بل العالم كله يطالب بإسقاط المبدأ الرأسمالي الكافر!
بل العالم كله يطالب بإسقاط المبدأ الرأسمالي الكافر!

 الخبر:   جاء في الخبر التالي، والذي تناقلته عدة مواقع إعلامية عربية يوم الثلاثاء 2016/2/9: عريضة على موقع البيت الأبيض تطالب بمحاكمة أوباما

0:00 0:00
Speed:
February 12, 2016

بل العالم كله يطالب بإسقاط المبدأ الرأسمالي الكافر!

بل العالم كله يطالب بإسقاط المبدأ الرأسمالي الكافر!

الخبر:

جاء في الخبر التالي، والذي تناقلته عدة مواقع إعلامية عربية يوم الثلاثاء 2016/2/9:

عريضة على موقع البيت الأبيض تطالب بمحاكمة أوباما

جمعت عريضة تطالب بمحاكمة الرئيس الأمريكي، باراك أوباما، على جرائم الحرب، حوالي 1600 صوت حتى الآن.

وجاء في نص العريضة التي نُشرت على موقع البيت الأبيض: "نطالب إدانة أوباما بارتكاب جرائم حرب ومحاكمته في المحكمة الجنائية الدولية في لاهاي. إنه مذنب أمام مواطني الولايات المتحدة والعالم برمته".

وذكرت العريضة أن الرئيس الأمريكي لم يغلق سجن غوانتانامو في كوبا حتى الآن. ووفقا للعريضة فإن أوباما دمر ليبيا وتقوم أجهزته الأمنية بتدريب وتمويل الجماعات الإرهابية وتسميها بـ"المعارضة المعتدلة". كما تم إلقاء اللوم على الرئيس الأمريكي بجمع معلومات عن الرعايا الأمريكيين تحت ذريعة مكافحة الإرهاب ومراقبة المعارضين السياسيين باستخدام الأجهزة الإلكترونية.

وبموجب شروط وضع العرائض الإلكترونية إذا حصلت المبادرة على 100 ألف صوت حتى 9 آذار/مارس، فسوف يقوم البيت الأبيض بالنظر فيها.

التعليق:

المعروف عالمياً أن نظام الحكم في الولايات المتحدة نظام لا يرحم من يعاديه، فهو نظام يعتنق المبدأ الرأسمالي الذي لا يعترف بأحكام الله تعالى، ويُقر العيش بقوانين وضعية فرخت من عقول الكفار المظلمة، وذلك بداية؛ يعكس فشل هذا النظام كون المبدأ الرأسمالي العلماني قد عجز عن رعاية شؤون الشعوب الغربية أولاً، بشهادة الواقع، وفشل في قيادة البشرية ثانياً، عندما قرر أن ينشر مبدأه المتعفن الذي يتجرأ على الخالق عز وجل، بل ويعلن بغضه لرسول الله r، فلم يقدم في آخر مئة عام مضت غير سياسته الخارجية الاستعمارية، القائمة على استعباد الشعوب المستضعفة وتحطيم معنوياتها بالعنصرية والعنجهية التي عهدها العالم والنظرة الدونية لجميع البشر ما عدا "الإنسان الأبيض"! فمن يقرأ تاريخ أمريكا خاصة وأوروبا والغرب عامة يجده تاريخاً دموياً حافلاً بحروب الإبادة ونهب النفط والثروات ونشر الجريمة والفواحش والأمراض المخيفة، وما زال رموز الحضارة الغربية يقدمون أنفسهم على أنهم قدوة للناس، متحججين بأنهم متقدمون علميا، تلك العلوم التي أسسها العلماء المسلمون إبان دولة الخلافة الأولى وسرقها الغرب عن طريق الحروب الصليبية الضروس وبهدم خلافة المسلمين والتآمر عليها، ذلك العلم الذي لم ينقذهم من اختلاط الأنساب وانتشار الجرائم والفقر والشذوذ وانعدام الأمن الذي يعيشه الناس في تلك البلاد.

وكأن ذلك ليس كافياً لأن يجعل النظام الحاكم مجموعة من المجرمين، فأساس الشيء ينطق عن فروعه، ونظام الحكم في أمريكا والغرب نظام رأسمالي علماني همجي ومن الطبيعي أن تثمر الشجرة القذرة أجيالاً من المجرمين، مرضى القلوب، فليس بعد الكفر من ذنب.

والشعب الأمريكي شعب مخدوع يعيش في أكذوبة كبيرة مفادها في الخبر أعلاه، كذبة الديمقراطية وحرية الرأي، فإن لم يكتمل العدد المطلوب للعريضة فلن ينظر "البيت الأبيض" في قضيتهم، وهي قضية عادلة عاجلة لإيقاف أوباما المجرم ولرفع صوت الإنسانية فوق العلم الأمريكي الملطخ بدماء الأبرياء، لعلها تتحسن سمعة الولايات المتحدة، ذلك الاسم الذي بات المسلمون حول العالم يبغضونه للقتل المستعر الذي تتسبب به أمريكا كل يوم وليلة في الشام وفلسطين والعراق وأفغانستان، سعيا للهيمنة وبسط النفوذ وسرقة النفط والثروات في بلاد استفاقت من غفلتها تعمل لإعزاز دينها ونهضة إسلامها من جديد!

يحزن المسلم على الشعب الأمريكي، الذي يستحق أن يفهم المبدأ الإسلامي، ويستحق أن يكرم كما أراد الله تعالى للإنسان أن يكرم بالإسلام، وبالعيش في ظل القرآن الكريم وسنة رسول الله e. هذا الشعب عليه أن يفهم أن العريضة لن تزج بأوباما في السجن ولن تدينه، وأن الديمقراطية هي سياسة "اللاحل"، لأنها ببساطة لا تملك الحل! بل الحل في رفض المبدأ الرأسمالي الكافر من أساسه والعمل لتغييره لما أثبته من فشل حال بين الإنسان وخالقه جل وعلا، مبدأ كافر منع الناس من معرفة الله عز وجل والإيمان به، والطمأنينة والسعادة في الدنيا وفي الآخرة.

على الشعب الأمريكي أن يستمع لنداء الرحمة، نداء رب العالمين، وأن يسعى إلى اتباع منهج الإسلام، الذي يسير إليه الركب وتقترب منه البشرية يومياً، فهي سنة الله تعالى في أرضه، تنهار دول وتسقط، وتصعد دول وتسود، فالخلافة الراشدة هي القوة القادمة، الموعودة، والنظام العالمي الأصيل، الذي يقوم على أحكام الله الشرعية، ويحاسب فيها خليفة المسلمين إن لم يطبقها على رعايا الدولة، مسلمين كانوا أم كفاراً، الأحكام الشرعية السمحاء في هذا النظام الرباني العادل النقي الذي لا تفوح منه رائحة الظلم والقهر، بل يفوح منه عبق التاريخ والحضارة الإسلامية العظيمة الرحيمة، حضارة عنوانها الرقي والنهضة في كل المجالات، حيث لن يصل الحاكم لدرجة "مجرم حرب" أو إرهابي أو ديكتاتور، ولن يكون همه اعتقال البشر وتعذيبهم، ريثما يفكر "البيت الأبيض" في النظر في العريضة أو عدمه! بل العالم كله يطالب بإسقاط المبدأ الرأسمالي الكافر!

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة محمد حمدي – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست