بات العراق سفينةً بلا ربان وسط أمواج عاتية من التبعِية والطائفية والفساد
بات العراق سفينةً بلا ربان وسط أمواج عاتية من التبعِية والطائفية والفساد

الخبر:   نقلت وكالات أنباء متنوعة في 2016/6/17 أنباء انتهاكاتٍ خطيرة بحقِّ سكان الفلوجة وغيرِهِم في خضمِّ المعارك الجارية هناك، مُذَكِرة بما جرى آنفاً من جرائم مماثلة في حق أهالي المناطق (المحررة) من تنظيم "الدولة":

0:00 0:00
Speed:
June 20, 2016

بات العراق سفينةً بلا ربان وسط أمواج عاتية من التبعِية والطائفية والفساد

بات العراق سفينةً بلا ربان وسط أمواج عاتية من التبعِية والطائفية والفساد

الخبر:

نقلت وكالات أنباء متنوعة في 2016/6/17 أنباء انتهاكاتٍ خطيرة بحقِّ سكان الفلوجة وغيرِهِم في خضمِّ المعارك الجارية هناك، مُذَكِرة بما جرى آنفاً من جرائم مماثلة في حق أهالي المناطق (المحررة) من تنظيم "الدولة":

  • قال محافظ الأنبار متَّهما فصائل متعددة من الحشد (الشيعي) المصاحبة للجيش بارتكاب جرائم مثل:

أ‌- إعدام (49) رجلاً سُنياً بعد أن استسلموا لفصيل شيعيّ يساند هجوم الجيش العراقي الرامي لاستعادة الفلوجة.

ب‌- اختفاء (643) شخصاً بعد فرارهم من المدينة بين (3-5) من حزيران للعام الجاري.

ت‌- احتجازُ وتعذيبُ وقتلُ مدنيين فارين من الفلوجة وسط معركة تهدف إلى طرد مقاتلي تنظيم الدولة الإسلامية.

  • وأعلن محافظ صلاح الدين ومسؤولون آخرون عن:

أ‌- اختفاء ألف شخص منذ سيطرة القوات العراقية على مدن وقصبات محافظة صلاح الدين، ولا يعرف عنهم وعن مصيرهم شيء لحد الآن، موجها أصابع الاتهام إلى مليشيات الحشد الشعبي.

ب‌- اختطاف (249) من أبناء قضاء الدور - 30 كيلومترا شرقي تكريت - فقدت آثارهم بعد دخول قوات الحشد الشعبي إليه في السابع من آذار/مارس من العام الماضي.

ت‌- وشهدت محافظة صلاح الدين عمليات سلب ونهب بعد تحرير مُدنِها من قبل القوات الأمنية العراقية والحشد الشعبي كما تم نسف المئاتِ من المنازل وإحراق آلاف الدونمات من البساتين وتجريف المزارع خصوصاً في المناطق القريبة من قضاء بلد - 80 كيلومترا شمالَ بغداد - وهي مناطق يثرب وعزيز بلد والاسحاقيّ والمعتصم.

  • وقال ضباط من قوات البيشمركة الكردية التي انضمَّت إلى الحكومة في عملية آمرلي - إحدى نواحي محافظة صلاح الدين - لهيومن رايتس ووتش "إنهم رأوا (47) قرية دمَّرتها المليشيات ونهَبت فيها المنازل والمحالَّ والمساجد والمباني العامة".

التعليق:

لا شك أن القوات الأمريكية الغازية حين جاءت إلى العراق لم يكُن من بين أهدافها رعاية مصالح أهلهِ وبناءُ بلدٍ على أسسٍ صحيحة تمَكِّن الناسَ من العيش في حياةٍ كريمةٍ وأمنٍ وسلام... لا لم ولن يردَ ضمنَ مخطَّطاتِهم شيءٌ كهذا، بل على العكس، فقد جاءت لتدمير بلدٍ عريقٍ له تاريخٌ حافلٌ، وإزالتِهِ من الجغرافيا إن أمكنها ذلك مستخدمةً كل ما تفتقت عنه ذهنية الرأسمالي الجشع صاحب الحضارة التي لم تُبنَ إلا على أشلاء ملايين الضحايا من البشر، ومن أبرز ما لجأت إليه من وسائل خبيثة لتحقيق ذلك:

أولاً: تمزيق النسيج المجتمعي لشعب العراق رغم تنوُّعِ مكوِّناته باعتبارهِ شعباً مسلماً منذ الفتوحات الإسلامية المباركة في صدر الإسلام. فجاءت أمريكا ولعبت على أوتار الطائفية النَّتِنة، والعِرقية البغيضة، ونظام المحاصصة والدستور المُلغَّم الذي لا ينجُم عنه غير الخراب والدمار. استخدمت كل الأدوات الممكنة لخلق الكراهية والحقد بين إخوة الأمس فكان الخطف والقتل على الهويَّة والتفجير وهدم المنازل وبيوت الله، والإيغال في تنفيذ أحكام الإعدام التعسُّفية تحت ذريعة "الإرهاب" للتَّخلُصِ ممن يُعارضُ حُكمهُم، أعانها على ذلك قوى محلية ودولية، وتولى كِبرَها أذرُع إيران في العراق، أعني المليشيات التي دربتها وموَّلتها الحكومة (الإسلامية) برعاية السَّفيه خامنئي... حتى خُيِّلَ إلى الناس أنَّ العيش بين تلك المكوِّنات المتآخية - سابقا - بات مستحيلا، ولا بد من اللجوء إلى الحلول (الكوارث) التي فرضها دستور "فيلدمان" اليهودي أمثال: الفدرالية والكونفدرالية وإقامة الأقاليم حتى بات تحقيق ذلكم الهدف الخبيث: تقسيم العراق قاب قوسينِ أو أدنى.

ثانياً: تدمير دِيار أهل السُّنَّة في شمال العراق وغربهِ موطنِ الجهاد والمقاومة لكل محتلٍّ كافرٍ يريدُ الأذى ويُضمِر الشرَّ لأهل العراق الغيارى وذلك عن طريق استثمار تنظيم "الدولة" الذي أتقنَ القيام بالدَّور الموكلِ إليه أتمَّ قيام لتشويهِ صورة الإسلام الناصعة أولاً، والإساءة لنظام حُكمهِ العادل الذي شرعهُ كتابُ اللهِ تعالى وسُنَّة نبيِّهِ عليهِ الصلاة والسلام نظامِ الخلافة الحَقَّة ثانياً، ومعاقبةِ من أذلَّ كبرياء أمريكا زعيمة الإرهاب العالميِّ وراعيتِه، ورفض حكم أحزاب إيران المارقة في العراق التي كانت ولا تزال خير عَونٍ للمحتلِّ الكافر في تحقيق أهدافه ثالثاً، تحت مظلة مكافحة الإرهاب الخادعة. ولا يغيب عن ناظِرَي المتابِع المستنير ما لتدمير البنى التحتية لتلك المُدُن التي ابتُلِيت بتنظيم "الدولة" المُنحرف من تجريف البساتين العامرة، وهدم المساجد والجامعات والمستشفيات، فضلا عن مساكن أهلها وموارد أرزاقهم من تشتيتِ وبعثرة جهود كل مَن يسعى للخلاص من قبضة الأنذال المحتلين وأذنابهم ممن فقدوا شرفهم وتنازلوا عن هويَّتهم طمعاً في حطام الدنيا.

ثالثاً: رهنُ اقتصاد البلد لعشرات السنين القادمة، ومصادرة قراره السياديِّ تحت وطأة الأزمات الاقتصادية المفتعلة، وأطنانِ الأسلحة والذَّخائر التي تتكلف الخزينة المتهاوية - أصلاً - مئات الملايين من الدولارات بحُجَّةِ قتال "تنظيم الدولة" وطردِه وتحرير ما استولى عليه بفعل الحكومات العميلة السابقة واللاحقة إذِ الكلُّ متَّهمٌ بل ومُساهِمٌ في تخريب هذا البلد الجبار من أصناف المتسربلين بلباس الدينِ والسياسة كذِباً وزورا، وليس هذا فحسب، بل هناك ما يزيد الأمور سوءًا ألا وهو الشروط المُذِلة والقاسية التي يفرضُها صندوق النقد والبنك الدوليان التي تُعَسِّر معايش الناس، زيادة في الانتقام من المسلمين، وتحذيراً لهم من مغبَّة الفكاك من نِيرِ سطوة الغرب الكافر الذي يُهيمنُ على كلِّ أنظمة الحكم القائمة في العالم الإسلاميّ كما هو جارٍ في تونس وليبيا ومصر وسوريا واليمن وفلسطين العزيزة وأمثالها في البلاد الأخرى.

وختاماً، لا نملك غير الصبر، وما يمكن تقديمهُ من عملٍ يقرِّب - بإذنِ الله سبحانه - من هدفنا الأسمى: قيام دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوَّة واستئناف الحياة الإسلامية بتحكيم شرع الله تعالى حقَّا وصِدقاً، ثمَّ قيادة العالم أجمع بأحكام مبدأ الإسلام الذي لا يصِحُّ ولا يُثمرُ غيرهُ على الإطلاق ﴿أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ﴾، وتخليص البشرية من شرور الرأسمالية الهَرِمة، والديمقراطيَّة الفاشلة، والعلمانيَّة التي ما جلبت على الناس غير البؤس والأزمات، وردعِ كلِّ طاغوت لا يخضعُ لمنطق الحق والعدل والإنسانية النقية. نسألُ الله العليَّ القدير أن يَمُنَّ على أمَّة الإسلام المكلومةِ بالفرَج القريب والنصر العظيم بشروق شمس الحقِّ شمس الخلافة الزاهرة إيذاناً بحلول مواسم الخير والسعادة والأمن لكلِّ الناس بصرف النظر عن أعراقِهِم وألوانِهِم وأديانهِم، لا سيَّما ونحنُ في شهر البركات والانتصارات العظيمة شهر رمضانَ الكريم، وما ذلك على الله بعزيز ﴿وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الرحمن الواثق – بغداد

المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية العراق

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست