بدءُ الصَّومِ والفطرِ واحدٌ لكلِّ المسلمين  وسببُهما رؤيةُ الهلالِ أو إكمالُ الثلاثين وليسَ ولادةَ الهلال
بدءُ الصَّومِ والفطرِ واحدٌ لكلِّ المسلمين  وسببُهما رؤيةُ الهلالِ أو إكمالُ الثلاثين وليسَ ولادةَ الهلال

الخبر: تختلف آراء المسلمين في مسائل تتعلق بثبوت بداية الصيام وثبوت الفطر، منها: هل يثبت ذلك بالحسابات أم أنه لا يثبت إلا بالرؤية أو إتمام الثلاثين؟ ومما يورده المحتجون بالحسابات أن الحسابات قطعية ويثبت بها ثبوت ولادة الهلال ودخول الشهر بشكل قطعي. ويبنون على ذلك إثباتَ بدء الصوم أو الفطر بواسطتها، وهو ما يردُّه الذين يَقصُرون الإثباتَ على الرؤية أو إتمام الثلاثين.

0:00 0:00
Speed:
February 27, 2025

بدءُ الصَّومِ والفطرِ واحدٌ لكلِّ المسلمين وسببُهما رؤيةُ الهلالِ أو إكمالُ الثلاثين وليسَ ولادةَ الهلال

بدءُ الصَّومِ والفطرِ واحدٌ لكلِّ المسلمين

وسببُهما رؤيةُ الهلالِ أو إكمالُ الثلاثين وليسَ ولادةَ الهلال

الخبر:

تختلف آراء المسلمين في مسائل تتعلق بثبوت بداية الصيام وثبوت الفطر، منها: هل يثبت ذلك بالحسابات أم أنه لا يثبت إلا بالرؤية أو إتمام الثلاثين؟ ومما يورده المحتجون بالحسابات أن الحسابات قطعية ويثبت بها ثبوت ولادة الهلال ودخول الشهر بشكل قطعي. ويبنون على ذلك إثباتَ بدء الصوم أو الفطر بواسطتها، وهو ما يردُّه الذين يَقصُرون الإثباتَ على الرؤية أو إتمام الثلاثين.

التعليق:

نعم، هذه من المسائل الخلافية في تحديد أول أيام الصيام ويوم الفطر، ومثلها أيضاً مسألة اختلاف هذين اليومين عند المسلمين تبعاً لاختلاف الدول أو البلدان والمسافات بينها، وتتجدد تساؤلات المسلمين حولها وحواراتهم فيها سنوياً عند حلول شهر رمضان المبارك.

والدليل في المسألتين قوله صلى الله عليه وآله وسلم: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ». أما المسألة الأولى وهي ثبوت بدء الصوم أو الفطر، فقوله ﷺ «لِرُؤْيَتِهِ» في الحالتين، يدل على أن السبب الشرعي فيهما هو رؤية الهلال، وعند عدم حصول الرؤية يصبح السبب الشرعي إكمال عدة الثلاثين. أي أن الشرع ربط بدء الصوم أو الفطر بالرؤية أو إكمال الثلاثين، وليس أيِّ شيء آخر، ولم يربط ذلك بثبوت دخول الشهر ولا بثبوت الاقتران أو ولادة الهلال. وقوله ﷺ: «فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ»، واضح في حصر السبب في أمرين فقط: الرؤية وإكمال العدة، ولا ثالث لهما. وهذا يُضعف القول بإثبات البدء بناءً على الحسابات الفلكية وبغير الرؤية أو الإكمال، بل وينفيه بقوة.

وحجة القائلين بثبوت البدء بالحسابات الفلكية، هي أن الحسابات في هذا الأمر دقيقة وقطعية، وهي تُثبِت حصولَ الاقتران وبدء الشهر القمري بشكل قطعي. ومن هنا تنشأ المجادلات وتساؤلات كثيرين ممن يميلون إلى هذا الرأي: أليست الحسابات صحيحة وموثوقة بل قطعية؟ ألا يثبت بها ولادة الهلال ثبوتاً قطعياً؟ فلماذا لا يثبت بدء الصوم والفطر بها؟ ويضيفون إلى ذلك أن قصر الحديث الأمرَ على الرؤية أو إكمال الثلاثين إنما كان لأنه لم يكن علمٌ وحساب في ذلك الزمن كما هو الحال اليوم.

وهذا الاحتجاج مردودٌ من جهتين؛ الأولى: إن هذا الجدل لا علاقة له بمحل البحث. فليس الموضوعُ ثبوتَ الاقتران أو دخولَ الشهر القمري ولا هو ثبوتَ ولادة الهلال. والجواب على التساؤلات حول الثقة بالحسابات هو: بلى، هي موثوقة وتُعامَل معاملةَ القطعيات. فعندما تقول الحسابات إن هلال شهر رمضان أو هلال شوال يولد يوم كذا الساعة كذا، فهذا صحيح وموثوق ولكنّ هذا ليس هو محل البحث فلا يُبنى عليه شيء. والاحتجاج بهذا الأمر خطأٌ سببُه عدمُ التنبُّه إلى أن الشرع جعل بداية الشهر عند الرؤية أو عند إكمال الثلاثين وليس عند ثبوت الاقتران أو الولادة. فنقول مثلاً: نعم، حصل الاقتران ووُلد الهلال، ولكن لم يثبت بدء الصوم أو بدء شهر رمضان، أو لم يثبت العيد أو بدء شهر شوال. لأن الاقتران والولادة ليسا من الأوصاف أو العلامات على الصوم أو الفطر، لا شرعاً ولا عقلاً. ولم يجعل الشرع دليلاً على دخول الصوم أو الفطر إلا علامتين واضحتين أو وصفين ظاهرَيْن اثنين لا غير، هما الرؤية أو إكمال عدة الثلاثين.

أما الجهة الثانية في رد احتجاج القائلين بالثبوت بناءً على الحسابات الفلكية، فهي على قولهم إنَّ قصرَ حديث النبي صلى الله عليه وآله وسلم الأمرَ على الرؤية أو إكمال الثلاثين إنما كان بسبب عدم العلم بالحساب في ذلك الزمن. وهذا القول مردود لأنه لا دليل عليه، وواقعه أنه يقرِّرُ علّةً للحكمِ لم تأت في أيّ مسلك شرعي.

أما المسألة الثانية، وهي تعدد بدايات الصوم أو الفطر عند المسلمين، تبعاً لاختلاف الدول والبلدان. فهذا مما يردّه النص والواقع. أما النص، فقوله ﷺ: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ»، جاء الأمر فيه «صُومُوا»، «أَفْطِرُوا» عاماً لكل المسلمين. وجاء لفظ الرؤية فيه مطلقاً، أي شائعاً في أي رؤية من أي شخص، فلا تُقَيَّد بأشخاص من بلاد معينة، ولا بعدد من الأشخاص، إلا بدليل شرعي. ولم تُقَيَّد الرؤية شرعاً إلا بأن تكون رؤية مسلم أو مسلمين. وبناءً على ذلك، فإن الأمر بالصوم والفطر جاء عاماً لكل المسلمين، والرؤية جاءت مطلقةً في رؤية أي مسلم. ولا يبقى في ذلك إلا أن يثبتَ صدق من يزعم الرؤية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور محمود عبد الهادي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست