بعد تعمّد إغراق قارب المهاجرين شباب تونس يُقتل مرتين
بعد تعمّد إغراق قارب المهاجرين شباب تونس يُقتل مرتين

الخبر:   تواترت الروايات وتعددت الشهادات المفزعة حول مسؤولية خافرة الحرس البحري التونسي عن انقلاب وغرق قارب المهاجرين بالقرب من سواحل جزيرة "لامبادوزا" الإيطالية. الصدمة كانت قوية ومشهد الجثث المتناثرة كان فظيعا ولوعة الأهالي وحرقتهم على أبنائهم كانت مهولة، وأمام انتشار الخبر "الفضيحة" في وسائل الإعلام المحلية والعالمية سارعت السلطات الأمنية والعسكرية إلى التشكيك في روايات الناجين ثم الإعلان عن فتح تحقيق في الحادثة.

0:00 0:00
Speed:
October 16, 2017

بعد تعمّد إغراق قارب المهاجرين شباب تونس يُقتل مرتين

بعد تعمّد إغراق قارب المهاجرين

شباب تونس يُقتل مرتين

00p17102017

الخبر:

تواترت الروايات وتعددت الشهادات المفزعة حول مسؤولية خافرة الحرس البحري التونسي عن انقلاب وغرق قارب المهاجرين بالقرب من سواحل جزيرة "لامبادوزا" الإيطالية. الصدمة كانت قوية ومشهد الجثث المتناثرة كان فظيعا ولوعة الأهالي وحرقتهم على أبنائهم كانت مهولة، وأمام انتشار الخبر "الفضيحة" في وسائل الإعلام المحلية والعالمية سارعت السلطات الأمنية والعسكرية إلى التشكيك في روايات الناجين ثم الإعلان عن فتح تحقيق في الحادثة.

التعليق:

لسنا هنا في موضع التحقيق في صحة الرواية الرسمية من عدمها ولكننا بصدد قراءة ما حدث في إطار التعامل الإقليمي والدولي مع موضوع الهجرة السرية بين ضفتي البحر المتوسط.

فمن المعلوم أن الهجرة السرية من السواحل الليبية والتونسية نحو أوروبا وتحديدا إيطاليا كانت موجودة قبل "ثورات الربيع العربي" ولكنها ازدادت كثافة بعدها على نحو خارج عن السيطرة، وقد فشلت دول الاتحاد الأوروبي في إيجاد صيغة سياسية جماعية لتحمل أعباء المهاجرين بأعدادهم المتزايدة، وبرزت الطبيعة الأنانية والفردية لكل دولة من دوله في تناول هذا الموضوع على نحو أوجد أزمة بين إيطاليا وبقية دول أوروبا، وهو ما حدا بإيطاليا بالاعتماد على قواتها البحرية العسكرية في القيام بدوريات بالقرب من السواحل الليبية وإلى إيجاد تفاهمات إقليمية خاصة. هذه التفاهمات عبرت عنها سياسة إيطالية جديدة اعتمدت على إغراق قوارب المهاجرين بمجرد انطلاقها من السواحل. وقد وثقت "المنظمة العالمية للهجرة" شهادات عديدة لناجين يؤكدون أن سفنهم تمّ استهدافها وإغراقها عمدا من قبل قوارب تملكها عصابات معروفة في ليبيا متخصصة في التهريب، وعلى علاقة بأجهزة استخبارات دولية. هذه العصابات جنت أرباحا طائلة من استلام ثمن الرحلة إلى أوروبا من المهاجرين، ثم استلام بوليصة التأمين بعد إغراق المراكب في البحر.

هذه هي نتيجة السياسة الإيطالية الجديدة مع دول جنوب المتوسط، وبما أنه لا توجد دولة قائمة في ليبيا فإن التفاهمات الإيطالية تمت مع المليشيات الليبية المسلحة اللاهثة وراء الدعم السياسي والمادي. أما في تونس فإن التعاون في مجال مكافحة الهجرة السرية يتم على مستوى المسئولين الحكوميين حيث يحتل هذا الموضوع مكان الصدارة في كل الزيارات التي يقوم بها مسئولون أوروبيون وخصوصا الإيطاليون إلى تونس، ولا يجد المسئولون المحليون الحرج في طلب الدعم المادي والتقني مقابل هذا "التعاون" - متعذرين بقلة الإمكانيات -، وهو ما لا يبخل عليه الجانب الإيطالي الذي يعلم قطعا أن لكل خدمة ثمناً.

فهل ما يحصل لشباب تونس من القوات الأمنية البحرية هو نفس ما يحصل للمهاجرين الأفارقة من المليشيات المسلحة الليبية من إغراق متعمد للقوارب لحماية للسواحل الايطالية؟ وهل من المصادفة أن يتعمد بعض الإعلاميين في هذا الأسبوع وتزامنا مع حادث غرق المركب إثارة موضوع الذئاب المنفردة من تنظيم الدولة وأعمال القتل التي حصلت في ألمانيا وإيطاليا وإسبانيا وفرنسا؟ أليس هذا تبريرا وتأييدا مبطنا لما حصل واستهتارا بأرواح الشباب، وحرصا ظاهرا على خدمة الأوروبيين يصل إلى مستوى العمالة؟

إن استمرار جنوح الآلاف من الشباب في تونس إلى الهجرة عبر البحر وفي ظروف مأساوية لتؤكد لكل ذي عقل حالة اليأس التي يعيشها معظم الشباب في تونس، بل إن المتابع لعدد المهاجرين من الكفاءات المدربة من جامعيين أطباء ومهندسين وصحفيين يدرك بوضوح أن شباب ورجال تونس بكل فئاتهم قد ضاقت عليهم البلاد ولم يعودوا يأملون فيها عيشا كريما يليق بكرامة الإنسان، فالثورة التي بذلت فيها دماء زكية سُرقت وتمّ تحويل وجهتها، وعادت البلاد مرة أخرى مرتعا للفاسدين والوصوليين الذين لا يترددون في بيع أرض تونس إلى السفارات، وبيع مؤسسات البلاد السيادية للأجانب وبيع ذممهم ودينهم من أجل البقاء في الحكم، فلا يُستغرب أن باعوا أيضا شباب تونس الهارب من جحيم حكمهم وتآمروا عليهم وأغرقوهم في البحر خدمة للإيطاليين والأوروبيين.

إن هذه الحادثة ستبقى عارا في جبين هذه الدولة الوظيفية الفاشلة وستبقى كابوسا يقلق مضاجع الفاسدين والوصوليين من حكامها ومؤسساتها، فشباب تونس الغارق في البحر قتل قهرا وخذلانا قبل أن يقتل دهسا وغرقا، والأهالي الذين فقدوا فلذات أكبادهم في البحر يعلمون يقينا من دفع أبناءهم إلى هذا المصير المحتوم، وسيقول الشعب فيهم كلمته عاجلا قبل آجل، وإن عادت الأفعى...عدنا لها بالنعال.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد مقيديش

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست