بل وضع الإسلام للمسلمين نظام حكم وألزمهم به وجعله ضمانة استقرار دولته
بل وضع الإسلام للمسلمين نظام حكم وألزمهم به وجعله ضمانة استقرار دولته

الخبر:   نقل موقع المختصر على شبكة الإنترنت الأربعاء في 2016/6/11م، محاضرة وزير الأوقاف المصري في قصر محمد بن زايد ولي عهد الإمارات، تحت عنوان "حماية المجتمع من التطرف"، وقدم المحاضرة على ثلاثة محاور هي: تحصين المجتمع من الأفكار المتطرفة وغلق منافذ التطرف ومتابعة منع المتطرفين من الدعوة، والإفتاء وتفنيد شبهات المتطرفين وكشف أغراضهم وسوء أفعالهم، ودعا المؤسسات الدينية والدعوية والتربوية إلى التخلص ممن يعملون فيها من أصحاب هذا الفكر المنحرف المتطرف وإبعادهم منها...

0:00 0:00
Speed:
June 20, 2016

بل وضع الإسلام للمسلمين نظام حكم وألزمهم به وجعله ضمانة استقرار دولته

بل وضع الإسلام للمسلمين نظام حكم وألزمهم به وجعله ضمانة استقرار دولته

الخبر:

نقل موقع المختصر على شبكة الإنترنت الأربعاء في 2016/6/11م، محاضرة وزير الأوقاف المصري في قصر محمد بن زايد ولي عهد الإمارات، تحت عنوان "حماية المجتمع من التطرف"، وقدم المحاضرة على ثلاثة محاور هي: تحصين المجتمع من الأفكار المتطرفة وغلق منافذ التطرف ومتابعة منع المتطرفين من الدعوة، والإفتاء وتفنيد شبهات المتطرفين وكشف أغراضهم وسوء أفعالهم، ودعا المؤسسات الدينية والدعوية والتربوية إلى التخلص ممن يعملون فيها من أصحاب هذا الفكر المنحرف المتطرف وإبعادهم منها... مؤكدا أن القضايا الوطنية تعني كل ما يحافظ على أمن الوطن ووحدته وتماسكه واستقراره، وفند ما يقوله هؤلاء بشأن نظام الحكم في الإسلام أو الخلافة، مؤكدا أن الإسلام لم يفرض نظاما معينا أو قالبا واحدا جامدا للحكم وإنما قدم أسسا عامة مثل إقامة العدل بين الناس ومنع الفساد والعمل على تحقيق مصالح الناس من مسكن وصحة وتعليم، وتمكينهم من إقامة شعائر الدين، واصفا كل ذلك بالحكم الرشيد، وأكد أن الأسماء والمسميات لا تغير الواقع وأن الإسلام لم يضع نظاما ثابتا وجامدا يلتزم به المسلمون، وأن استقرار الدولة ودرء المفسدة مقدم على جلب المصلحة.

التعليق:

عجيب أمر علماء السلاطين المتفيقهين، علمهم كله يدور في فلك السلطان؛ فنرى كل فتاواهم لا تخرج عن تمجيدهم والحفاظ على عروشهم وتمكينهم من رقاب العباد وخيرات البلاد، لا حياء لديهم من رب سيسألهم عن دينهم وعلمهم، باعوا دينهم بدنيا هؤلاء الحكام.

الوزير المصري والذي أتى كجزء من نظام يعلن صراحة ولاءه لأمريكا وحرصه على مصالحها وحمايته لكيان يهود، يأتينا اليوم في ثياب الواعظين مستلا سيفه ومتابعا سادته في حربهم على الإسلام وأهله محاولا إيهام الناس أن من يدعون للخلافة وتحكيم الإسلام غير مؤهلين، أي أنهم لم يحصلوا على ترخيص من سيادته أو من رفيق دربه شيخ الأزهر، وكأن العمل لله ومع الله وحمل الإسلام ودعوته يحتاج إلى تصريح من زمرة الخونة المتاجرين بدينهم وبائعي قضايا أمتهم، اعلموا أنكم لن تمنعونا من حمل الدعوة الإسلامية ولن تمنعونا من خطاب الأمة وسنظل غصة في حلوقكم نفضحكم أمام الأمة، وسنظل ندعو الأمة لتستأنف حياتها الإسلامية من خلال الخلافة على منهاج النبوة التي ادعيتَ كذبا أنها ليست فرضا وأن الإسلام لم يفرض نظاما معينا أو قالبا واحدا جامدا للحكم، نعم سنظل نحمل الدعوة لإقامتها لأن إقامتها ليست مجرد فرض، بل هي تاج الفروض وبها يطبق الإسلام في الداخل ويحمل للخارج، وبها وحدها تتحقق الأسس التي تتكلم عنها؛ فلا عدل بين الناس إلا في ظلها ولا يمنع الفساد إلا وجودها ولا يحقق مصالح الناس ويوفر لهم الأمن والتعليم والرعاية الصحية ولا يضمن لهم مساكنهم وأرزاقهم إلا أن ينعموا بظلها.

أيها المسلمون عامة وأهل الكنانة خاصة: إن هؤلاء ليسوا علماء بل مسوخ ألبسوها الجبب والعمائم يريدون أن يوهموكم أن الإسلام ليس فيه ما يصلح حالكم وأنكم يجب أن تلجأوا لسادتهم في الغرب ليقرروا لكم كيف تكون حياتكم، لا يريدونكم أن تخرجوا من بوتقة التبعية والخضوع والذل والعبودية، هؤلاء الذين أخبر عنهم نبينا r «دعاة على أبواب جهنم من أجابهم قذفوه فيها»، فلا تسمعوا لهم بل اسمعوا من إخوانكم في حزب التحرير فما كذبوكم يوما ولن يفعلوا، وإنهم لأحرص عليكم من الأم بوليدها وهم لكم رائد والرائد لا يكذب أهله.

يا أهل الكنانة: لقد حكم الإسلام بنظامه ومنهجه زهاء ثلاثة عشر قرنا من الزمان فملأ الدنيا بنوره وعدله وقسطه وشهد القاصي والداني والعدو قبل الصديق بعدل الإسلام وعدل حكامه، خلال تلك الفترة من تاريخ أمتكم التليد كانت دولة الإسلام واحدة لا فرق فيها بين عربي وعجمي أو أبيض وأسود، كانت قوانين الدولة يخضع لها الحكام والمحكومون على حد سواء، ليس لمجرد كونها قوانين ولكن لكونها أحكاماً شرعية أتت بوحي من الله يلتزم بها الراعي والرعية، ولم يكن فيها حكم واحد من غير الإسلام، ولن نضرب مثالا من عدل عمر رضي الله عنه ولن نتكلم عن ابن القبطي بل سنتكلم عن السلطان الفاتح الذي دك أسوار القسطنطينية ووقوفه أمام القاضي مع مهندس رومي قطع يده وكيف أمر القاضي بقطع يد السلطان إلا أن الرومي تنازل طمعا في الدية والتي جعلها القاضي 10 قطع نقدية في اليوم باقي عمره، وواقعة مدينة سمرقند وخروج جيش المسلمين منها نزولا على حكم القاضي تشهد للإسلام وعدله، فدولة الإسلام دولة عدل يخشاها الفساد والمفسدون لأنها تخضع لأحكام الله لا لأهواء البشر، ولا يعيبها أبدا ما حدث في فترات منها من إساءة لتطبيق الإسلام، فلم ولن يستوي أبدا إساءة تطبيق الإسلام مع إحسان تطبيق غيره من النظم؛ لأن تطبيق غيره من النظم هو الظلم بعينه مهما أحسنوا التطبيق.

يا أهل الكنانة: إن الإسلام بنظامه الذي سماه لنا خلافة على منهاج النبوة هو ضمانة تحقيق ما تطمحون إليه من تغيير ليس للكنانة وحدها بل للأمة كلها، فلن تنعتق البلاد من التبعية للغرب ولن تخلع أذنابه القابعين على عروشها ما لم تحمل هذا النظام البديل لأنظمته المهترئة التي ترسخ لبقائه مهيمنا ناهبا لثروات الأمة، وحزب التحرير لكم ناصح أمين يحمل هذا النظام ويسعى بينكم ومعكم لتحقيقه، فتكون ثورتكم مبدئية تحمل الإسلام وتسعى لكي يصبح واقعا عمليا مطبقا فلا يجرؤ المسوخ على حرفها عن غايتها ولا على سرقة دماء شهدائها كما حدث في السابق، فلا عز لكم ولا كرامة إلا بهذا، ولن تنجح ثورتكم وتحقق كل ما خرجتم من أجله إلا بحمل الإسلام ونظامه، ولن تروا عيشا كريما إلا بتحقيقه، والبذل في سبيله، فالصراع بينكم وبين الغرب حينها سيكون داميا فلا تجزعوا، فما ترجونه يستحق ما يبذل في سبيله وأكثر، وفوق ذلك فربكم لكم ناصر ومعين وتنتظركم الجنة ونعيمها المقيم فيا نعم البيع وما أربحها من تجارة حين تكون مع الله.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست