأمريكية في أفغانستان، التي طالما قدمت الدعم الجوي للقوات الأفغانية، مواقع طالبان رداً على ذلك. ووافق الرئيس الأفغاني أشرف غاني منذ ذلك الحين على إطلاق سراح بعض هؤلاء السجناء، بحسب وزير الخارجية الأمريكي، لكن ليس من الواضح عددهم، أو ما إذا كان يكفي أن يحضر الجانبان لإجراء محادثات.


لا تزال قيادة البلاد في حالة مستقرة من الأزمات السياسية. يوم الاثنين، تم عقد تنصيبين رئاسيين أفغانيين منفصلين في العاصمة كابول: المراسم الأولى كانت لغاني والمراسم الثانية كانت لمنافسه الدكتور عبد الله عبد الله المُطالب بالرئاسة، والذي رفض نتائج الانتخابات في أيلول/سبتمبر الماضي بدعوى تفشي تزوير التصويت.


ولم يبد الرئيس دونالد ترامب أي علامة على توتر الاتفاق، واصفاً طالبان بـ"المحاربين" في تصريحات لمؤيديه الأسبوع الماضي، وحتى التنازل عن المسلحين قد يعيد البلاد ذات يوم من الحكومة الأفغانية. فقد قال للصحفيين في البيت الأبيض يوم الجمعة: "يمكنك فقط حمل يد شخص ما لفترة طويلة... ليس من المفترض أن تحدث الأمور بهذه الطريقة، لكنه ربما تحدث". وعلى الرغم من أنه ليس من المؤكد متى أو إذا كانت طالبان ستجلس مع الحكومة الأفغانية، فقد أعلن المتحدث باسم القوات الأمريكية الكولونيل سوني ليغيت يوم الاثنين أن الولايات المتحدة ستخفض عدد قواتها من 13000 إلى 8600 في الأيام الـ 135 المقبلة، وفقاً لاتفاقها مع الجماعة المسلحة.


إن احتضان ترامب لطالبان قد وصل إلى ضربة قوية بالنسبة لكثير من الرجال والنساء الذين تغيرت حياتهم إلى الأبد بسبب الحرب. حتى بالنسبة للمحاربين القدامى الذين يعتقدون أن الولايات المتحدة يجب أن تخرج من أفغانستان، يبدو أن واشنطن تدعم إلى حد كبير الأشخاص الذين أغرقوا أفغانستان في التسعينات، وهم يخفون تنظيم القاعدة أثناء التخطيط لهجمات 11 أيلول/سبتمبر على نيويورك وواشنطن، وقتل الآلاف من القوات الأمريكية منذ ذلك الحين، بدلاً من دعم حكومة أفغانية حديثة تجري انتخابات، وتسمح للنساء بالتصويت، والعمل خارج المنزل، والتخلص من الحجاب إذا اختاروا ذلك.


التعليق:


منذ أن كان للعالم قوتان عظميتان متوازنتان، لم يكن من الممكن لأي منهما الاستيلاء على البلاد الإسلامية بالقوة. احتل الاتحاد السوفيتي أفغانستان ولكن تم دفعه بنجاح من أمريكا، التي قدمت الدعم للمجاهدين الأفغان عبر باكستان. ومع ذلك، عندما سقط الاتحاد السوفيتي، وجدت أمريكا أمامها فرصة فريدة لدخول البلاد الإسلامية دون معارضة أي قوة أخرى في العالم. قامت أمريكا باحتلال أفغانستان فور وقوع أحداث 11 أيلول/سبتمبر 2001. ثم احتلت أمريكا العراق عام 2003. من الواضح أن أمريكا لديها رؤى لإمبراطورية أمريكية شاسعة جديدة، لكن ما لم تكن تتوقعه أبداً هو أن المسلمين أنفسهم، دون مساعدة من أي قوة أخرى، سيجعلون من المستحيل على أمريكا الحفاظ على سيطرتها على بلاد المسلمين... في غضون سنوات قليلة، أدركت أمريكا الخطأ الكبير الذي ارتكبته. في عام 2011، قال وزير الدفاع الأمريكي روبرت غيتس، مخاطباً الطلاب العسكريين الأمريكيين في ويست بوينت "في رأيي، إن أي وزير دفاع مستقبلي ينصح الرئيس بإرسال جيش بري أمريكي كبير مرة أخرى إلى آسيا أو إلى الشرق الأوسط أو أفريقيا، يجب أن يتم فحصه عقلياً..."، وبالتأكيد، في ذلك العام خططت أمريكا لاحتلال ليبيا بدون قوات برية أمريكية، معتمدين على القوة الجوية والبحرية فقط من أجل إسقاط النظام، ونتيجة لذلك بقيت ليبيا غارقة في حرب الفصائل حتى الآن. وعندما بدأت الثورة في سوريا، امتنعت أمريكا مرة أخرى عن القدوم مباشرة لدعم نظام الأسد وبدلاً من ذلك دبرت واحدة من أعقد الاشتباكات العسكرية في التاريخ حيث جرّت بعض الدول للقتال نيابةً عن نظام الأسد، وغيرها لدعم الفصائل الثورية من أجل كسب النفوذ على تحركاتهم وتخطيطهم. والآن، بعد ما يقرب من عقدين من بدء كل شيء، تخطط أمريكا لمغادرتها النهائية من أفغانستان أيضاً، وتعيد البلاد لطالبان التي أطاحت بها عام 2001.


إن نهضة المسلمين هي أمر مؤكد ليس فقط من خلال الواقع المستمر المعروض علينا ولكن من خلال النصوص الشرعية أيضاً. قال الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾.


بإذن الله، ستقام قريباً دولة الخلافة على منهاج النبي e، فتقوم بطرد الكفار الأجانب والطبقة الحاكمة التابعة لهم، وتوحد البلاد الإسلامية وتطبق الشريعة الإسلامية، وتحمل رسالة الإسلام النقية للعالم أجمع.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
فائق نجاح

#أفغانستان
Afghanistan#
Afganistan#

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست