بدل أن يعمد حكّام تونس إلى إيهام النّاس بالتغيير..  لماذا لا يستبدلون بالنظام الرأسمالي المفلس نظامَ الإسلام العظيم؟!
بدل أن يعمد حكّام تونس إلى إيهام النّاس بالتغيير..  لماذا لا يستبدلون بالنظام الرأسمالي المفلس نظامَ الإسلام العظيم؟!

الخبر: أكّدت وزيرة المالية سهام نمصية يوم الاثنين 22 كانون الثاني/يناير 2024 أنّ تونس نجحت في استخلاص كل ديونها الداخلية والخارجية بعنوان سنة 2023 رغم كلّ الضغوطات التّي واجهتها المالية العمومية.

0:00 0:00
Speed:
February 02, 2024

بدل أن يعمد حكّام تونس إلى إيهام النّاس بالتغيير.. لماذا لا يستبدلون بالنظام الرأسمالي المفلس نظامَ الإسلام العظيم؟!

بدل أن يعمد حكّام تونس إلى إيهام النّاس بالتغيير..

لماذا لا يستبدلون بالنظام الرأسمالي المفلس نظامَ الإسلام العظيم؟!

الخبر:

أكّدت وزيرة المالية سهام نمصية يوم الاثنين 22 كانون الثاني/يناير 2024 أنّ تونس نجحت في استخلاص كل ديونها الداخلية والخارجية بعنوان سنة 2023 رغم كلّ الضغوطات التّي واجهتها المالية العمومية.

التعليق:

لا غرابة أن يعمد حكّام تونس إلى خديعة النّاس وإيهامهم بأن السياسات المتوخاة تسير في الطريق الصحيح، فعندما تفقد الدولة دورها الأساسي وهو الرعاية وتتحول إلى دولة جباية، من الطبيعي أن تتفاقم الأزمات وتعجز الدولة عن حلّها، ولا يزال الخناق يضيق يوما بعد يوم على أهل تونس بسبب الزيادات الفلكيّة في أسعار المحروقات والمواد الغذائية وغيرها من السلع والخدمات.

وما إعلان وزيرة المالية سهام البوغديري نمصية عن أن تونس نجحت في تسديد ديونها الداخلية والخارجية بعنوان سنة 2023 إلَّا تعمية عن سياسة الهروب إلى الأمام التي تنتهجها حكومة الرئيس قيس سعيّد. فصحيح أنّ الدولة سدّدت سنة 2023 ما قيمته 12 مليار دينار كدين داخلي وما قيمته 8.7 مليارات دينار كدين خارجي، لكنّها واصلت سياسة الاقتراض من الخارج، بمعنى أنها سددت القروض الخارجية باقتراض خارجي أكبر، فحجم الاقتراض الخارجي ارتفع من 7.6 مليارات دينار سنة 2022 إلى 10.6 مليارات دينار سنة 2023، يعني أن الدولة سدّدت الديون بديون أخرى!

وهنا يتّضح واقع النظام القائم في تونس الذي لم يبرح عن نهج من سبقه من الحكام الذين ادعوا أنهم سيخرجون بالبلاد من عنق الزجاجة فألقوا بها في الحضيض!

ها هو النظام القائم اليوم يمتصّ من دماء الشعب ويحفر في جيوبهم ليجد ما يقدمه للرأي العام الدولي برهانا على زيادة مدخولاته وإيراداته وقدرته على السداد، بينما هو في الحقيقة يفرّط في مقدرات تونس الطبيعيّة والبشريّة ويكبل أهلها لعقود قادمة في مستنقع القروض الربويّة وربقة التبعيّة.

فقد أظهرت وثيقة الموازنة العامة، أن تونس ستسدد ديوناً خارجية بقيمة 12.3 مليار دينار (3.9 مليار دولار) في 2024، بزيادة 40 في المئة عن 2023، وبالتالي فقد سددت السلطة دينها بدين آخر بزيادة في نسبة الربا، وصار على الناس أن يتحملوا، في قادم الأيام، عبء دين أعظم وبشروط أشد.

وعليه وفي ظل افتقاد الحكّام لعقلية الحكم والرعاية وأمام ضياع بوصلة السلطة، يصبح من المستحيل الخروج من المتاهة التي أوقعت البلاد والعباد فيها، حتى تُقلع عن ضلالاتها.

وقد آن الأوان اليوم لتونس وأهلها أن يلتفتوا لما في دينهم من كنوز تشريعيّة عظيمة، لو وضعت موضع التطبيق ولو طبقت في ظل دولة ذات سيادة على قراراتها متمسّكة بما فرضه الله تعالى على البشر من تنفيذ أحكام الشرع في كل مناحي الحياة وأولها في الدولة والحكم والتشريع، لتمكنّا في ظرف وجيز من إحداث نقلة نوعيّة في الاقتصاد والناحية الماليّة عموما، فقط عبر القطع مع المنظومة الرأسماليّة الفاشلة وعبر التعجيل بتطبيق نظام الحكم في الإسلام في ظل خلافة راشدة على منهاج النبوّة.

وهنا نستعرض بإيجاز بعض المعالجات في الإسلام لنبيّن الناحية العمليّة التي يجب على حكّام تونس السير فيها بديلا عن السير في ركاب النظام الرأسمالي الفاشل:

-      الإسلام يحرّم بنص القرآن والسنة كل الضرائب المفروضة على الناس ظلما وعدوانا، والتي تغطي تقريبا كل موارد الدولة في ظل النظام الرأسمالي القائم.

أما في الإسلام وفي حالة وجود نفقات طارئة، فقد أجاز الشرع جباية ضريبة لمرة واحدة على أموال المسلمين الأغنياء. ولكن هذا استثناء شديد في حالات الطوارئ ولا يصح أن يكون دائما.

- إن واجب الدولة الحقيقي ليس الإبداع في كيفية جباية أموال الناس ولا في كيفية التفريط في ثرواتهم، بل الإبداع في كيفية رعايتهم وسد حاجاتهم الأساسية وتمكينهم من إشباع ما هو من الكماليات قدر المستطاع، وتمكينهم أيضا من الانتفاع بموارد البلاد وثرواتها وأرضها ومائها ومراعيها، وهو ما لا يقوم به النظام الذي يبدع فقط في جباية أموال الناس بعد التفريط المستمر بموارد البلاد وثرواتها.

- إن ما تملكه تونس من موارد ومنابع للثروة وما يمكنها عمله حقيقة بطاقاتها البشرية وعقول أبنائها وموقعها الجغرافي كثير، ويمكن أن يغير حالها وحال أهلها بالكلية؛ يكفيها مراجعة عقود شركات البترول مثلا وحينها ستعود لأهل تونس ثروة هائلة وبشكل مستمر، ويكفي أن يمكّن الناس من تملك الأرض عبر الإحياء بالزراعة والإعمار وتشجيعهم على زراعة القمح وما يحتاجه الناس من غذاء، حينها ستصدر تونس القمح عوضا عن كونها الآن تستورده بالعملة الصعبة! كما يكفي أيضا أن تجعل أساس الصناعات فيها هي الصناعات الثقيلة أي صناعات الآلات التي تقوم عليها المصانع والصناعات، وتشجيع المبدعين في ذلك، حينها لن تجد بطالة ولا فقراً، وماذا لو تخلى النظام عن العملات الورقية التي لا قيمة لها، واعتمد الذهب والفضة كنقد بذاته أو بورقة نائبة عنه وجعل كل تعاملاته على أساس الذهب ولم يقبل بغيره ثمنا لما يبيع من منتجات وخدمات؟ كيف سيكون اقتصاد البلاد حينها؟

وفي الختام نؤكد أن القطع مع نظام الجباية المرهق لأهل البلد وعلاج التضخم وزيادة الأسعار وإنهاء عقود شركات النفط والهيمنة على موارد الثروة، وقيام الدولة بإنتاج الثروة منها وإعادة توزيعها على الناس، مع تمكينهم من إحياء الأرض وزراعتها والصناعة، ودعمهم في هذا السبيل يقضي على الفقر، ولا مجال ولا حاجة لقروض ربوية تمنحها مؤسسات الغرب الاستعمارية كوسيلة لاستعباد البلاد وأهلها.

كل هذا الذي ذكرنا واجب على الدولة القيام به وتتعلق به أحكام شرعية تلزمها تجاه كل رعاياها، ولكنه لا يطبق إلا بإرادة حرة وإدارة مخلصة لا يمكن توفرها إلا في دولة الإسلام ولا يطبق إلا من خلالها؛ دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فبها ومن خلالها تهيأ للناس أجواء الإبداع في كل شيء رغبة في نيل رضوان الله عز وجل.

 هذه هي الدولة التي يدعوكم حزب التحرير لها ولنصرتها شعبا وجيشا، عسى الله أن يتم بكم فضله ويعمكم بنوره فتفوزوا فوزا عظيما.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

خبيّب كرباكة

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست