باكستان تحتاج إلى النظام الاقتصادي في الإسلام وليس للخصخصة التي أمر بها صندوق النقد الدولي
باكستان تحتاج إلى النظام الاقتصادي في الإسلام وليس للخصخصة التي أمر بها صندوق النقد الدولي

الخبر: ذكرت صحيفة الفجر في 12 من أيار/مايو 2024 أن وزير المالية محمد أورنجزيب قال يوم الأحد إنه "لا يوجد شيء عظيم مثل الشركات الاستراتيجية المملوكة للدولة"، وشدد على الحاجة إلى خصخصتها. وقد أدلى بهذه التصريحات في مؤتمر ما قبل إقرار الميزانية في لاهور، وجاء هذا التصريح بعد يومين من تصريح نائب رئيس الوزراء إسحاق دار الذي قال فيه بأن "الحكومة ستقصر أعمالها فقط على الشركات الاستراتيجية والأساسية المملوكة للدولة".

0:00 0:00
Speed:
May 21, 2024

باكستان تحتاج إلى النظام الاقتصادي في الإسلام وليس للخصخصة التي أمر بها صندوق النقد الدولي

باكستان تحتاج إلى النظام الاقتصادي في الإسلام

وليس للخصخصة التي أمر بها صندوق النقد الدولي

الخبر:

ذكرت صحيفة الفجر في 12 من أيار/مايو 2024 أن وزير المالية محمد أورنجزيب قال يوم الأحد إنه "لا يوجد شيء عظيم مثل الشركات الاستراتيجية المملوكة للدولة"، وشدد على الحاجة إلى خصخصتها. وقد أدلى بهذه التصريحات في مؤتمر ما قبل إقرار الميزانية في لاهور، وجاء هذا التصريح بعد يومين من تصريح نائب رئيس الوزراء إسحاق دار الذي قال فيه بأن "الحكومة ستقصر أعمالها فقط على الشركات الاستراتيجية والأساسية المملوكة للدولة".

التعليق:

عندما يكون تفكير السياسي وراعي الشؤون بعيدا عن الإسلام، فكرا ونظام حياة، لا يمكن أن تتفتق "عبقريته" عن حلول صحيحة ومثالية لمشاكل الدولة والناس، بل دائما ما تكون أفكاره وحلوله اجتراراً لحلول فاشلة سابقة أو محاكاة لدول أخرى ليست أحسن حالا من دولته، ولطالما دعت الحكومات المدنية والعسكرية، لأكثر من ثلاثة عقود، إلى سياسة خصخصة الشركات المملوكة للدولة، بما في ذلك الخطوط الجوية الباكستانية الدولية، والسكك الحديدية الباكستانية، ومصانع الصلب الباكستانية، ومع ذلك، لم يتم تبني هذه السياسة بشكل كامل أبداً بسبب المعارضة العامة والسياسية لها. وبعد سقوط عمران خان، الذي تسبب في انهيار اقتصادي كامل لخضوعه لسياسات صندوق النقد الدولي، واصلت القيادة العسكرية السير في الاتجاه نفسه، واستمرت الحكومة المؤقتة السابقة، في ظل رئيس الوزراء المؤقت في الترويج لفكرة الخصخصة، وتتبع الحكومة الجديدة للرابطة الإسلامية الباكستانية السياسة نفسها. ومن أجل ضمان عدم عرقلة سياسة الخصخصة هذه المرة، حرصت القيادة العسكرية على تعيين وزير للمالية من أشد المؤيدين للخصخصة.

إن الطبقة الحاكمة التي تحكم بالكفر وبالنظريات الاقتصادية الرأسمالية الفاشلة، تتجنب البحث عن الحلول الشرعية الإلهية لمشاكلهم، ولا تبحث إلا عن الحلول التي يجدونها في أكياس القمامة في أسواق المال الغربية، لقد روّجت النخبة الحاكمة لأجندة الخصخصة بدعوى أنه لا يجب على الدولة القيام بأعمال تجارية، حيث تدّعي الرأسمالية أنه إذا دخلت الدولة إلى قطاع ما، فإنها تنتهك حرية الشركات الخاصة، وهم يعلمون أنه عندما تدخل الدولة إلى قطاع ما، فإنها تهيمن على الشركات الخاصة، وفي العالم الغربي، ومن خلال الخصخصة، يتم استبعاد الدولة من العديد من القطاعات، ما يسمح للشركات الخاصة جني ثروات ضخمة جدا، ولكن الخصخصة تجعل الدولة فقيرة، ولذلك تجد الدولة نفسها دائماً في عجز وتصبح معتمدة على القروض.

وبمجرد أن تبدأ الدولة في الاقتراض، لا تنقطع دورة المَحْق أبداً من شر الربا. لذلك تجد أن حتى أكبر دولة رأسمالية في العالم، الولايات المتحدة، تعاني دائماً من العجز وتضطر إلى الاقتراض. وعلى مدى المائة عام الماضية، ارتفع الدين الفيدرالي الأمريكي من 403 مليار دولار في عام 1923، إلى 33170 مليار دولار في عام 2023. وبلغ متوسط الناتج المحلي الإجمالي للسنة المالية 2023، 26970 مليار دولار، وهو أقل من دين الولايات المتحدة. وأدى ذلك إلى وصول نسبة الدين إلى الناتج المحلي الإجمالي إلى 123%. وبشكل عام، يشير ارتفاع نسبة الدين إلى الناتج المحلي الإجمالي إلى صعوبة أكبر في سداد الديون، فكيف يمكن لباكستان إذن أن تتجنب الفشل والانهيار الاقتصادي من خلال اتباع الرأسمالية؟!

لا شك أن معظم الشركات المملوكة للدولة تعاني حالياً من خسائر مالية فادحة، ويقال إنه إذا باعت الدولة أصولها، فإن نزيف الخزانة الوطنية سوف يتوقف. ومع ذلك، ستخسر الدولة أيضاً قدراً كبيراً من الأموال. وليس صحيحا أن المشاريع التي تديرها الدولة فقط هي التي تتكبد خسائر، في حين إن الشركات الخاصة لا تتعرض لذلك. حيث تتكبد مشاريع الدولة خسائر بسبب القرارات والممارسات السيئة، تماما كما تفعل الشركات الخاصة. وإذا تم تغيير ذلك، يمكن لكليهما تحقيق الأرباح.

إن حل البؤس الاقتصادي في باكستان لا يكمن في اتباع النموذج الاقتصادي الرأسمالي. ويجب على المسلمين أن يتبعوا النظام والنموذج الاقتصادي في الإسلام. والإسلام لا يمنع الدولة من دخول الاقتصاد، أو الإشراف على جوانب عديدة للاقتصاد، حيث ستهيمن الخلافة على القطاعات التي تتطلب استثمارات ضخمة، مثل الطيران والسكك الحديدية والشحن وإنتاج الآلات الثقيلة والمركبات والأسلحة. بالإضافة إلى ذلك، فإنه في ظل الإسلام، فإن الموارد العامة مثل المعادن الوفيرة والوقود والطاقة مملوكة للقطاع العام، وإيراداتها واستخدامها تعود إلى رعاية شؤون الناس وتشرف الدولة على ذلك. كما تعتبر المصانع التي تدير الموارد العامة ملكية عامة. ومثل هذه المصانع لن تكون حكومية أو خاصة. وسيشمل ذلك مناجم استخراج الفحم والذهب والنحاس والبوكسيت ومصافي الغاز ومحطات إنتاج الطاقة وشبكات التوزيع. وهكذا، في ظل الإسلام، تستطيع الخلافة جمع موارد وفيرة لرعاية شؤون المسلمين والقضاء على الفقر، قال الله تعالى: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضنكاً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شاهزاد شيخ – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست