بدأ مسرح تحديد الحدّ الأدنى للأجور!
بدأ مسرح تحديد الحدّ الأدنى للأجور!

الخبر:   أصبح جدول اجتماعات العمل على تحديد الحدّ الأدنى للأجور واضحاً. حيث ستعقد لجنة تحديد الحدّ الأدنى للأجور، المكونة من ممثلين عن الموظفين وأصحاب العمل والدولة، اجتماعها الأول في 7 كانون الأول/ديسمبر والاجتماع الثاني في 14 كانون الأول/ديسمبر من أجل تحديد الحد الأدنى للأجور لعام 2023. وبعد الاجتماعات الثلاثة التي ستعقد، سيتمّ الإعلان عن زيادة الحد الأدنى للأجور لعام 2023. ومن المتوقّع الإعلان عن رفع الحد الأدنى للأجور اعتباراً من الأسبوع الأخير من شهر كانون الأول/ديسمبر. (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
December 14, 2022

بدأ مسرح تحديد الحدّ الأدنى للأجور!

بدأ مسرح تحديد الحدّ الأدنى للأجور!

(مترجم)

الخبر:

أصبح جدول اجتماعات العمل على تحديد الحدّ الأدنى للأجور واضحاً. حيث ستعقد لجنة تحديد الحدّ الأدنى للأجور، المكونة من ممثلين عن الموظفين وأصحاب العمل والدولة، اجتماعها الأول في 7 كانون الأول/ديسمبر والاجتماع الثاني في 14 كانون الأول/ديسمبر من أجل تحديد الحد الأدنى للأجور لعام 2023. وبعد الاجتماعات الثلاثة التي ستعقد، سيتمّ الإعلان عن زيادة الحد الأدنى للأجور لعام 2023. ومن المتوقّع الإعلان عن رفع الحد الأدنى للأجور اعتباراً من الأسبوع الأخير من شهر كانون الأول/ديسمبر. (وكالات)

التعليق:

يتمّ إدخال دراسات تحديد الحد الأدنى للأجور، التي أصبحت تقريباً الأجر العام في تركيا والتي ينتظرها بفارغ الصبر 10 ملايين موظف، هذا العام في أجواء انتخابات 2023. في الواقع، سيكون من الأصح تسمية هذه الأعمال "مسرح الحد الأدنى للأجور"؛ لأن لجنة الإصرار المكونة من 15 شخصاً، الذين لا يعرفون معنى العمل بالحد الأدنى للأجور في حياتهم، تحاول تحديد الأجر الشهري لعشرة ملايين موظف حول كيفية العيش دون أن يموتوا.

في هذا المسرح، أولاً، يتم خلق بيئة ضد العمال من خلال ضمان الأغلبية في تعاون رئيس الدولة، ثم يلعب ممثلو العمال أدوارهم الرخيصة من خلال الغضب المفترض، والتهديد بمغادرة الطاولة، وشرح الخطوط الحمراء، وأخيراً، يستمر الاستغلال في العمل والاستغلال العقلي من خلال تحديد رقم على نفس مستوى حد الجوع.

في الواقع، تم تصميم الحد الأدنى للأجور في مؤتمر صحفي حيث نسي الوزير ميكروفونه ليغلق قبل ثلاث سنوات، وتم التخطيط لمبلغ 7785 ليرة تركية لعام 2023.

تخيل أن ممثل العمل يتلقى أجراً عند مستوى حد الجوع لمن يمثله. مرة أخرى، تخيل دولة، مصحوبة بالجوقة الإعلامية التي تلقتها من ورائها، تقوم بتسويق رسوم البؤس هذه على أنها إنجيل لشعبها. ثم برد ما أعطاه بملعقة من جهة ومغرفة من جهة أخرى! من ناحية أخرى، فإن الشركات الرأسمالية الكبيرة، التي تتمتع بجميع أنواع الامتيازات المادية بالتعاون مع الدولة، لا تعتبر حتى زيادة معدل التضخم جديراً بالعاملين فيها. إن هذا مسرح حقير.

من ناحية أخرى، يقول أردوغان إنهم لا يضطهدون العمال بالتّضخّم بعد كل إعلان للحد الأدنى للأجور. بالطبع، كلام أردوغان كذبة كبيرة، لأنه قبل تحديد مبلغ الحد الأدنى للأجور، تم إجراء زيادات في البنود الأساسية مثل الطعام والملبس والمسكن والنقل بشكل حاسم. علاوة على ذلك، بالإضافة إلى الارتفاعات الباهظة التي تصل إلى 200٪ في الكهرباء والغاز الطبيعي خلال عام 2022، تقود الدولة غضب الشركات الرأسمالية الجشعة لسحق ذوي الدخل المنخفض بزيادة قدرها 122٪ في معدلات الضرائب والرسوم في عام 2023.

بينما بلغ معدل التضخم السنوي الذي أعلنته الدولة هذا العام 85٪، تجاوز التضخم الفعلي 150٪. من المتوقع زيادة الحد الأدنى للأجور بنسبة أقصاها 50٪. بعبارة أخرى، فإن الزيادة في الحد الأدنى للأجور قد تبخّرت بالفعل قبل أن تدخل جيب الموظف. علاوة على ذلك، فإن حل القضية ليس رفع الحد الأدنى للأجور بمعدل التضخم. المشكلة الرئيسية هي الحد الأدنى للأجور نفسه، وهو أمر مستحيل تماماً لأي شخص أن يتماشى معه. علاوة على ذلك، فإن المشكلة الرئيسية هي النظام الرأسمالي نفسه، الذي يأخذ من الفقراء ويعطي للأثرياء. في النظام الرأسمالي، حيث تُفرض الضرائب حتى على الحد الأدنى للأجور، لا يتم تقييم الناس بأي شكل من الأشكال. إن النظام الرأسمالي قاسٍ وغير أخلاقي ويجب تدميره.

الحلّ هو النظام الاقتصادي الإسلامي، حيث لا يوجد حد أدنى للأجور في النظام الاقتصادي الإسلامي، ويتم تحديد الأجر بين العامل وصاحب العمل حسب نوع العمل والجهد والمزايا المقدمة بشكل حاسم. كما لن تحدد الدولة حداً أدنى للأجور، ولا يمكن مصادرة راتب الموظف تحت اسم الضريبة. ولا تُفرض الضرائب إلاّ على الأغنياء وحسب احتياجات الدولة. لا يحظر النظام الاقتصادي الإسلامي تملك الثروة مثل الشيوعية، ولا يسمح بكل طرق الحصول على الثروة مثل الرأسمالية. إنه ينشئ توازناً فريداً في الاقتصاد بفضل أحكامه الخاصة التي تمنع الثروة من أن تكون سلعة يتم تداولها بين الأغنياء فقط. لذلك فإن الازدهار هو المصدر الوحيد للسلام والحياة البشرية. لا يمكن تنفيذ النظام الاقتصادي الإسلامي إلاّ في ظل الدولة الإسلامية، ويقع على عاتق كل مسلم مسؤولية العمل على إقامة تلك الدولة. قال تعالى: ﴿كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْاَغْنِيَٓاءِ مِنْكُمْ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أمين يلدريم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست