پاکستان نے افغانستان کے خلاف ایک امریکی منصوبے کو دوبارہ نافذ کیا!
(مترجم)
خبر:
پاکستانی فوج کے ڈرون طیاروں کے ذریعے افغانستان کے صوبوں خوست اور ننگرہار پر کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین بچے ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔
تبصرہ:
علاقے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کی ہدایت پر افغانستان کے حوالے سے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے۔ یہ منصوبہ، جو خطے میں کسی بھی آزاد اسلامی تحریک کو دبانے کی واشنگٹن کی راسخ پالیسی کا تسلسل ہے، اب زیادہ شدت اور ہم آہنگی کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی حالیہ فوجی، سفارتی اور انٹیلی جنس سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ اس نے افغانستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک آلے کا کردار سنبھال لیا ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے امریکہ کے حالیہ دورے، اسلام آباد میں امریکی اور پاکستانی حکام کے درمیان اعلیٰ سطح کے اجلاس - واشنگٹن کی جانب سے افغانستان سے بقیہ فوجی سازوسامان کی واپسی کی درخواست کے ساتھ - اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان ملاقاتوں کے فوراً بعد، پاکستانی فوج نے افغان سرحدی علاقوں پر فضائی حملے کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح خفیہ معاہدے تیزی سے آپریشنز میں بدل جاتے ہیں۔ افغان سرحد کے قریب تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں پر حملے امریکی انٹیلی جنس تعاون کے امکانات کو تقویت دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ جزوی طور پر انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے فائدے کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ کو دوبارہ فعال کر کے پاکستان کو نئے مالی مراعات پیش کر سکتا ہے۔ دریں اثنا، پاکستانی حکام، بشمول آرمی چیف، اسلام کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار پر زور دیتے ہیں، اور واشنگٹن کے لیے اس تجدید شدہ شراکت کی مثبت تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد واضح ہے: طالبان پر دباؤ ڈالنا، خطے میں اسلامی تحریکوں کو محدود کرنا، اور ہندوستان کو یقین دلانے کے لیے پاکستانی فوجی توجہ کو مغرب کی طرف دھکیلنا، اور کسی بھی ایسی بنیادی تبدیلی کو روکنا جو مغرب کے زیر تسلط عالمی نظام کے لیے چیلنج ہو۔ ایک بار پھر، قومی مفادات کو محفوظ بنانے کے نعرے کے تحت، پاکستان ایک ایسے منصوبے میں شامل ہو گیا ہے جو صرف مزید عدم استحکام کو ہوا دے گا، پراکسی جنگوں کو طول دے گا، اور امت مسلمہ کو کمزور کرے گا۔
اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے، تو خطے میں اسلامی تحریکوں کو کسی بیرونی دشمن کی طرف سے نہیں بلکہ ایک کرائے کے ٹٹو پڑوسی کی طرف سے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس حقیقت کا مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ پاکستان کی نام نہاد "قومی پالیسیوں" پر قائم رہنے کے بجائے خلافت راشدہ کے قیام کے ذریعے خطے میں سیاسی اور جغرافیائی تبدیلی لانا ہے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
یوسف ارسلان
حزب التحریر ولایہ افغانستان کے میڈیا آفس کے رکن