بحجة السلامة يتم منع صلاة الجمعة في تونس!
بحجة السلامة يتم منع صلاة الجمعة في تونس!

  الخبر: ينص بلاغ وزارة الشؤون الدينية في تونس الصادر في 27 كانون الثاني/يناير 2022: (تبعا لاجتماع المجلس الوزاري المنعقد بقصر الحكومة بالقصبة بتاريخ 25 جانفي 2022 حول مجابهة تطوّر الوضع الوبائي بالبلاد، واستئناسا بتوصيات اللّجنة العلميّة المحذّرة من تسارع نسق انتشار العدوى فقد تقرّر تمديد العمل بالإجراءات موضوع البلاغ الصّادر عن وزارة الشؤون الدّينية في 13 جانفي 2022 لمدّة أسبوعيين إضافيين.)

0:00 0:00
Speed:
January 28, 2022

بحجة السلامة يتم منع صلاة الجمعة في تونس!

بحجة السلامة يتم منع صلاة الجمعة في تونس!

الخبر:

ينص بلاغ وزارة الشؤون الدينية في تونس الصادر في 27 كانون الثاني/يناير 2022:

(تبعا لاجتماع المجلس الوزاري المنعقد بقصر الحكومة بالقصبة بتاريخ 25 جانفي 2022 حول مجابهة تطوّر الوضع الوبائي بالبلاد، واستئناسا بتوصيات اللّجنة العلميّة المحذّرة من تسارع نسق انتشار العدوى فقد تقرّر تمديد العمل بالإجراءات موضوع البلاغ الصّادر عن وزارة الشؤون الدّينية في 13 جانفي 2022 لمدّة أسبوعين إضافيين.)

التعليق:

كعادتها السلطة التونسية لا تنفك عن إصدار القرارات السياسية التي تضيق على الناس أداء الصلاة في المساجد، ومثال ذلك هذه الفترة الأخيرة إذ قررت الحكومة التونسية منذ أكثر من أسبوعين منع أداء صلاة الجمعة ثم جاء في هذا البلاغ الأخير لوزارة الشؤون الدينية ما يفيد تمديد فترة تعليق صلاة الجمعة في المساجد لمدة أسبوعين إضافيين. وأيضا في بلاغها الصادر في 13 كانون الثاني/يناير 2022 تبرر وزارة الشؤون الدينية قرار تعليق صلاة الجمعة بتعلة ما تسميه "توصيات اللجنة العلمية لمجابهة انتشار فيروس كورونا".

غلق المساجد أو التضييق على رواد المساجد أو تعطيل صلاة الجماعة هي من الممارسات القديمة في تونس التي طالما انتهجتها السلطة السياسية لمحاربة مظاهر الإسلام وذلك في عهدي بورقيبة وبن علي، ثم مباشرة بعد ثورة 14 كانون الثاني/يناير تركت السلطة التونسية بصفة نسبية هذه الممارسات الظالمة نزولا لبعض مطالب التونسيين ونظرا لانكسار حاجز الخوف لديهم بعد الثورة، إلا أن السلطة التونسية بعد الثورة بقيت لا محالة تجتهد بممارسات مختلفة لتقليص مظاهر الإسلام ما أمكن لها ذلك كالاقتصار على فتح المساجد في أوقات الصلاة فقط أو كالتضييق على بعض أئمة المنابر المخلصين بالتدخل في مضمون خطابهم وبإلزامهم على ترك الحديث في الشأن السياسي بحجة مبدأ "فصل الدين عن السياسة" ورغم ما يمثله هذا المبدأ من مخالفة صريحة للسنة النبوية الشريفة وأحكام الإسلام التي تشمل كل مظاهر الحياة الفردية والجماعية.

ثم إثر انتشار فيروس كورونا في تونس سنة 2020 أعلنت السلطة جملة من الإجراءات للحد من انتشار الوباء وأقل ما يُقال في هذا إن بعض هذه الإجراءات مناقضة للمنطق السليم فقد تم غلق مساجد الله كامل الوقت حتى في أوقات الصلاة بحجة الحيلولة دون انتقال العدوى بين المصلين في حين إن الأسواق والمقاهي ووسائل النقل وغيرها من المنشآت لم يشملها قرار الغلق وهي تشهد ازدحاما أكثر بالناس مدى ساعات متتالية، فأين المنطق في قرار غلق المساجد؟!

وفي وقت لاحق وإثر احتجاج الناس على قرار غلق المساجد أعلنت السلطة التونسية استئناف فتح المساجد مع إلزام المصلين بالتباعد الجسدي إثر أداء صلاة الجماعة وذلك امتثالا "للبروتوكول الصحي في المعالم الدينية" الصادر عن منظمة الصحة العالمية، لكن عندما عبر المصلون عن اعتراضهم تجاه إجراء التباعد في الصلاة باعتباره بدعة تداركت وزارة الشؤون الدينية خطاب السلطة وأصدرت فتوى مفادها أن حكم التباعد في صلاة الجماعة جائز في حال الأوبئة، أفلا يمكن أن نقول إذن إن فتوى وزارة الشؤون الدينية كانت وسيلة لتزكية قرارات السلطة وأوامر منظمة الصحة العالمية؟!

بل مثل هذه القرارات المذكورة تعلنها الحكومات التونسية بأسلوب يلتمس مغالطة التونسيين بالاعتماد على تعلات ومبررات خالية المنطق تحجب حقيقة دوافع السلطة، وأبرز دليل على ذلك اليوم هو قرار تعليق صلاة الجمعة في المساجد بحجة الحد من انتشار الوباء ونحن نعلم أن مدة وجود المصلين في المسجد لأداء فريضة الجمعة لا تتجاوز عموما ساعة من الزمن زيادة على أنها صلاة تُقام مرة في الأسبوع لكننا لا نشهد اتخاذ السلطة اليوم قرارات وقائية مماثلة بالنسبة للأماكن الأخرى كالمقاهي والملاهي رغم ما فيها من شدة الاكتظاظ والازدحام بين الناس مديد الوقت.

فعموم التونسيين لا يستغربون من الحكومة تركيزها على منع مساجد الله أن تؤدى فيها صلاة الجمعة رغم ما تعلنه الأخيرة من علل غير منطقية لتبرير قراراتها لأنه أصبح واضحا للعموم أن الحكومة لا تعد إقامة صلاة الجماعة قضية ضرورية رغم أنها فرض عظيم فرضه رب العالمين.. ولأن النظام العلماني في تونس يفصل الإسلام عن السياسة رغم شمولية دين الإسلام وقدرته الفائقة على إعطاء المعالجات في كل المسائل السياسية لا سيما المسائل المتعلقة بنظام الصحة والوقاية من الأوبئة وذلك خلاف كل الأديان الأخرى التي لا تحتوي على أحكام سياسية، ولعل القائمون على النظام العلماني في تونس يظنون أن الأحكام الإسلامية لا تشمل الشأن السياسي فنبين لهم خطأ ظنهم أو لعلهم لا يفرقون بين مفهوم نظام الصحة ومفهوم العلوم الطبية فيخلطون هذا في ذاك فنبين لهم قلة فهمهم.. لكنهم - لا شك - حكام مضبوعون بالحضارة الغربية ومفاهيمها الفاسدة فلا يرون الحلول السياسية إلا منها وسياساتها المدمرة للشعوب.. حتى وصل الأمر أن باتت وزارة الشؤون الدينية في تونس تأخذ من المنظمات الغربية أحكام أداء صلاة الجماعة!

قال رسول الله ﷺ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ» رواه البخاري ومسلم، وفي رواية لمسلم: «مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور مراد معالج

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست