باكستان تلقي باللوم على عناصر خارجية في هجوم كويتا بينما لا تزال تضطهد المسلمين محليا (مترجم)
باكستان تلقي باللوم على عناصر خارجية في هجوم كويتا بينما لا تزال تضطهد المسلمين محليا (مترجم)

الخبر:   أخبر قائد الجيش الجنرال رحيل شريف قادته أن هجوم كويتا كان محاولة لتقويض النجاحات التي حققتها عملية ضرب العَضْب، والتي هي في مرحلتها النهائية. وكان قد قال يوم الاثنين إن الهدف من الهجوم كان الممر الاقتصادي بين الصين وباكستان.

0:00 0:00
Speed:
August 13, 2016

باكستان تلقي باللوم على عناصر خارجية في هجوم كويتا بينما لا تزال تضطهد المسلمين محليا (مترجم)

باكستان تلقي باللوم على عناصر خارجية في هجوم كويتا

بينما لا تزال تضطهد المسلمين محليا

(مترجم)

الخبر:

أخبر قائد الجيش الجنرال رحيل شريف قادته أن هجوم كويتا كان محاولة لتقويض النجاحات التي حققتها عملية ضرب العَضْب، والتي هي في مرحلتها النهائية.

وكان قد قال يوم الاثنين إن الهدف من الهجوم كان الممر الاقتصادي بين الصين وباكستان.

وقال قائد الجيش: "من خلال اعتماد نهج الأمة ككل، فإن القوات المسلحة لن تسمح لأحد بعكس مكاسبنا ضد الإرهاب".

في المؤتمر، أخبر الجنرالات بأن التهديد كان ينطلق من فوق الأراضي الأفغانية، التي كانت تدار من قبل وكالات الاستخبارات الهندية. ومع ذلك، في الوقت نفسه كان هناك اعتراف بأن شبكة من "الميسرين" داخل البلد أتاحت بيئة مواتية للعدو الخارجي. (المصدر: الفجر)

التعليق:

تظهر تصريحات قائد الجيش الباكستاني المتغيرة بسرعة، كما ذكرت هنا، كيف أن الهجمات المأساوية، مثل تلك التي وقعت في كويتا، تحدث لدوافع خفيّة. فقد تم قتل 73 شخصًا حتى الآن وأصيب كثيرون آخرون بجروح بعد انفجار قنبلة في مستشفى، حيث يوجد عدد كبير من المحامين كانوا قد تجمعوا بعد هجوم سابق على أحد زملائهم. وبينما وصفت المشكلة بأنها من "الميسرين المحليين"، فمن الواضح، كما أقرّ في اجتماع لقيادة الجيش المشار إليها أعلاه، أن الهجوم انطلق أساسًا من الأراضي الأفغانية وبرعاية من قبل وكالات الاستخبارات الهندية. ولم يذكر أن الأراضي الأفغانية هي بطبيعة الحال تحت الاحتلال الأمريكي حاليا.

تحتاج القيادة الباكستانية لمراجعة هادئة للوضع الذي وجدت نفسها فيه. فهل يكفي أن تعلن العملية بعد العملية للقضاء على الإرهاب الأصلي عندما يكون السبب الفعلي لهذه الهجمات هو الهند والولايات المتحدة؟ بالإضافة إلى معاناة المسلمين في باكستان، فإن عشرات الملايين من المسلمين يواجهون الاحتلال الهندي في كشمير والاحتلال الأمريكي في أفغانستان. وقد تم اختيار باكستان لتقديم الدعم السري الفاتر مع اعتماد سياسة "التطبيع" مع الهند و"العلاقات الأخوية" مع النظام الأفغاني التي فرضتها الولايات المتحدة. على باكستان أن تقرر ما إذا كانت تريد مراقبة "المعايير الدولية" التي تفرض بشكل انتقائي من قبل الغرب، أو إذا ما كانت تريد أن تتولى حقًا السيطرة على سيادتها وتتعامل مباشرة مع الأسباب الحقيقية لمشاكل المنطقة.

الصراع بين الهند وباكستان يعود إلى استقلالهما عن الحكم البريطاني منذ عام 1947. الدولتان خاضتا ثلاثة حروب مع بعضهما البعض منذ ذلك الحين. لكن بالإضافة إلى هذه الحروب، فالبلدان في حالة حرب شبه دائمة بالوكالة، حيث يدعمون الصراع المسلح في كل من بلدانهم الأخرى. حيث قدمت باكستان دعما للجهاد في كشمير، في حين إن الهند تدعم تمرد القوميين في بلوشستان. أيضا، باكستان تدعم طالبان الأفغانية أما الهند فتدعم النظام الأفغاني، وتحولت إلى دعم حركة طالبان باكستان (طالبان الباكستانية) سرًا، والتي تحارب ضد الدولة الباكستانية ومنفصلة عن حركة طالبان الأفغانية.

جماعة الأحرار، والتي أعلنت مسؤوليتها عن هجوم كويتا، هي فرع من حركة طالبان باكستان التي شاركت بشكل أو بآخر في هجمات كبيرة على المدنيين في باكستان.

شهد الشهران الماضيان زيادة حادة في هذه الصراعات وفشلاً في الجهود الرامية إلى تطبيع رئيس الوزراء الباكستاني نواز شريف مع رئيس الوزراء الهندي ناريندرا مودي. هذا الفشل هو أمر طبيعي نظرًا للتوجه المؤسسي والحقائق الجيوسياسية: التقسيم الذي فرضته بريطانيا عام 1947 يقطع عبر مراكز السكان المسلمين الكبرى حيث صمّم لتعيين البلدين في مواجهة بعضهم بعضاً داخل شبه القارة في جنوب آسيا. وفي وقتنا الحاضر أمريكا تدعم الهند ضد الصين، مما أدى إلى أن تدعم الصين باكستان ضد الهند. وقد أحدث العديد من المهيجات، أن أمريكا دعمت الهند لعضوية مجموعة الموردين النوويين (NSG) مقابل الصين، في حين امتنعت عن تقديم توصية مماثلة لباكستان. وفي الوقت نفسه تمارس أمريكا الضغط على باكستان لاحتواء الجهاد الأفغاني ضد القوات الامريكية.

على الرغم من كون القيادة الباكستانية على علم عميق بهذه الحقائق، إلا أنها لا زالت تتمسك بالمعايير والاتجاهات الغربية وتسير وراء مصالحها الخاصة بدلا من متابعة مصالح المسلمين في المنطقة. باكستان تمتنع علنًا عن مهاجمة ​​الأنظمة الهندية أو الأنظمة الأفغانية المدعومة من الولايات المتحدة، بدلاً من ذلك تحول جيشها بعد كل حدث ضد رعاياها باسم محاربة الإرهاب. وقد أدت هذه العمليات الداخلية إلى اعتقال واختطاف عشرات الآلاف من المسلمين المخلصين، وبالتالي إحداث تجريم للإسلام وجميع الحركات الإسلامية.

من خلال اعتمادها "حرب أمريكا على الإرهاب" فإن باكستان فشلت في ضرب أعدائها الحقيقيين أو توجيه سياستها مع الواقع المؤسسي والجيوسياسي في المنطقة. حرب أمريكا ضد الإسلام، في كل أبعادها الإيديولوجية والعسكرية، هي حرب ضد مصالح باكستان أيضا.

يجب على باكستان التخلي عن حرب أمريكا على الإرهاب، وأن تتبنى الإسلام كاملاً بدلاً من ذلك. فقط عن طريق القيام بذلك فإن باكستان ستكون قادرة على مواءمة نفسها حقا مع مصالحها الحقيقية في هذه الحياة وفي الآخرة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست